پاکستان کو دہشت گردوں کی ‘واچ لسٹ’ میں ڈالنے کی تیاریاں

اپ ڈیٹ 17 فروری 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ قوانین میں سختی اور انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ‘غیر موثر حکمت عملی’ ہونے کی وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں امریکا، پاکستان کو عالمی دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ہونے والی ریاست کی فہرست میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف امریکی قرارداد کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ اگلے ہفتے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں قرارداد پیش کی جائےگی جس میں پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کیا جائےگا۔

یہ پڑھیں: اقوام متحدہ کے نامزد ’دہشت گرد‘ اب پاکستان میں بھی قابل گرفت

واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک عالمی ادارہ ہے جو جی سیون (G-7) ممالک کے ایما پر بنایا گیا کہ جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی نگرانی کرتا ہے تاہم پاکستان اس ادارے کا براہِ راست رکن نہیں ہے۔

مذکورہ غیر سرکاری ادارہ کسی ملک پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات نہیں رکھتا لیکن گرے اور بلیک کیٹیگری واضع کرتا ہے۔

انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف قابل قدر اقدامات کی صورت میں اس ملک کو گرے کیٹیگری میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ کسی ملک کی جانب سے منی لانڈرنگ کے خلاف کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تو اُسے بلیک کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر زرِمبادلہ کی نقل و حرکت اور ترسیل میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

کیا امریکا نے قرارداد ایف اے ٹی ایف میں داخل کردی ہے؟ اس سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ اس امر کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتیں کیونکہ ایف اے ٹی ایف کے امور انتہائی ‘نجی’ نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن یہ واضح کروں کہ عالمی ممالک پاکستان کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت الدعوۃ کے مدارس، صحت مراکز کا انتظام حکومت نے سنبھال لیا

انہوں نے بتایا کہ ‘بنیادی طور پر عالمی کمیونٹی کو حکومت پاکستان میں جاری منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سمیت دیگر مذموم سرگرمیوں سے متعلق غیر موثر اقدامات پر طویل عرصےسے سخت تحفظات ہیں’۔

پریس بریفنگ کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے انسداد دہشت گردی کے نئے قانون سے متلعق کیا رائے ہے؟ جس پر انہوں نے واضح کیا کہ ‘انہیں مذکورہ قانون کے بارے میں معلومات نہیں ہے’۔

خیال رہے کہ صدر ممنون حسین کی جانب سے انسدادِ دہشت کردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کردیا گیا جس کے مطابق اب اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (یو این ایس سی) کی فہرست میں شامل کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں اور مطلوب افراد کے خلاف پاکستان میں بھی کارروائی کی جاسکے گی۔

مزید پڑھیں: امریکا نے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کرلیں

امریکی میڈیا کے مطابق 15 فروری کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو درجن بھر عالمی دہشت گردوں پر مشتمل فہرست فراہم کی ہے لیکن اس فہرست میں دہشت گردوں کی ‘لوکیشن’ واضح نہیں ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ‘چونکہ فہرست میں لوکیشن واضح نہیں اس لیے پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے’۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیاکہ اسلام آباد کی جانب سے گزشتہ ماہ کے اوائل میں سی آئی اے چیف مائیک پومپیو سے ملاقات کی درخواست کی گئی تاکہ انٹیلی جنسی معلومات کے تبادلے پر بات چیت ہو سکے۔

تاہم سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو نے ملاقات سے انکار کردیا۔

دوسری جانب اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ ‘امریکا پاکستان کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم ایف آئی ایف کے خلاف کارروائی خوش آئند سمجھتا ہے۔

اس حوالے سے پڑھیں: ’نائن الیون حملوں میں ملوث‘ فرانسیسی شہری عدالت میں پیش

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو ابھی پاکستانی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی مزید تفصیلات درکار ہیں جس میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان گروپوں کے خلاف کس طرح کے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں، جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ایف اے ٹی ایف میں پیش کی جانے والی قرارداد میں رکن ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی واچ لیسٹ کیٹیگری میں شامل ملک کے اثاثے منجمد کردے اور اپنے ملک سے آمد جامد کا سلسلہ بھی ختم کردے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک القاعدہ، اسلامہ بن لادن اور طالبان کے ساتھ منسلک کسی بھی فرد یا ادارے کے لیے براہ راست یا غیر مستقیم سپلائی، فروخت یا عسکری ساز و سامان کی فراہمی روک دی جائے ۔


یہ خبر 17 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی