قدرت اللہ شہاب: بابو سے بابا جی تک

اپ ڈیٹ 26 فروری 2018

ای میل

پاکستانی ادب میں ایسے کئی نام ستارے بن کر چمکے، جن کا پسِ منظر بیوروکریسی تھا، لیکن قسمت نے ادبی دنیا میں بھی ان کا ساتھ دیا۔ اس تناظر میں مصطفیٰ زیدی، مختار مسعود، قدرت اللہ شہاب سمیت کئی نمایاں مثالیں ہیں۔

مجموعی حیثیت میں دیکھا جائے تو پاکستان کی نوکر شاہی سے پاکستانی ادب میں داخل ہونے والی سب سے معروف اور اثر انداز ہونے والی شخصیت کا نام قدرت اللہ شہاب ہے، آج جن کا یومِ پیدائش بھی ہے۔

ایک طرف ان کی شہرت مایہ ناز بیوروکریٹ کی ہے کیوں کہ وہ اہم ترین سرکاری عہدوں پر فائز رہے، تو دوسری طرف وہ ایک ممتاز ادبی شخصیت تسلیم کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ ان کی تخلیقات کا قارئین میں مقبول ہونا ہے۔ اردو دنیا میں آج تک سب سے زیادہ فروخت ہونے والی سوانح عمری 'شہاب نامہ' ہے، جس میں پاکستانی سیاست و ادب کے کئی نئے باب کھلے اور کئی تنازعات نے بھی جنم لیا۔

قدرت اللہ شہاب کی پیدائش گلگت میں ہوئی جبکہ ابتدائی تعلیم کا مرکز ریاست جموں و کشمیر اور ضلع انبالہ رہا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ماسٹرز کرنے کے بعد 1941ء میں انڈین سول سروس سے وابستہ ہوئے اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے مختلف شہروں میں متعین رہے۔

قیام پاکستان کے بعد جن بڑے عہدوں پر فائز رہے ان میں سیکرٹری جنرل آزاد کشمیر، ڈپٹی کمشنر ضلع جھنگ، ڈائریکٹر انڈسٹریز حکومتِ پنجاب، سیکرٹری گورنر جنرل آف پاکستان ملک غلام محمد، میجر جنرل اسکندر مرزا، صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان، سیکرٹری اطلاعات حکومتِ پاکستان، سیکرٹری وزارت تعلیم حکومتِ پاکستان، سیکرٹری جنرل پاکستان رائٹرز گلڈ، ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور یونیسکو میں ایگزیکٹیو بورڈ کے رکن کی حیثیت سے وابستگی شامل ہے۔

قدرت اللہ شہاب کا شمار ان لکھنے والوں میں ہوتا ہے جو تقسیم کے عینی شاہد ہیں۔ وہ خود ایک بڑے سرکاری ملازم تھے، اور دیگر کئی بیورو کریٹس کی طرح، تقسیم سے ان کی ذاتی زندگی میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑا کیوں کہ ملازمت بحال اور زندگی کی آسودگی میسر تھی، اس وجہ سے ان کی تحریروں میں سعادت حسن منٹو والی تلخی اور امرتا پریتم والا دکھ نہیں جھلکتا۔

البتہ فسادات کے موضوع پر ان کا ایک مختصر ناولٹ 'یا خدا' 1948ء میں شایع ہوا تھا، کچھ کہانیوں میں بھی یہ اثرات ملتے ہیں، مگر تناسب کم ہے، البتہ بہار، بنگال اور پھر پنجاب میں، ملازمت کی وجہ سے جو وقت گزرا ان کی کہانیوں میں ان دنوں کی پرچھائیاں نمایاں طور پر ملتی ہیں۔

ان کی کہانیوں میں بہت حد تک وہ ذاتی زندگی، جس میں ان کا اندرونی تشخص نمایاں ہوتا ہے، وہ بھی بیان ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقی زندگی ابتدائی دنوں میں دائیں بازو کے ایک لکھنے والے نیم صوفی اور اختتام تک آتے آتے مکمل صوفی افکار والے قلم کار کی تحریروں کا مرقع بن جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: تاریخ اور تہذیب کی تخلیق کار: قرۃ العین حیدر

اس لہر کے زیر اثر تخلیق ہونے والے ادبی سرمائے میں 3 افسانوی مجموعے، ’نفسانے‘، ’ماں جی‘ اور ’سرخ فیتہ‘ شامل ہیں، لیکن ان کی جس تخلیقی نگارش کو سب سے زیادہ سراہا گیا اور جس کی آج تک مقبولیت برقرار ہے، وہ ان کی خود نوشت 'شہاب نامہ' ہے، جس کی اشاعت، ان کے انتقال کے ایک سال بعد 1987ء میں ہوئی۔ اردو دنیا میں یہ کتاب، آج تک سب سے زیادہ پڑھی جانے والی یادداشتوں کی کتاب کے طور پر مقبول بھی ہے۔

’چندراوتی‘ ان کا پہلا افسانہ ہے جو 1938ء میں شایع ہوا۔ اس کا تعلق ان کی حقیقی زندگی سے ہے۔ یہ کہانی ہے لاہور میں ان کے کالج کے دنوں کی جب ان کو ایک ہندو لڑکی سے عشق ہوگیا تھا اور اس عشق کی یادیں تمام زندگی ان کے دل پر یورش کرتی رہیں۔ قلمی سفر کا آغاز بھی اسی سے کیا، جبکہ اپنی لکھی ہوئی آخری کتاب شہاب نامہ میں بھی اس کا تذکرہ کیے بغیر رہ نہ سکے۔

اس کردار کی بدولت ان کے ایک عام انسان ہونے کی گواہی ملتی ہے، مگر شہاب نامہ کے آخری ابواب میں وہ خود کو نہ جانے کیا ثابت کرنے پر تل گئے۔ بابا ’نائٹی‘ کے نام سے انہوں نے جس طرح کی پیش گوئیوں کا سلسلہ شروع کیا اس سے ان کی کافی جگ ہنسائی ہوئی، مگر اردو ادب کی دنیا میں جن لوگوں نے ان کی اس نیم صوفی حیثیت کو من و عن تسلیم کر لیا، وہی ان کا قریبی حلقہ احباب بھی ٹھہرا، جن میں ادبی دنیا کے بڑے نام، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ابنِ انشاء اور ممتاز مفتی شامل ہیں۔

جنرل محمد ایوب خان کی طرف سے لگائے جانے والے مارشل لا میں بھی جس طرح قدرت اللہ شہاب اپنے ان ادبی دوستوں کی مدد سے پورے ادبی منظر نامہ پر چھائے رہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ چاہے رائٹرز گلڈ ہو یا پھر آدم جی ادبی ایوارڈ، انہوں نے کئی نئے پیمانے قائم کیے، جن میں جمیل الدین عالی سمیت کئی شاعر و ادیب ان کے دست راست رہے۔ جس طرح قدرت اللہ شہاب صدر ایوب کے ہراول دستے میں متحرک کارکن تھے، وہیں اس منظر نامے پر حبیب جالب جیسا انقلابی شاعر ان کے ادبی و استحصالی اقدامات کے خلاف سینہ سپر رہا اور حفیظ جالندھری سمیت کئی شعرا و ادیب بھی سراپا احتجاج رہے۔

قدرت اللہ شہاب کا سب سے بڑا تخلیقی حوالہ اور اب تک مقبولیت کی بڑی وجہ شہاب نامہ ہی ہے۔ انہوں نے اپنی ان مقبول یادداشتوں کے مجموعے کا انتساب اپنی والدہ کے علاوہ بیگم بچوں اور اپنے روحانی کردار 'نائٹی' کے نام کیا ہے، جس کے بارے میں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم 'جوسٹین گارڈر' کا ناول 'سوفیز ورلڈ' پڑھ رہے ہیں۔

اسی تکنیک کے تحت، ان کے ہاں نائٹی کا کردار موجود ہے۔ کتاب کی ابتداء میں 'اقبالِ جرم' کے عنوان سے دیباچہ لکھا، جس میں انہوں نے شہاب نامہ کی تخلیق کے محرکات پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ساتھ ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا، بلکہ یوں کہیں صفائی دی، جن کی بدولت قارئین کے دل میں ان کے لیے تلخی پیدا ہوسکتی تھی، مگر ان کی یہ کوشش کسی کام نہ آسکی۔ ان کے بیان کیے ہوئے بہت سارے واقعات آج تک زیرِ بحث ہیں، بلکہ بہت سارے تو ماورائے عقل ہیں۔

اس کتاب کو غور سے پڑھ کر یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا جھکاؤ کس مزاج کے لوگوں کی طرف رہا۔ ان کی ظاہری بابو والی طرزِ حیات اور ان کے اندر والے بابے کے درمیان کتنا تضاد تھا۔ آمریت کے سائے میں اپنی تمام توانائیاں مہیا کرتے رہے، بلکہ رائٹرز گلڈ جیسی ادبی تنظیم بنا کر تخلیق کاروں کو آمریت کی حمایت کرنے کا ادبی طریقہ متعارف کروایا۔

اس ادبی تنظیم کے ذریعے پہلی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ادیبوں اور شاعروں سے پیسے لے کر ڈکار لے گئے جس کی آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ راقم نے جمیل الدین عالی کی زندگی میں ان سے اس کے بارے میں سوال پوچھا تھا جس کا وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تھے۔

شہاب نامہ کا جائزہ تخلیقی بنیادوں پر لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں ہوتا کہ اس کا تاثر ایک ناول جیسا ہے، ایسا فکشن، جس میں تاریخ اور ادبیت گھلی ہوئی ہے۔ یہ قدرت اللہ شہاب کا کمال تھا جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اچھی نثر لکھی، ابواب کی تقسیم میں جمی ہوئی سرخیوں نے شہ پارے کا تاثر مزید گہر اکر دیا، اس پر ان کی کردار نگاری اور قصہ گوئی کے ساتھ ساتھ تخیل کی وسیع صلاحیت نے چار چاند لگا دیے۔

57 ابواب میں ایک ہزار سے زائد صفحات میں پھیلے ہوئے واقعات میں پاکستان کے محلاتی کردار، سماجی زاویے اور بے شمار ذاتی حوالے ملتے ہیں، جن کے ذریعے کافی حد تک مگر ایک مخصوص انداز سے حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا کی مخالفت میں تو بولتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے بارے میں یہ اندازِ گفتگو ناپید ہے۔

ساری زندگی اپنے بارے میں نہ بات کرنے کے حوالے سے مشہور ہونے والے شہاب صاحب نے ساری کسر شہاب نامہ میں نکال دی، وہ کچھ بھی لکھ دیا جس کی ضرورت نہ تھی، یا پھر ان کے حد درجہ ذاتی معاملات تھے۔ ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ چونکہ شہاب نامہ قسط وار مختلف رسائل و جرائد میں شایع ہوتا رہا، پھر کئی ادبی محفلوں میں بھی اس کے مختلف ابواب وہ خود بھی پڑھتے رہے، وہاں سے پیدا ہونے والے مثبت ردعمل نے ان کو مائل کیا کہ وہ تفصیل سے لکھیں۔

پھر اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ابن انشا اور ممتاز مفتی کی دوستی نے بھی ان سے بہت کچھ لکھوایا، لیکن بعد میں ان دوستوں نے دیکھا کہ جب ایک مخصوص حلقے سے باہر نکل کر یہ کتاب پڑھی اور سمجھی گئی تو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے جواب میں قدرت اللہ شہاب کے ان دوستوں میں سے کسی نے ان کے دفاع کے طور پر قلم بند نہ کیا۔ اُلٹی تدبیر یہ کی کہ بانو قدسیہ نے 'مردِ ابریشم' اور ممتاز مفتی نے 'الکھ نگری' لکھ کر شہاب صاحب کے متنازعہ پہلوؤں کو مزید سند بخشی۔

مزید پڑھیے: بانو قُدسیہ: سرائے موجود ہے، داستان رخصت ہوئی

قدرت اللہ شہاب نے بھرپور زندگی گزاری، انگریز کا دور دیکھا، کشمیر میں گزارے ہوئے خوبصورت دنوں کی یادیں ان کے ذہن پر نقش رہیں، جن کی مدد سے ان کی تخلیق میں نرماہٹ موجود ہے۔ بنگال اور پنجاب کی ثقافتی فضا کو بخوبی جذب کرنے کے بعد کہانیوں کی صورت میں اتارا تو قارئین کو حیران کر دیا۔

یادداشتوں میں ایک طرف سرکاری دفتروں اور صدارتی محلات کی منظر نگاری ہے، تو دوسری طرف ملکی اور بین الاقوامی موضوعات کو اپنی تحریر میں سمویا۔ صحافت، ادب، سیاست، معاشیات اور خارجہ پالیسی سمیت اہم موضوعات کو سمیٹا ہے۔ بملا کماری کی بے چین روح ہو یا نائٹی کے کردار کی طرف سے ملنے والے خطوط، یا پھر ادبی سرگرمیوں کا تفصیلی ذکر ہو، سب میں ایک بات یکتا اور ماننے والی ہے، وہ ہے شہاب صاحب کا دل کو چھولینے والا انداز تحریر، اس کتاب کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہی رواں اور سلیس انداز تحریر ہے۔

شہاب یونیسکو کے اجلاس میں پیرس میں پاکستانی سفیر صاحبزادہ یعقوب علی خان کے ہمراہ
شہاب یونیسکو کے اجلاس میں پیرس میں پاکستانی سفیر صاحبزادہ یعقوب علی خان کے ہمراہ

قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامہ سمیت ان کے افسانوی مجموعوں کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کا افسانہ 'ماں جی' بے حد مقبول ہوا اور یہ افسانہ ان کی افسانہ نویسی کی اعلیٰ تخلیقی مثال بھی ہے، مگر اس کے باوجود ان کے کئی دیگر افسانے ایسے ہیں، جن کو لکھتے وقت شہاب صاحب جیسے نرم دل آدمی کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہوں گے۔

اس کی مثال ان کے افسانوی مجموعہ ماں جی میں شامل ایک افسانہ 'اسٹینو گرافر' ہے، جس کے لیے احمد ندیم قاسمی نے لکھا کہ یہ صرف کہانیاں نہیں بلکہ جذبات بھرے رومان بھی ہیں۔ اسٹینو گرافر انگریزی زبان پر دسترس رکھنے والی ایک اینگلو انڈین لڑکی گریسی کا قصہ ہے، جس کو لکھتے ہوئے شہاب صاحب نے بیانیے کے فن کی اس معراج کو چھو لیا ہے، جہاں ان پر ہونے والی ساری تنقید چھٹ جاتی ہے۔

اردو ادب میں قدرت اللہ شہاب بطور تخلیق کار ایک شاندار کہانی کہنے والے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے، شہاب نامہ کا تو پتہ نہیں، لیکن ان کی تخلیق کردہ کہانیوں کو ادبی مورخ و ناقد کے لیے فراموش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

قارئین بھی دل کے نہاں خانوں میں انہی کہانیوں کے کردار یاد رکھیں گے، اس بات کا مجھے یقین ہے۔