لیگی حلقوں میں احد چیمہ کی گرفتاری پارٹی کیلئے ‘سازش’ قرار

24 فروری 2018

ای میل

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے ) کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کی گرفتاری پر صوبائی بیوروکریسی سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں بشمول قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور وزیرداخلہ احسن اقبال نے بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

احد چیمہ کی گرفتاری کو مسلم لیگ (ن) کے قریبی وفاداروں کے خلاف کریک ڈاؤن تصور کیا جارہا ہے دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں حکومت بینچز نے بھی زوردیا کہ پنجاب بیوروکریسی حکمراں جماعت اور ریاستی اداروں کے مابین تناؤ سے خود کو دور رکھے۔

یہ پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے وزیراعظم کے سیکریٹری کو طلب کرلیا

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پنجاب بیوروکریٹس میں ’باغی‘ عناصر سامنے آرہے ہیں جنہوں نے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سازشیں تیار کی۔

اسی حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹ کیا کہ ’شہباز شریف کے فرنٹ میں احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی کا احتجاج افسوس ناک ہے‘۔

واضح رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں گرفتار لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے ) کے سابق سربراہ احد خان کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا خواجہ سعد رفیق کی ہاؤسنگ اسکیم کے خلاف تحقیقات کا آغاز

لاہور احتساب عدالت نے 22 فروری کو احد خان چیمہ کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا، جس کے بعد گزشتہ روز ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس (جی او آر) میں پنجاب کے تمام اضلاع کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹینٹ کمشنرز کو طلب کرکے بند کمرہ میٹنگ کی جس میں کہا گیا کہ وہ اس وقت تک انتظامی امور شروع نہیں کریں گے جب تک خفیہ ایجنسیوں، سیاستدانوں اور عدالتوں کے ہاتھوں ان کے سینئرز کی توہین کا سلسلہ جاری رہےگا۔

اس حوالے سے واضح رہے کہ چیف سیکریٹری اور دیگر متعدد سیکریٹریز نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی بلائی گئی میٹنگ میں شرکت نہیں کی، بعض سیکریٹریز کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان محاذآرائی میں کسی ایک فریق کا حصہ بننا ہوش مندانہ فیصلہ نہیں ہے۔

مذکورہ حالات کے پیش نظر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کابینہ نے ناراض بیوروکریٹس سے ملاقات کی اور فیصلہ کیا کہ ’قانون کی بالا دستی‘ کے لیے معاملے کو وفاقی حکومت کے ساتھ زیر بحث لائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے زیر صدارت اجلاس میں احد چیمہ کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ احد چیمہ قائد اعظم تھرمل پاور لیمٹڈ کے سربراہ ہیں اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل پر تعینات رہے۔ ان کی گرفتاری کے اگلے ہی روز انہیں 19 سے 20 گریڈ پر ترقی دی گئی۔

مزید پڑھیں: نیب کا 56 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

وزیرداخلہ احسن اقبال نے احد چیمہ کی گرفتاری کو مسلم لیگ (ن) کے لیے سازش قرار دی۔

انہوں نے لاہور کالج برائے وویمن یونیورسٹی میں تقریب کے بعد صحافیوں سے کہا کہ ’(ر) جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی نیب نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اب نیب سابق وزیراعظم نوازشریف کے سیاسی ہمدردوں کو ہراساں کررہا ہے‘۔

قومی اسمبلی اسپیکر ایاز صادق نے بھی احد خان چیمہ کی گرفتار کو متنازع قرار دیا اور اپیل کی کہ ’نیب چیئرمین لوگوں کو اس طرح توہین کرنے سے گریز کریں، نیب کے اعمال سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ساستدانوں اور بیوروکریٹس کو اپنا انتقامی ہدف بنا چکا ہے تاہم تمام ریاستی اداروں کو متعین کردہ آئینی دائروں میں رہ کر فرائض ادا کرنا چاہیے‘۔

اسی حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی میاں محمود الرشید نے کہا کہ ’کرپشن کے الزام میں گرفتار افسر کو حکومت کن بنیادوں پر عہدے میں ترقی دے سکتی ہے، حکومت کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کرپشن اور کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کیا ہے اور حکومت کی ایما کے بغیر بیوروکریسی کیسے احتجاجی ہڑتال کر سکتی ہے‘۔


یہ خبر 24 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی