کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے ایک کوچنگ سینٹر میں 7 سالہ بچے کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔

نیو ٹاؤن پولیس حکام کے مطابق لڑکے کی لاش نیشنل اسٹیڈیم کے قریب کوچنگ سینٹر کی عمارت سے ملی۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ لاش کو سول ہسپتال کراچی میں پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردیا گیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباس کا کہنا تھا کہ لڑکے کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کیس: عدالت میں ڈی جی فرانزک اور پولیس کی رپورٹ پیش

نیو ٹاؤن پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بچے کے والد عبدالستار شاہ اس ہی کوچنگ سینٹر میں ایک گارڈ کی حیثیت سے ملازمت کرتے ہیں اور سینٹر کے ملازم خانے میں رہائش پذیر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ والد نے دوپہر ساڑھے 12 بجے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کا بچہ لاپتہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس معاملے پر تحقیقات کر رہی ہے جس کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 2018 کے آغاز سے اب تک پاکستان میں ریپ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں قصور میں زینب انصاری کے بے رحمانہ قتل کے بعد ملک میں زینب کو انصاف دو کے نام سے ایک نئی احتجاجی لہر کا آغاز ہوا تھا۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کے خاتمے کے لیے اس احتجاجی لہر میں ملک بھر میں مظاہرے دیکھے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اغوا، ریپ اور قتل کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے‘

جنوری ہی کے مہینے راولپنڈی کے رزاق ٹاؤن میں 15 سالہ بچے کو غیر قانونی طور پر قید اور جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پنجاب کے ضلع سرگودھا میں با اثر خاندان سے تعلق رکھنے والے دو افراد پر مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کے بعد زہر دے کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں اس ہی مہینے کے آخر میں شیرا کوٹ میں 8 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا۔

قتل کیے گئے بچے کی لاش اس کے گھر سے تقریباً آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر ایک زیر تعمیر عمارت سے ملی تھی جس کی نشاندہی ایک مقامی کی جانب سے کی گئی تھی۔