فیس بک بانی امریکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2018

ای میل

مارک زکربرگ تجارت، سائنس و انصاف کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوئے—فوٹو: اے ایف پی
مارک زکربرگ تجارت، سائنس و انصاف کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوئے—فوٹو: اے ایف پی

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ پہلی بار امریکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔

مارک زکربرگ امریکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے اس لیے پیش ہوئے،کیوں کہ گزشتہ ماہ 21 مارچ کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فیس بک کے 8 کروڑ صارفین کا ذاتی ڈیٹا چوری کرکے سیاسی مقصدوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ خبر سامنے آنے کے بعد فوری طور پر امریکا کے وفاقی ٹریڈ کمیشن ( ایف ٹی سی) نے فیس بک کے خلاف تحقیقات شروع کردی تھی، جب کہ حیران کن طور پر سوشل میڈیا کے حصص میں کمی دیکھی گئی۔

اس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد اگرچہ فیس بک نے صارفین سے معذرت بھی کی تھی، تاہم سینیٹ کمیٹیوں نے مارک زکربرگ کو تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے بلایا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق مارک زکربرگ نے امریکی سینیٹرز کو آگاہ کیا کہ ان کی کمپنی اس وقت روسی ٹیکنالوجی آپریٹرز کے ساتھ ایک طرح کی حالت جنگ میں ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

مارک زکربرگ نے دعویٰ کیا کہ روسی ٹیکنالوجی ماہرین ان کی کمپنی کو ہیک کرکے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم وہ انہیں اس مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

فیس بک کے بانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں روسی آپریٹرز کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صارفین کا ڈیٹا غلط استعمال ہونے پر فیس بک کے خلاف تحقیقات

انہوں نے روسی سینیٹرز کو ’کیمبرج اینالاٹکا‘ (سی اے) کی جانب سے 8 کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا چرانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق مارک زکربرگ امریکی سینیٹ کمیٹیوں کے اوپن اجلاس کے سامنے پیش ہوئے، جہاں تمام سینیٹرز ایک ساتھ موجود تھے۔

خبر کے مطابق ہر امریکی سینیٹرز کو مارک زکربرگ سے سوال کرنے کے لیے تقریبا 5 منٹ کا وقت ملا۔

خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ مارک زکربرگ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں کے مقابلے سینیٹ کمیٹیوں کے سامنے انتہائی مختصر وقت کے لیے پیش ہوئے۔

اس سے قبل مائیکرو سافٹ کے بل گیٹس کئی دنوں تک امریکی سینیٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

ادھر امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے بتایا کہ زیادہ ترسینیٹرز کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ کس طرح کام کرتی ہے اور یہ صارفین کے ڈیٹا یا معلومات کو کس طرح ہینڈل کرتی ہے؟

خبر میں بتایا گیا ہے کہ چوں کہ امریکی سینیٹرز فیس بک کے کام کرنے اور سیکیورٹی کے طریقہ کار سے بے خبر تھے، اس وجہ سے وہ مارک زکربرگ سے اس طرح کے پیچیدہ سوال بھی نہ کرسکے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی سینیٹرز نے مارک زکربرگ سے صارفین کی معلومات اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

مارک زکربرگ نے امریکی سینیٹرز کو یقین دلایا کہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات سمیت ہر طرح کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے امریکی سینیٹرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

مارک زکربرگ نے سائنس و ٹیکنالوجی سمیت تجارت و انصاف کی سینیٹ کمیٹیوں کو 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: فیس بک کے تمام مسائل میری غلطی ہے، مارک زکربرگ

مارک زکر برگ نے سینیٹرز کو آگاہ کیا کہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ان سے وائیٹ ہاؤس کے خصوصی قونصلر رابرٹ میولر نے بھی تفتیش کی تھی۔

فیس بک بانی نے بتایا کہ اگرچہ رابرٹ میولر نے ذاتی طور پر ان سے کوئی تفتیش نہیں کی تھی، تاہم انہوں نے ویب سائٹ کے اعلیٰ عہدیداروں سے انتہائی رازدارانہ تحقیقات کی تھی، جس کی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور وہ کبھی اسے سامنے نہیں لائیں گے۔

فیس بک کے بانی 10 اور 11 اپریل کو امریکی سینیٹ کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوئے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 21 مارچ کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ کیمبرج اینالاٹکا نامی کنسلٹنسی کمپنی نے 2016 میں قریبا فیس بک کے 8 کروڑ سے زائد صارفین کی ذاتی معلومات کو چوری کرکے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

اس کمپنی سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کمپنی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم نے 2014 میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم اور کمپنی نے اس کمپنی سے فیس بک کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کے بانی معافی مانگنے پر مجبور
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

یہ خبر سامنے آنے کے بعد فیس بک کے سربراہ نے سینیٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونے سے قبل ہی عوام سے معافی مانگتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ ویب سائٹ پر ہونے والی ہر غلطی کے وہ ذمہ دار ہیں۔

2016 میں ہونے والی امریکی انتخابات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیس بک نے روس کی مداخلت کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن جتوانے میں مدد فراہم کی۔

فیس بک کے علاوہ ٹوئٹر پر بھی یہ الزام تھا کہ انہوں نے امریکی عوام کے سامنے غلط خبریں، غلط تبصرے اور تجزیے پیش کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں کردار ادا کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور روس ان الزامات کو جھوٹا قرار دیتے رہے ہیں۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی