پاکستان پر آخر پاکستانی پیسہ خرچ کب کریں گے؟

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2018

ای میل

یہ اب کسی کے لیے بھی 'خبر' نہیں ہے کہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ کراچی، لاہور یا پشاور کی سڑکوں پر ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ بچے بھیک مانگتے اور ان گاڑیوں کو چمٹتے نظر آتے ہیں، جن کی قیمتوں جتنا پیسہ وہ ساری زندگی میں کبھی نہیں دیکھیں گے۔

نوجوان مرد و خواتین ان ڈگریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جن کے اخراجات والدین نے انتہائی مشکل سے ادا تو کردیے مگر ان ڈگریوں سے نوکریاں نہیں مل رہیں۔ یہ نوجوان خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اپنی دیکھ بھال کے لیے اکیلے رہ جانے والے بڑی عمر کے لوگ یا تو بھوک سے مرجاتے ہیں یا پھر ان کی جمع پونجیاں ختم ہوچکی ہوتی ہیں، اور بس ان کے جسم ہی زندہ رہ گئے ہوتے ہیں۔

ان حقائق کو دیکھیں تو یہ حقیقت زیادہ حیران کن نہیں ہے کہ دنیا مزید عدم مساوات کی طرف جا رہی ہے اور یہ کہ اس کے ثبوت میں اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔ مگر غیر سرکاری تنظیم آکسفیم (Oxfam) کے جاری کردہ اعداد و شمار تو خاص طور پر پریشان کن ہیں۔ تنظیم کے مطابق دنیا کی آدھی آبادی، یعنی 3.7 ارب لوگوں نے گزشتہ سال پیدا ہونے والی پوری دولت میں سے ایک دھیلا بھی نہیں دیکھا۔

مگر سجے سنورے اور سنہرے رخ کو دیکھیں تو دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد نے گزشتہ سال پیدا ہونے والی تمام دولت کا 82 فیصد حصہ حاصل کیا۔ اس ایک فیصد میں سے بھی صرف ایشیاء کے اندر 122 نئے ارب پتی بنے، جن کی اجتماعی قدر میں 404 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ حیران کن طور پر اس میں سے زیادہ تر ہندوستان اور چین میں تھے، جہاں 3 تہائی دولت ملک کے ایک فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں گئی اور 50 فیصد لوگوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ عدم مساوات کے اعداد و شمار پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے بھی اتنے ہی پریشان کن ہیں۔ پاکستان کے امیر ترین 20 فیصد لوگوں نے غریب ترین 20 فیصد لوگوں کے مقابلے میں وسائل کا 7 گنا زیادہ استعمال کیا۔

پڑھیے: 6 کروڑ غریبوں کے ٹیکس چور سیاستدان

دنیا کے امیروں اور غریبوں کے بیچ اس بڑھتے ہوئے خلیج کے درمیان ہی عالمی رہنما سوئٹزرلینڈ کے قصبے ڈیووس میں ملیں گے۔ ان میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وزیرِ اعظم عباسی عالمی رہنماؤں اور دولت مند کاروباری شخصیات کو 'پاکستان میں سرمایہ کاری' کرنے کی ترغیب دیں گے۔ ترغیب ممکنہ طور پر پاکستان میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ دے گی تاکہ گزشتہ کئی سالوں میں ترقی پانے والی صنعتوں، مثلاً گارمنٹس میں سرمایہ کاری بڑھائی جاسکے۔

اس پیسے کی طرح جو ملک کی نچلی نصف آبادی کبھی نہیں دیکھ پاتی، وزیرِ اعظم کی کوششوں کے ثمرات بھی وہ چیز ہے جو تمام پاکستانیوں تک نہیں پہنچے گی۔ آکسفیم کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وِنی بیانیما کے مطابق

’جو لوگ ہمارے کپڑے بناتے ہیں، ہمارے فونز تیار کرتے ہیں، ہمارا کھانا اگاتے ہیں، ان کا استحصال کچھ یوں کیا جارہا ہے کہ اُن پر سستے دام پر مسلسل فراہمی کا دباو ہے، اور یہ دباو کارپوریشنز اور ارب پتی سرمایہ کاروں کے منافعوں میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہی ہے۔‘

اس طرح کے مزدوروں کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں رہتا ہے اور اگر وزیرِ اعظم کی کوششوں سے کوئی اشارہ ملتا ہے، تو وہ واقعتاً یہ ہے کہ مستقبل کا منصوبہ ملک میں ایسی مزید نوکریاں پیدا کرنے کا ہے۔

مثال کے طور پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 37.4 فیصد گارمنٹ مزدوروں کو قانون کے تحت متعین کردہ کم از کم اجرت بھی نہیں ملتی، اور انہیں اکثر غیر انسانی حالات میں وقفوں اور تازہ ہوا کے بغیر کام کرنا پڑتا ہے۔

ان میں سے کچھ بھی راز نہیں ہے۔ غیر مناسب طور پر تعمیر شدہ عمارتوں میں خوفناک آگ بھڑکنا، کم اجرت پر کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین سے کھچاکھچ بھری فیکٹریاں، یہ سب عارضی طور پر میڈیا کی توجہ حاصل کرتا ہے اور پھر چھپ جاتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانا کوئی بُری بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زیادہ سرمایہ کاری سے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ مگر اہم مسئلہ، جسے بار بار نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی اصلاحات، بالخصوص ٹیکس کے شعبے میں فوری اور شدید اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔

مذکورہ سرمایہ کاری پاکستان لانے کے لیے ممکنہ طور پر حکومت کارپوریٹ ٹیکس شرح اور کم کرے گی۔ یہ ریٹ 2013ء میں 35 فیصد تھا اور 2018ء میں توقعات کے مطابق 30 فیصد ہوجائے گا۔ جب اس کم ٹیکس شرح کو پاکستان کے پہلے ہی موشگافیوں سے بھرپور ٹیکس نظام کے تحت اکھٹا کیا جائے گا جہاں امیر لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے، تو آپ کے پاس استحصالی نوکریاں پیدا ہوں گی جس سے ملک کے غریب مزید پس جائیں گے۔

مزید پڑھیے: ایوب دور کی وہ باتیں جو ہمیں نہیں بتائی جاتیں

ان حقائق کو سامنے رکھیں تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی ضرورت غیر ملکیوں کو نہیں بلکہ خود پاکستانیوں کو ہے۔ اس وقت پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار اور ٹیکس محصولات میں 9.8 فیصد کا فرق ہے، جو کہ مالی سال 2017-2016 کے بجٹ کا 64 فیصد ہے۔ امیر افراد ٹیکس بچانے میں ماہر ہیں اور غیر ملکی کارپوریشنز بھی ان وعدوں کے ذریعے لبھائی جا رہی ہیں کہ انہیں ٹیکس ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔

ہر روز اونچی دیواروں والے نئے بنگلے تعمیر ہوتے ہیں تاکہ غریبوں کی نظروں سے بچ کر اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ پُرتعیش دعوتیں اُڑائی جاسکیں۔ مقدس مہینوں یا مشکل حالات میں یہ امیر لوگ اپنے محفوظ ٹھکانوں سے باہر نکلتے ہیں اور تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد کے سامنے غریبوں میں خیرات تقسیم کرتے ہیں۔

عید الاضحیٰ پر کئی جانور قربان کیے جاتے ہیں، رمضان میں کچھ گھرانوں کا راشن باندھ کر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس سب سے ان اصل گناہوں کا ازالہ ہوجائے گا جن کی کہانی رپورٹ کے اعداد و شمار کی صورت میں موجود ہے، یعنی یہ حقائق کہ ٹیکس کبھی ادا نہیں کیے جاتے اور فیکٹریوں اور آفسوں کے بند دروازوں کے پیچھے غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

آکسفیم رپورٹ کو دیکھنے والے شاید اس نتیجے پر پہنچیں کہ چین اور ہندوستان میں مساوات کی سطح قابلِ موازنہ ہے۔ مگر نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ ہندوستان اور چین مسلمان ممالک نہیں ہیں اور مذہبی طبقہ اور مبصرین ہمیں اکثر یاد دلاتے ہیں کہ مسلم ہونے کا ناطے عدم مساوات کے خاتمے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

یہ ذمہ داری اکثر حقیقی عمل میں نہیں تبدیل ہوتی یا پھر یہ صرف عوام کے سامنے ایک بھکاری بچے کو چند نوٹ دینے اور دیواروں کے پیچھے غریب مزدوروں کا حق مارنے تک محدود رہتی ہے۔

وزیرِ اعظم کو ڈیووس میں غیر ملکیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب ضرور دینی چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستانیوں کو بھی پاکستان پر پیسہ خرچ کرنے کا کہنا چاہیے۔

انگلش میں پڑھیں۔