Email


احمد فراز: رومان کی علامت، مزاحمت کا استعارہ

خرم سہیل

حروف بھی اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں، کسی پر نچھاور ہوجایا کرتے ہیں اور کسی کی ریاضت کا خیال بھی نہیں رہتا۔ وہ خوش نصیب تخلیق کار ہوتے ہیں، جن کے لیے حروف، معنی و متن کے لیے اپنی تاثیر وقف کردیتے ہیں۔ احمد فراز ایسے ہی واحد متکلم شاعر تھے، جن کے ہاں رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک، معنویت کے کئی در وا ہوتے تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔

سفرِ شوق ہو یا منزلِ غم

کوئی ہنگامہ اُٹھا کر گزرو

ایک پل ٹھہرو بگولوں کی طرح

اور پھر خاک اُڑا کر گزرو

سنہرے جذبات کی روشنائی سے لکھے ہوئے مضامین عاشقی ہوں یا جبر کی قوتوں کے خلاف گونج دار آواز، وہ ہر آزمائش میں نبرد آزما دکھائی دیتے ہیں۔ عہدِ حاضر کے شعری منظرنامے پر، اُن کے کنندہ حروف، پوری آب و تاب سے چمک رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں، حسین چہروں کے دل کی بات کرنے والے شاعر کے طور پر بھی مقبولیت اُن کے حصے میں آئی اور اُس کا وہ خوب اظہار بھی کرتے تھے۔

احمد فراز۔
احمد فراز۔

وہ ایک ایسے شاعر کی وضع قطع رکھتے تھے، جس کے ہاں زندگی خوبصورت طور سے، عمدہ لباس زیب تن کیے، پورے اعتماد کے ساتھ روبرو ہوا کرتی تھی۔ یہی جمالیات اُن کی تخلیقی زندگی کا خاصا تھی، وہ اپنی حقیقی زندگی میں بھی اُس پر کار بند رہے۔

احمریں جسم آنچ دیتا ہوا

جس طرح پیرہن سلگتا ہے


تم اپنی شمع تمنا کو رو رہے ہو فراز

ان آندھیوں میں تو پیارے چراغ سب کے گئے

احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا، وہ 12 جنوری 1931ء میں پیدا ہوئے۔ شاعری کا فن وراثت میں والد سے ملا۔ اُن کے والد سید محمد شاہ برق کو فارسی کے ممتاز شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے ادبی ذوق کی آبیاری کس طرح ہو رہی تھی۔ ایک طرف تو وہ اپنی مادری زبان پشتو کے ادب سے واقفیت حاصل کر رہے تھے، دوسری طرف اُنہیں اردو شعر و ادب سے شناسائی ہوئی، فارسی اور انگریزی نے اُن کے ذوق میں چمک بڑھا دی، یوں یہ چار زبانوں سے آراستہ ہوکر اپنی منفرد شعری سمت تلاش کرنے میں محو ہو چلے۔

پڑھیے: سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

بات یہی تک محدود نہ رہی، حروف کی تفہیم اُنہیں لکھنے کی طرف لے آئی۔ ابتدائی طور پر اُن کی وابستگی ریڈیو پاکستان، پشاور مرکز سے ہوئی، جہاں یہ مسودہ نگار تھے۔ یہی وہ پگڈنڈی تھی، جس کے ذریعے، اُنہیں شعریات کی منزل کو جانے والا راستہ دریافت ہوا۔ اِس مسافت میں، جامعہ پشاور سے بطور لیکچرار جُڑے، پاکستان نیشنل سینٹر پشاور کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ہوئے، اکادمی ادبیات، اسلام آباد کے اولین ڈائریکٹر جنرل ہونے کے بعد، لوک ورثہ اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔

ایک شعر جسے احمد فراز نے خود قلمبند کیا۔
ایک شعر جسے احمد فراز نے خود قلمبند کیا۔

اردو دنیا کا منچ، پنڈال میں بیٹھے سامعین پر، زندگی بھر اُن کے شعری لطف کا اثر رہا۔ نوجوان شعراء مائل بہ کرم رہے، اُن کے لکھے ہوئے شعر، دلوں کی دھڑکن بنے، نظمیں آنکھوں کے خواب اور غزلیں دل کا بیان ٹھہریں۔ عاشقی کا قبیلہ اور محبت کی داستانیں ادبی وطیرہ ثابت ہوا۔ گائیکی کی دنیا میں بھی اُن کی شاعری کو بامِ عروج ملا۔

رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

پشاور میں گزارے ہوئے دنوں میں احمد فراز نے خود کو تلاش کرنے کی ابتداء کی۔ فیض احمد فیض سے متاثر رہے۔ شاعری کے دھیمے سُروں پر، رومان کے راگوں میں تعلقات کی تانیں بھی لگائیں۔ رومانوی شاعری کے منظرنامے پر خوب چرچا ہوا، خود بھی دلِ بے قرار کے ہاتھوں خاصے پریشاں رہے۔ یہ اُن کی ذات کا ایک پہلو تھا، مگر دوسری طرف اُن کا فکری پہلو تھا، جس کے تحت، انہوں نے سماج کی قیود سے بغاوت کی، آمریت کے خلاف عملی جدوجہد کی۔

ضیاءالحق کے دور میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی، لندن کی سڑکوں پر، وطن کے گلی کوچے یاد کرتے رہے۔ پرویز مشرف کے دور میں ملنے والے سرکاری اعزاز ’ہلال امتیاز‘ کو بھی واپس کردیا۔ حق بات کہنے میں کبھی پسپائی اختیار نہ کی۔ اُنہیں ملنے والے دیگر اعزازات میں آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ، ستارہ امتیاز شامل ہیں۔ جامعہ کراچی نے اُنہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی سند بھی عطا کی تھی۔

پشاور میں گزارے ہوئے دنوں میں احمد فراز نے خود کو تلاش کرنے کی ابتداء کی۔ فیض احمد فیض سے متاثر رہے۔
پشاور میں گزارے ہوئے دنوں میں احمد فراز نے خود کو تلاش کرنے کی ابتداء کی۔ فیض احمد فیض سے متاثر رہے۔

ریڈیو پاکستان، پشاور مرکز کے دنوں میں اُن کے قریبی دوستوں میں، دو معروف شعراء خاطر غزنوی اور محسن احسان تھے۔ مجھے ایک انٹرویو میں محسن احسان نے بتایا کہ

’میرے والد کی فرنیچر کی دکان تھی، اسکول کے بعد اُس دکان پر جاکر بیٹھا کرتا تھا، ایک مرتبہ میری عمر کا لڑکا کچھ سامان مرمت کروانے کے لیے آیا، میری اُس سے گپ شپ ہوگئی، وہ میرا ہم عمر لڑکا احمد فراز تھا۔ یہ شناسائی پھر دوستی میں بدل گئی۔ ہم نے اُسی دکان پر بیٹھ کر، فراغت کے لمحات میں شاعری کی ابتداء کی۔ میں نے اپنا تخلص احسان نیّر رکھا جبکہ فراز کا تخلص شرر برقی تھا، ہماری دکان قصہ خوانی بازار کے قریب تھی، وہاں دائرہ ادبیہ کے زیرِ اہتمام ایک ادبی بیٹھک ہوا کرتی تھی جس میں شہر بھر کے معروف شعراء اور دیب شریک ہوا کرتے تھے۔ اُن دنوں احمد ندیم قاسمی، ن م راشد اور عزیز حامد مدنی بھی پشاور ریڈیو میں تھے، اِن سب کی صحبت میں مجھے اور فراز کو ادبی ذوق نکھارنے کا موقع ملا۔‘

پڑھیے: عہدِ حاضر میں جدید اردو غزل کے والی

احمد فراز کے 14 مجموعہ ہائے کلام میں ’تنہا تنہا‘، ’درد آشوب‘، ’نایافت‘، ’شبِّ خون‘، ’مرے خواب ریزہ ریزہ‘، ’جاناں جاناں‘، ’بے آواز گلی کوچوں میں‘، ’نابینا شہر میں آئینہ‘، ’سب آوازیں میری ہیں‘، ’پس انداز موسم‘، ’بودلک‘، ’غزل بہانہ کروں‘ اور ’اے عشق جنوں پیشہ‘ شامل ہیں۔ اُن کے کلام کی کلیات بھی ’شہرِ سخن آراستہ ہے‘ کے عنوان سے دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد نے شایع کی ہے، جس کے ڈیڑھ ہزار سے زائد صفحات پر احمد فراز کے احساسات کی کہکشاں یکجا ہے۔

اِس کلیات کے دیباچے میں بعنوان ’حرف محبت‘ لکھتے ہیں کہ

’مجھے اپنے بارے میں یا اپنی شاعری کے بارے میں نہ کوئی زعم ہے نہ دعویٰ ہے۔ ایک بات ضرور ہے، میرے پڑھنے والوں نے مجھے ہمیشہ محبت دی۔ میں جب موجودہ کلیات کی ضخامت دیکھتا ہوں، تو مجھے خود حیرت ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ میں نے کیسے لکھ لیا۔ اچھی بُری کی بحث تو الگ ہے۔ ہوسکتا ہے اِن میں کچھ تخلیقات وقت کے موسموں کے اثرات سے مرجھا گئی ہوں، مگر مجموعی طور پر کئی مضامینِ دل و دنیا اب بھی تازہ تر لگتے ہیں۔‘

اِس کلیات کو پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُنہوں نے کس قدر لطیف احساسات کی پیوندکاری کا باریک کام کیا ہے۔

احمد فراز نے پرویز مشرف کے دور میں ملنے والے سرکاری اعزاز ’ہلال امتیاز‘ کو بھی واپس کردیا۔
احمد فراز نے پرویز مشرف کے دور میں ملنے والے سرکاری اعزاز ’ہلال امتیاز‘ کو بھی واپس کردیا۔

رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی

رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے


اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دکھ نہیں

پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تُو کرے

شاعری کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ شاعر کی حقیقی مقبولیت اُس کی زندگی میں نہیں ملتی بلکہ کئی دہائیوں کے بعد اُس کے فن کو دریافت کیا جاتا ہے اور اُس کے تخلیقی معیار کو پرکھا جاتا ہے۔ احمد فراز چند خوش قسمت شعراء میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنی مقبولیت زندگی میں ہی دیکھ لی۔

گزشتہ دنوں شعراء کی ایک محفل میں نوجوان نسل کا اُبھرتا ہوا ایک شاعر اِس بات کا دعویٰ کر رہا تھا کہ احمد فراز کی شاعری کا جادو مانند پڑنے لگا ہے، جس پر امجد اسلام امجد اُسے سمجھا رہے تھے کہ

’ایسی کوئی بات نہیں ہے، احمد فراز کی شاعری پوری آب و تاب کے ساتھ مقبولیت کا سفر طے کر رہی ہے۔‘

احمد فراز چند خوش قسمت شعراء میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنی مقبولیت زندگی میں ہی دیکھ لی۔، فیض احمد فیض، احمد فراز، زہرا نگاہ اور گوپی چند نارنگ کی ایک نایاب تصویر—تصویر فیض گھر آرکائیوز
احمد فراز چند خوش قسمت شعراء میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنی مقبولیت زندگی میں ہی دیکھ لی۔، فیض احمد فیض، احمد فراز، زہرا نگاہ اور گوپی چند نارنگ کی ایک نایاب تصویر—تصویر فیض گھر آرکائیوز

حتمی فیصلہ وقت کردے گا، کس چراغ میں دم ہے، وہ ہی روشن رہے گا۔ ماضی میں احمد ندیم قاسمی نے تحریری طور پر احمد فراز کے روشن شعری مستقبل کی ضمانت دی، وقت جس کو ثابت بھی کر رہا ہے۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

آمریت کے سائے کو، فراز نے اپنے حروف کی روشنی سے بجھا دیا۔ کہیں محاصرہ کیا، تو کہیں نظر بھر کے دیکھا، کبھی کسی شہر میں رکنے کی خواہش ظاہر کی اور کہیں تجدیدِ وفا کے امکاں کو یاد دلانے کا لمحہ متحرک کیا۔ احمد فراز کی شاعری میں زندگی بولتی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں ایک زندہ شخص تھے۔ آج جنم دن کے موقع پر اُن کی شاعری کو پڑھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے، وہ پھر سے ہمارے درمیان آن وارد ہوئے ہیں۔

اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں

میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں

اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

اُن کی شاعری صرف تخلیق کا سر چشمہ ہی نہیں، زندگی کا وہ بیان بھی ہے، جس کے رنگ گہرے، دلکش اور بھرپور ہیں، جن کو کسی چہرے کی مسکان میں دیکھا جاسکتا ہے یا کسی حسینہ کے ملبوس میں اور کہیں، اُن کے حروف میں دُکھ کا دھواں بھی اُٹھتا ہے، جس میں دل راکھ ہوجاتا ہے۔ اُنہوں نے کمال مہارت سے اپنی ذات کے دونوں گوشوں کو متوازن رکھتے ہوئے زندگی گزاری۔ وہ صرف نام کے ہی فراز نہیں تھے، بلکہ آزمائشوں کے کئی نشیب طے کرکے سرفراز ہوئے، درج ذیل نظم پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہم سے اب بھی مخاطب ہیں کہ ۔۔۔

خواب مرتے نہیں

خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو

ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے

جسم کی موت سے یہ بھی مرجائیں گے

خواب مرتے نہیں

خواب تو روشنی ہیں نوا ہیں ہوا ہیں

جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں ظلم کے دوزخوں سے بھی پھکتے نہیں

روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلم

مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں

خواب تو حروف ہیں

خواب تو نور ہیں

خواب سقراط ہیں

خواب منصور ہیں


بلاگر فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔