خطے کا امن و سلامتی کا راستہ افغانستان سے گزرتاہے، آرمی چیف

اپ ڈیٹ 13 فروری 2018

Email


چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں خطے کے تمام ممالک کے فوجی سربراہان نے شرکت کی—فوٹو:آئی ایس پی آر
چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں خطے کے تمام ممالک کے فوجی سربراہان نے شرکت کی—فوٹو:آئی ایس پی آر

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے امن اور سلامتی کا راستہ افغانستان سے ہوکر گزرتا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں ہونے والی چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے ملکوں کے انفرادی طور پر نہیں بلکہ مشترکہ طور پر کاوشوں سے ترقی یافتہ بن جاتے ہیں۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی ہر طرح کی پناہ گاہوں کو ختم کردیا ہے تاہم دہشت گردوں کی موجودگی کے نشانات ملتے ہیں جو 27 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موثر سیکیورٹی ہم آہنگی نہ ہونے اور افغان مہاجرین کی موجودگی کا دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جاری آپریشن ردالفساد کے باعث ان کا سراغ لگایا جارہا ہے اور انھیں نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے شرکا کو یقین دلایا کہ پاکستانی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستان اسی طرح کی توقع دوسروں سے بھی رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ کاوشیں ہی تمام چیلنجز کا جواب ہے جس کے لیے پاکستان اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

کانفرنس میں پاک آرمی کے سربراہ کے علاوہ کمانڈر یوایس سینٹکام، کمانڈر ریسولٹ سپورٹ مشن (آر ایس ایم) اور افغانستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے آرمی چیف بھی شریک تھے۔

کانفرنس کا اختتام خطے میں امن واستحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔