توہین عدالت کیس: طلال چوہدری پر کل فرد جرم عائد کی جائے گی

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2018

ای میل

سپریم کورٹ میں طلال چوہدری کیخلاف توہین عدالت کیس میں آج فرد جرم عائد نہیں کیس جاسکی۔

توہین عدالت کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت سے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے سے پہلے ان کی بات سنی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو دیکھ کر شاید ہمارا کیس بہتر ہو جائے گا۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ آج ہم نے فرد جرم عائد کرنی ہے، مقدمات میں تاخیر سے صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس کیس سے کسی کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ کسی کی ذات کا مسئلہ نہیں ادارے کی بات ہے، دن بدن آپ کا کیس مزید خراب ہو رہا ہے۔

کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد طلال چوہدری بہت محتاط ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے بینچ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ طلال چوہدری پر کل فرد جرم عائد کی جائے گی۔

خیال رہے کہ رواں برس یکم فروری کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو عدلیہ کے خلاف تقریر کرنے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 6 فروری 2018 کو طلال چوہدری کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے میں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی مہلت دی تھی۔

طلال چوہدری نے 24 فروری کو سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کیس میں اپنا عبوری جواب جمع کرایا تھا۔

سپریم کورٹ نے 26 فروری کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے متعلق توہینِ عدالت ازخود نوٹس کیس میں وکیل کی عدم پیشی پر سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے 6 مارچ کو ہونے والی سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بیانات سے متعلق سی ڈی طلال چوہدری کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

یاد رہے کہ طلال چوہدری نے رواں سال جنوری میں مسلم لیگ (ن) کے جڑانوالہ میں جلسے کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ایک وقت تھا جب کعبہ بتوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا، آج ہماری عدالت جو ایک اعلیٰ ترین ریاستی ادارہ ہے میں پی سی او ججز کی بھرمار ہے'۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'میاں صاحب انہیں باہر پھینک دو، انہیں عدالت سے باہر پھینک دو، یہ انصاف نہیں دیں گے بلکہ اپنی نا انصافی جاری رکھیں گے'۔