چین کا جوابی اقدام: امریکی مصنوعات کی درآمد پر محصولات عائد

03 اپريل 2018

ای میل

بیجنگ: چین نے پھل اور سور کے گوشت سمیت امریکا سے درآمد کی جانے والی 3 ارب ڈالر مالیت کی 128 مصنوعات پر محصولات عائد کر دیئے۔

چین نے یہ اقوام امریکا کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم پر ڈیوٹیاں عائد کرنے کے جواب میں اٹھایا، جسے چین نے اپنے مفادات کے لیے انتہائی خطرہ قرار دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ اقدام، جس کا فیصلہ ریاستی کونسل کے کسٹمز ٹیرف کمیشن نے کیا، دونوں ممالک کی بیان بازی کے کئی ہفتوں بعد اٹھایا گیا جس نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس کی طرف سے عائد کی گئی ڈیوٹیاں اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمد پر تھی جسے وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

تاہم چین کی وزارت تجارت اس وجہ کو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی قرار دیا۔

وزارت تجارت کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’امریکی اقدامات صرف چند ممالک کے حوالے سے ہیں جو غیر امتیازی سلوک کے اصول کی صریحاً خلاف ورزی اور چین کے تجارتی مفادات کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں چین کو زیادہ فائدہ حاصل ہونے کی کئی بار شکایت کی تھی اور امریکی خسارہ کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تجارتی کشیدگی: امریکا، چین کا روابط جاری رکھنے پر اتفاق

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ژن ہوا‘ نے حکومتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے گزشتہ ماہ یہ تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکا سے درآمد کی جانے والی کئی مصنوعات پر 15 سے 25 فیصد محصولات عائد کرنے پر غور کر رہا ہے جس میں شراب، خشک میوہ جات اور ایلومینیم اسکریپ بھی شامل ہیں۔

چینی حکومت کی جانب سے یہ بیان امریکی کی طرف سے ایلومینیم پر 10 فیصد اور اسٹیل پر 25 فیصد محصولات عائد کیے جانے کے جواب میں دیا گیا تھا۔

امریکا کے اس اقدام پر اس کے اتحادی بھی اس سے ناراض ہیں۔

چینی وزارت تجارت نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ امریکا عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کے مخالف اٹھایا جانے والے اس اقدام سے جلد پیچھے ہٹ جائے گا، تاکہ امریکا اور چین کے تجارتی تعلقات معمول پر آسکیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ محصولات یورپی یونین کے علاوہ ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، میکسیکو اور جنوبی کوریا کے لیے بھی عارضی طور پرمعطل کر دیئے تھے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے املاک دانش یعنی نئے خیالات کی مبینہ چوری پر چینی درآمدات پر تقریباً 60 ارب ڈالر کے نئے محصولات عائد کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا۔

امریکا کے اس اقدام کے بعد گزشتہ ماہ چین کے نائب وزیر اعظم لیو ہی نے امریکی سیکریٹری خزانہ اسٹیون میوچنِ کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔