خوشیاں بکھیرنے والے ’زکوٹا‘ بھی اپنے غم لیے خاموش ہوگئے

اپ ڈیٹ 17 فروری 2018

ای میل

بچپن کی سہانی یادوں کا بھی کیا کہیے جناب، اسکول سے گھر آمد ہوتی تو بستہ ایک طرف پھینکا اور جوتے یہ جا اور وہ جا، وردی بدلنے کا بھی تکلف نہ ہوتا، بس اپنی معصومانہ آنکھیں ٹی وی کی اسکرین پر گڑائے بیٹھ جاتے کہ ہمارا پسندیدہ ڈرامہ ’عینک والا جن‘ نشر ہونے والا ہے۔

ہمارے دوست عمران، معطر اور عینک والے جن سے ہمیشہ ملاقات ٹی وی اسکرین پر ہی ہوسکی۔ طلسماتی طاقت کے حامل جنوں اور پریوں کے قصوں سے بھرپور اس سحر انگیز ڈرامہ سیریز کو پاکستان میں جتنی مقبولیت حاصل ہوئی، اتنی مقبولیت شاید ہی کسی ڈرامے کے حصے میں آئی ہو۔

محدود وسائل کے ساتھ پیش کیا جانے والا یہ ڈرامہ، ’ہامون جادوگر‘، ’زکوٹا‘ اور ’بل بتوڑی‘ کے گرد گھومتا اور اُن کا جادو دیکھ کر کچے ذہنوں میں گمان ہوتا کہ ضرور کہیں نہ کہیں حقیقی دنیا میں بھی طلسماتی دنیا آباد ہے یہ لوگ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہیں۔ رات کو بستر پر نیند کی آغوش میں چلے جانے تک یہی خیال رہتا کہ ایک دن ضرور ان کرداروں سے ملاقات ہوگی اور میں بھی انہیں اپنے سامنے جادو کرتا دیکھ پاؤں گا۔ بلاشبہ نیک و بدی کی جنگ کا یہ عکاس ڈرامہ بلاتفریق سب بچوں کا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا۔

عینک والا جن 90ء کی دہائی کے بچوں میں یکساں طور پر آج بھی مقبول ہے۔ مگر وقت بدلا، ہم نے بچپن کو خیرباد کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے چینلوں کی بھرمار نے ٹی وی اسکرینز پر قبضہ جمالیا، مگر ایسا کوئی ڈرامہ دوبارہ نظر نہیں آیا۔ پھر ہم بھی ان چینلوں اور انٹرنیٹ پر موجود مختلف پروگرامات کے ذریعے انٹرٹیمنٹ کی پیاس بجھانے لگے، ساتھ ہی بچپن کی حسین یادوں پر اپنے ہی منہ مسکرانے لگے۔

زکوٹا جن (منا لاہوری) اور ہامون جادوگر (حسیب پاشا)—تصویر وائٹ اسٹار
زکوٹا جن (منا لاہوری) اور ہامون جادوگر (حسیب پاشا)—تصویر وائٹ اسٹار

گزشتہ برس عینک والا جن کے کردار ٹی وی پر نظر آئے، خاص طور پر زکوٹا اور بل بتوڑی، ان دونوں کے پاس کوئی طلسم نہیں تھا، دو طاقتور جادوگر ناتواں نظر آئے، ہم جنہیں جادوگروں میں سب سے برتر سمجھے تھے وہ تو دو وقت کی روٹی کو لے کر پریشان تھے۔ بچپن کی معصومیت میں ہم جنہیں دیکھ کر متاثر ہوا کرتے تھے کہ یہ کتنے طاقتور لوگ ہیں، وہی لوگ ہوش سنبھالنے کے بعد ہمیں سب سے کمزور اور قابلِ رحم معلوم ہوئے۔

نیکی اور بدی کا سبق سکھلانے والے ہمارے بچپن کے ہیرو ہمیں بے یارو و مددگار نظر آئے۔ بل بتوڑی جن کا اصل نام نصرت آراء تھا وہ ایک سال قبل فالج میں مبتلا رہ کر جہان فانی سے کوچ کرگئیں اور پھر زکوٹا بھی اسی موذی مرض کی نذر ہوئے اور کل ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ لیکن یہ سب کہنے اور پڑھنے میں جتنا آسان لگ رہا ہے، ویسا ہرگز نہیں۔ یہ دونوں کردار اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک اس امید کو گلے لگائے رکھے کہ شاید کوئی تو اُن کی مدد کو آئے گا، کوئی تو آئے گا جو مشکل وقت میں اُن کا ساتھ دے، مگر نہ ریاست نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا اور نہ میں نے اور آپ نے۔

پڑھیے: 'عینک والا جن' کے زکوٹا جن انتقال کرگئے

ہماری یادوں میں بسے یہ دو اہم کردار حقیقی دنیا سے ہمیشہ کے لیے جاچکے ہیں۔ بچپن کی یادوں کی پوٹلی کھولیں تو ہمارے ذہن کے کسی کونے میں آج بھی زکوٹا کے ’زیبینآر‘ کہنے کی بلند و بانگ آواز گونجتی ہے اور بل بتوڑی کا وہ یادگار جملہ ’بل بتوڑی ناسا توڑی، آدھی میٹھی، آدھی کوڑی، آئی ایم سوری، آئی ایم سوری‘ بھلائے نہیں بھولتا۔

حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث پی ٹی وی کے یہ دو اثاثے کسمپرسی اور علالت میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ لیکن یہ قصہ محض ان دونوں کا تو نہیں ہے، بلکہ ایسے فنکاروں کی ایک طویل فہرست مرتب کی جاسکتی ہے جنہوں نے اپنے غموں کو چھپا کر لوگوں کے چہروں پر خوشیاں لانے کی آخری وقت تک کوشش کی، مگر جب اُن کو ہماری ضرورت پڑی تو ہم نے ایسے آنکھیں بند کرلیں جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر کرلیا کرتا ہے۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ یوں مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔ آخر ریاست اور ریاست کے تحت اداروں کو کب فن اور فنکار کی قدر کا احساس ہوگا؟

بل بتوڑی(نصرت آراء)۔
بل بتوڑی(نصرت آراء)۔

ٹی وی چینلز پر تو بار بار ان کی بیماری کے حوالے سے خبریں آتی رہیں لیکن کیوں کوئی مقتدر مدد کو آگے نا آسکا؟ یہ مہذب معاشروں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ فن اور فنکار کا احترام اور معاشی طور پر اُن کا خیال رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کیونکہ یہی تو معاشرے کا اہم جزو ہوتے ہیں۔ انہی فنکاروں کے فن اور کرداروں کے ذریعے معاشرے بالخصوص بچوں کی اجتماعی طور پر اصلاح کا اہم کام سرانجام دیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے اہم ترین بات یہ کہ جب محض پی ٹی وی ہوا کرتا تھا تب بھی بچوں کی تفریح کے لیے مخصوص وقت متعین ہوتا تھا، مگر اب درجنوں چینل پر 24 گھنٹے کی نشریات کے باوجود کسی ایک بھی چینل کے پاس بچوں کا کوئی پروگرام نہیں جہاں وہ اپنی قومی یا مقامی زبان میں نیکی و بدی کی تمیز کو سیکھا پائیں۔ پھر جب ہم خود یہ ذمہ داری پوری نہیں کررہے تو اِس کی کمی اور خلا غیر ملکی خاص طور پر بھارتی ڈرامے اور کارٹون پورا کر رہے ہیں۔ آج ہمارے بچوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ شہزادی کسے کہتے ہیں لیکن انہیں یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ راج کماری کون ہوتی ہے۔ ستم دیکھیے کہ جب بچوں کو شہزادی کا تعارف دینے کے لیے یوٹیوب کی مدد لی جائے تو شہزادی کے ساتھ جو سب سے پہلے لفظ لکھا نظر آتا ہے وہ یہاں لکھنا بھی مناسب نہیں معلوم نہیں ہورہا۔

ہمارے ملک میں ذرائع ابلاغ کی سیاسی میدان پر اس قدر توجہ مرکوز ہے کہ وہ یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ ان کے ناظرین میں ایک بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے۔

حکومت سمیت پیمرا کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ بچوں کو مہذب معاشرے کا اقدار سکھانے کا بہترین طریقہ تفریحی پروگرامز، ڈرامے اور دیگر فنون ہی ہیں۔

اگرچہ زکوٹا اور بل بتوڑی اب صرف ہماری یادوں میں ہی زندہ ہیں لیکن ان کی وفات ہمیں ایک بار پھر یاد دہانی کروا گئی کہ ہم اپنے فنکاروں کے لیے کچھ نہیں کرتے، ان کی معاشی تنگدستی سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، وہ بسرا ماضی تھے اس لیے فراموشی کے مستحق ہیں، لیکن یاد رکھیں نیک و بدی کے اسباق سکھلانے والوں کے ساتھ نیکی کرنے میں ہم سے بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔