امریکی صدر نے ریکس ٹلرسن کو عہدے سے برطرف کردیا

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2018

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کو اپنے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریکس ٹلرسن کی جگہ وہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا نام دیں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مائیک پومپیو اس عہدے پر بہترین کام کریں گے۔

انہوں نے ریکس ٹلرسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریکس ٹلرسن نے بہترین خدمات انجام دیں۔

انہوں نے بتایا کہ سی آئی اے میں مائیک پومپیو کی جگہ پر ان کی ڈپٹی جینا ہاسپل لیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جینا ہاسپل اس عہدے پر آنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ٹویٹ ریکس ٹلرسن کے دورہ افریقا سے واپس آتے ہی سامنے آیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم عہدوں میں ہونے اس تبدیلی کے حوالے سے کسی قسم کی وضاحت دینے سے گریز کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 1 دسمبر کو ڈان اخبار میں چھپی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کو سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائک پومپیو سے تبدیل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اس سے قبل امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے 20 جولائی کو پینٹاگون میں ایک اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو احمق کہا تھا اور مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی۔

بعد ازاں عالمی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واقعے کے بعد نائب صدر مائیک پینس نے ٹلرسن سے بات کی تھی اور انہیں کم سے کم ایک سال تک اپنا عہدہ نہ چھوڑنے پر زور دیا تھا۔

نائب امریکی صدر کے علاوہ اس وقت کے ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری جان کیلی اور ڈیفنس سیکریٹری جیمس میٹس نے بھی ٹلرسن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات کو بہتر کرنے کی تجویز دی تھی۔

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کے درمیان قطر اور شمالی کوریا کے معاملے پر بھی اختلافات منظر عام پر آئے تھے۔