امریکا نے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کرلیں

اپ ڈیٹ 15 فروری 2018

ای میل

امریکا نے حکومتِ پاکستان سے اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) سمیت دیگر بلیک لسٹ کیے گئے گروپس کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کر لیں۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم ایف آئی ایف کے خلاف کارروائی خوش آئند ہے۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف کا پیرس میں 18 فروری سے 23 فروری تک اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکامی کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی امریکی قراردار بھی زیر غور آئے گی۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو ابھی پاکستانی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی مزید تفصیلات درکار ہیں جس میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان گروپوں کے خلاف کس طرح کے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں، جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے بعد حکومتِ پنجاب نے عمل درآمد کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاح انسانی فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو قبضے میں لینا شروع کردیا۔

پنجاب حکومت نے جماعت الدعوۃ کے مرکز مرید کے میں کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود ایف آئی ایف کے زیر انتظام مخلتف مدارس، اسکولوں اور صحت کے مراکز پر مشتمل منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا کنٹرول اپنے قبضے میں لے لیا۔

اسی طرح کی کارروائیوں کی رپورٹس صوبے کے دیگر شہروں سے بھی موصول ہوئیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔

خیال رہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت عمل میں آئیں جب صدر ممنون حسین کی جانب سے انسدادِ دہشت کردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کردیا گیا جس کے مطابق اب اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (یو این ایس سی) کی فہرست میں شامل کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں اور مطلوب افراد کے خلاف پاکستان میں بھی کارروائی کی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت الدعوۃ کے مدارس، صحت مراکز کا انتظام حکومت نے سنبھال لیا

یہ اقدامات منی لانڈرنگ کے غیر سرکاری نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے جامع اجلاس کے پس منظر میں کی گئی ہے جو پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی امریکی قرارداد پر غور کر رہا ہے۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کہنا تھا کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں یہ بتایا گیا ہے کہ جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف اب ملک میں مزید کام نہیں کر سکتیں جبکہ ان کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔

خیال رہے کہ روں ماہ 10 فروری کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے قانونی نوٹیفکیشن (ایس آر او) میں حکم دیا گیا تھا کہ جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف سے منسلک تمام منقولہ اور غیرمنقولہ جائیدادوں کو ضبط کر لیا جائے۔

ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن کے بعد صوبے میں جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف کے تمام اسکولوں مدارس اور صحت کے مراکز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے نامزد ’دہشت گرد‘ اب پاکستان میں بھی قابل گرفت

انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف سرکاری محکموں کے منتظمیں کو ان مدارس، اسکولوں اور صحت کے مراکز کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مساجد بھی جماعت الدعوۃ کے کنٹرول میں رہیں گی یا پھر ان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب ایک حکومتی حکام نے بتایا کہ محکمہ اوقاف کے حکام ایک مخصوص مدت تک جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف کے مدارس اور اسکولوں کی دیکھ بھال کریں گے جبکہ ان کے خطیب تبدیل نہیں کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مساجد اور دیگر مقامات پر چندہ جمع کرنے کے لیے لگائے گئے تمام باکسز کو ہٹادیا گیا جبکہ ایف آئی ایف کے زیر استعمال ایمبولینسز کو پنجاب کی ریسکیو 1122 کے حوالے کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: جماعت الدعوۃ سمیت دیگر تنظیموں پر عطیات جمع کرنے پر پابندی

اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ایف آئی ایف کے تین صحت کے مراکز کا کنٹرول حکومت نے سنبھال لیا ہے اور یہاں پر موجود ایمبولینسز کو ریڈ کریسنٹ کے حوالے کردیا گیا۔

دوسری جانب جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحیٰ مجاہد نے حکومتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کی اور اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔

جماعت الدعوۃ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان الزام عائد کیا گیا کہ حکومت ان کے تعلیمی اداروں، ایمبولینسز، صحت کے مراکز اور دیگر املاک کو امریکا اور بھارت کو خوش کرنے کے لیے ضبط کر رہی ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکومتی اقدام نے ایف آئی ایف کی جانب سے صوبہ بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں جاری فلاحی کاموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس کو جماعت الدعوۃ پر ’نظر‘ رکھنے کی ہدایت

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے سربراہ حافظ محمد سعید کو گزشتہ برس بغیر کسی وجہ کے قید رکھا گیا اور اس سال پورے میں جماعت الدعوۃ کے فلاحی کاموں کو بند کرکے ہزاروں غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کو نقصان پنچایا جارہا ہے۔


یہ خبر 15 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی