مودی کی حکومت کے ہاتھوں جمہوریت کا قتل!

مسئلہ بنیادی سطح سے شروع ہوتا ہے۔ سادھو کی تعریف کیا ہوگی؟ اس لفظ کے معنیٰ سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی فلاح و بہبود جڑی ہے۔ زیادہ تر لوگ سادھو کو پرہیزگار یا درویش سمجھیں گے۔ مگر ڈکشنریوں میں الفاظ کے لیے مخصوص معانی ہوتے ہیں۔ کیمبرج انگلش ڈکشنری میں سادھو کو ایک ہندو مقدس شخص لکھا گیا ہے، خاص طور پر وہ جس نے معاشرے سے دور رہنے کا فیصلہ کرلیا ہو، جبکہ کولنز ڈکشنری میں اسے گھومنے پھرنے والا مقدس شخص لکھا گیا ہے۔
ان میں سے کسی کا بھی اطلاق مذہبی انتہاپسندی میں رنگے آج کے ہندوستان پر نہیں ہوتا۔ مرکز اور بھارت کی اکثریتی 29 ریاستوں میں اقتدار میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وجہ سے سادھوؤں کو طاقت اور سیاست میں کردار، دونوں چیزیں ملی ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں اس طبقے کے 5 لوگوں کو بی جے پی کے زیرِ حکومت مدھیہ پردیش میں شجرکاری اور پانی کی بچت کے بارے میں آگاہی کمیٹی کا رکن بنانے کے بعد ریاستی وزیر کا عہدہ دیا گیا۔ یہ سیدھا سادہ معاہدہ تھا۔ سادھو شورش کی دھمکی دے رہے تھے اور انہیں خرید لیا گیا۔
بی جے پی ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے جمہوری روایات کو جس طرح اٹھا کر پرے پھینک رہی ہے، ان حیران کن طریقوں میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ مقصد صرف طاقت ہے، راستہ چاہے جو بھی ہو۔
پڑھیے: ہندوستان انتہاپسند ریاست بننے کے قریب؟
ایک اور عجیب موڑ تب آیا جب مرکز میں نریندرا مودی کی حکومت نے اپنی مخالف جماعت عام آدمی پارٹی کی دہلی میں حکومت کے مشیروں کے ایک گروہ کو برطرف کرنے کا حکم دیا۔ یہ پروفیشنل لوگ تھے جو اروند کیجریوال کو تعلیم اور صحت سمیت اہم شعبوں میں اصلاحات پر مشاورت دے رہے تھے۔ کسی بھی مشیر کو تنخواہ نہیں دی جا رہی تھی۔ یہ ماہرین تھے جو عوامی بھلائی کے لیے وقت اور تصورات فراہم کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ مشیروں، بالخصوص تعلیمی شعبے میں اتیشی مارلینا کا کام زبردست رہا ہے۔ مگر مرکز کو اس سے الجھن تھی۔ اس نے کہا کہ کیجریوال نے مرکز کی اجازت نہیں لی تھی۔
اگر یہ حرکت چھوٹی اور بدلہ انگیز لگتی ہے تو جان لیں کہ مودی حکومت اپنے مخالفین سے ایسے ہی پیش آتی ہے۔ بی جے پی کی حکومت عام آدمی پارٹی پر اس وقت سے نشانہ باندھے ہوئے ہے جب سے وہ 2015ء میں اکثریت کے ساتھ دہلی کی حکومت میں آئی۔ دہلی حکومت کے اختیارات پر بے رحمانہ حملے، جس کا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے، نے تعاون پر مبنی وفاقیت کی روح کو دھچکا پہنچایا ہے، جو کہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یہ بی جے پی کی آئینی اور جمہوری روایت کے لیے ناقدری کا ثبوت ہے۔ چنانچہ خود مختار ادارے جو کہ کسی بھی جمہوریت کی بقاء کے لیے ضروری ہوتے ہیں، اب برباد ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک ادارہ تو الیکشن کمیشن ہے جو کہ بی جے پی کی اقتدار کی بھوک میں اس پارٹی کا آلہ کار بن چکا ہے۔ انتخابی دنوں میں بی جے پی کے ایجنڈا کی تکمیل میں پیش پیش الیکشن کمیشن مخالف جماعتوں کے خلاف کمزور سے کمزور بنیادوں پر ایکشن لینے کے لیے ہمیشہ تیار نظر آتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے معاملے میں اس نے قواعد کی شدید خلاف ورزی کی اور نفع بخش عہدے رکھنے کے الزام پر عام آدمی پارٹی کے 20 قانون سازوں کو نااہل قرار دے دیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے نااہلی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے انتخابی پینل کو یاد دلایا کہ اس کا طریقہ کار نہ ہی شفاف اور نہ ہی معقول تھا، جبکہ قدرتی انصاف کے اصول کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں۔
پڑھیے: دلتوں، مسلمانوں اور عیسائیوں سے مُکت ہندوستان
مگر اس وقت کیا ہوگا جب عدالت خود جانبدار محسوس ہو؟ اب جبکہ ہندوستان سپریم کورٹ میں ججوں کے کام و سرگرمی پر بحران میں الجھا ہوا ہے، تو اس کی جمہوریت پہلے سے زیادہ نازک نظر آ رہی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بی جے پی کے سربراہ امیت شاہ کے خلاف مقدمہ سننے والے خصوصی جج کی موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی پٹیشن خارج کیے جانے نے عدلیہ میں موجود مسائل کو آشکار کردیا ہے۔ جمہوری حکمرانی کے تمام ستونوں پر بی جے پی کی مضبوط ہوتی گرفت کے سامنے اب تک کھڑا ہوا یہ آخری ادارہ تھا۔
کانگریس کی سربراہی میں 7 اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو زک پہنچانے کی بناء پر ان کے مواخذے کا مرحلہ شروع کیا ہے۔ چاہے اس کا انجام جو بھی ہو، مگر مواخذے کے نوٹس کا ہندوستان پر گہرا اثر پڑے گا۔
اگر جمہوریت خطرے میں ہے تو اس کی بنیادی وجہ مودی کی اپنے سیاسی حریفوں کے لیے عدم برداشت اور اپنے مدِمقابل جماعتوں کو جائز سیاسی حریف سمجھنے میں ان کی نااہلی ہے۔ ان کی پارٹی کی جانب سے بار بار ’کانگریس سے پاک بھارت‘ کا نعرہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں اندازہ نہیں جمہوریتیں کس طرح کام کرتی ہیں۔
اس کے بعد باری آتی ہے آئین کی، جس کے الفاظ اور روح، دونوں پر عمل کرنے سے بی جے پی کو بیزاری ہے۔ ہندوتوا کی قائل اور آئین کے لیے ہتک رکھنے والی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے جنم لینے والی بی جے پی کے لیے آئین میں بے حد تبدیلی کی ضرورت ہے کیوں کہ اس میں نہرو کے سیکولر لبرل ازم کے خیالات موجود ہے۔ بی جے پی کے کئی رہنما کھلے عام اس میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور آر ایس ایس بھی، جو کہ اس میں 'ہندو اقدار' شامل کرنے کے لیے ایک نئے فریم ورک پر کام کر رہی ہے۔ مگر پھر بھی ہندوستان کی ایک بڑی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ان کی جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں کیوں کہ ان کے پاس ان کا آخری ہتھیار، یعنی کہ الیکشن موجود ہیں۔
پڑھیے: مودی جی، آئیے مل کر بھارت کا اِتھاس شُدھ کرتے ہیں
جمہوریت کتنی مضبوط ہے، اس کی جانچ کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کے 2 پروفیسر اسٹیون لیوٹسکی اور ڈینیئل زیبلیٹ ایک چیک لسٹ پیش کرتے ہوئے خبردار کرتے ہیں کہ الیکشن تمام مسائل کا حل نہیں ہے۔ مطلق العنان حکمران بھی منتخب ہوتے ہیں اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں، جبکہ اس کی روح کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ادارے اکیلے ہی منتخب مطلق العنان حکمرانوں کو لگام دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتے بلکہ جہاں سیاسی جماعتوں اور شہریوں پر آئین کی حفاظت لازم ہوتی ہے، وہاں اس کی جمہوری روایات کے ذریعے حفاظت بھی لازم ہے۔
اپنی تازہ ترین کتاب ’How Democracies Die‘ (جمہوریتوں کی موت کیسے ہوتی ہے) میں وہ لکھتے ہیں: ’مضبوط جمہوری روایتوں کے بغیر آئینی ضوابط اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام جمہوریت کی مضبوطی کا وہ سبب نہیں بنتے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ ادارے سیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں جن کا استعمال وہ لوگ ان کے خلاف کرتے ہیں، جن کا ان اداروں پر اختیار نہیں ہوتا۔‘
ایک اور سنسنی خیز اقتباس ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ مطلق العنان حکمران کس طرح جمہوریت کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ عدالتوں اور دیگر اداروں پر دھونس جما کر، میڈیا اور نجی شعبے کو خرید کر (یا زبردستی خاموش کروا کر) اور سیاست کے قواعد تبدیل کرکے، جس میں میدان مخالفین کے لیے ناموافق بنا دیا جاتا ہے۔ مطلق العنانیت کے انتخابی راستے کا افسوسناک انجام یہ ہے کہ جمہوریت کے قاتل جمہوری اداروں کا ہی آہستگی، غیر محسوس اور قانونی انداز میں استعمال کرتے ہیں تاکہ جمہوریت کو قتل کیا جاسکے۔‘
ہندوستان اس چیک لسٹ پر پورا اترتا ہے۔
یہ مضمون ڈان اخبار میں 23 اپریل 2018 کو شائع ہوا۔












لائیو ٹی وی