زوہیب سے سحرش تک کا دشوار سفر

اپ ڈیٹ اپريل 30 2018

ای میل

سحرش خان ایک تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے۔ — تصویر بشکریہ لکھاری
سحرش خان ایک تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے۔ — تصویر بشکریہ لکھاری

سحرش خان نے اپنی کہانی لکھاری سائرہ ایوب کو سنائی جنہوں نے اسے تحریری شکل دی۔


25 اگست 1992ء میری تاریخِ پیدائش ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں پیدا ہوا ہوں یا پیدا ہوئی ہوں۔ لیکن یہ بات میرے خاندان کے لیے گہرا صدمہ تھی۔ ہمارے معاشرے میں مخنث بچے کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھا جاتا ہے اور ایسے بچوں کو چھپا کر رکھا جاتا ہے یا انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔ والدین مخنث بچے کو لڑکا بننے پر مجبور کرتے ہیں۔

میرا تعلق تعلیم یافتہ خاندان سے تھا۔ میرے والد انجینیئر اور والدہ ٹیچر تھیں۔ میرا نام زوہیب رکھا گیا۔ لیکن مجھے لڑکیوں کی طرح گڑیوں سے کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ مجھے امّی کا دوپٹہ اوڑھنا اور لپ اسٹک لگانا پسند تھا۔

اسکول میں بھی میری دوستی صرف لڑکیوں سے تھی اور محلے میں بھی مجھے لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا پسند تھا، جس پر میرے بھائی اور اُن کے دوست میرا مذاق اڑاتے تھے۔ والدین سے اکثر اسی بات پر مجھے مار بھی پڑجاتی تھی۔ اُس وقت میرے لیے یہ سب بوجھ لگنے لگتا۔ زنانہ روپ سنگھار میرے لیے پُرکشش تھا لیکن امّی ابو کہتے تھے کہ میں لڑکا ہوں اور لڑکے یہ سب کام نہیں کرتے۔ چنانچہ ہر وقت میرے سر پر ایک الجھن سوار رہتی۔

میرے والدین نے مجھے ایک ماہرِ نفسیات کو دکھایا۔ 4 سال تک وہ میری کونسلنگ کرتا رہا۔ دورانِ علاج اُس کی بھرپور کوشش تھی کہ میں لڑکا بن جاؤں لیکن مجھ پر اِس کونسلنگ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

پڑھیے: پاکستان میں پہلی بار ’خواجہ سراؤں‘ کے اسکول کا قیام

مجھے آرمی پبلک اسکول میں داخل کروایا گیا۔ میٹرک کرنے کے بعد مجھے کیڈٹ کالج میں داخل کروا دیا گیا۔ میرے والد کا خیال تھا کہ لڑکوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے سے مجھ میں لڑکوں والا رویہ آجائے گا۔ مگر شعور کی منزلیں طے کرتے وقت میرے لیے یہ سوال بہت اہم تھا کہ میں کون ہوں؟ اِس سوال کا جواب مجھے ایک خواجہ سرا نے بتایا۔

میرے ذہن کی گرہیں کھلتی چلی گئیں جب مجھے پتہ چلا کہ میں کون ہوں اور میری شناخت کیا ہونی چاہیے۔ اپنی شناخت کو تسلیم کرنا میرے لیے تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ لیکن اُس سے بھی زیادہ تکلیف دہ مرحلہ میرے گھر والوں کا رویہ تھا۔ میری والدہ مجھے مسلسل سمجھاتی تھیں کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا کا کوئی مستقبل نہیں اور لوگ انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ معاشرے کی رذیل ترین مخلوق سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں مجھے خواجہ سرا نہیں بلکہ مرد بننا ہے۔ لیکن میں نے انہیں یقین دلایا کہ تعلیم میرا وہ ہتھیار ہوگا جو مجھے میرا مقام حاصل کرنے میں مدد دے گا۔

ایف ایس سی کرنے کے بعد میں باقاعدہ خواجہ سرا کلچر کا حصہ بن گئی۔ میری گرو کا نام رفی خان تھا۔ انہوں نے پرائیویٹ ڈبل ایم اے کیا تھا۔ وہ انفیکشن کنٹرول سوسائٹی پاکستان میں ایچ آئی وی پراجیکٹ پر بطورِ فیلڈ ورکر کام کرتی تھیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ انتہائی معمولی درجہ کی ملازمت کررہی تھیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ تعلیم یافتہ خواجہ سرا کو اچھے عہدے پر ملازمت کرنی چاہیے۔ اِس لیے میں نے ریگولر تعلیم کا فیصلہ کیا اور کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

آغاز میں یونیورسٹی میں مجھ سے بہت زیادہ امتیازی سلوک برتا گیا۔ طالبات میرے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتی تھیں اور طلبا میرا سرِ راہ مذاق اڑاتے تھے۔ کہتے تھے، دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں ایک کُھسرا پڑھ رہا ہے۔ طلبا جان بوجھ کر تنگ کرتے تھے اور مجھے دیکھ کر سیٹی مارتے تھے۔ ایک دفعہ ایک ٹیچر نے بھی کہا کہ تم نے یہاں کیوں داخلہ لیا ہے؟ تم یہاں کا ماحول خراب کر رہی ہو۔

میرے لیے یہ انتہائی دشوار دور تھا۔ میرے سامنے 2 راستے تھے۔ یا تو میں مایوس اور ناامید ہوکر یونیورسٹی چھوڑ دیتی یا پھر اِن بُرے رویوں کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہوجاتی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو سنوارنے کی جدوجہد کرتی۔

پڑھیے: میں ڈبل ماسٹرز کے باوجود ایک بیروزگار خواجہ سرا ہوں

میں نے دوسرے راستے کو اپنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی تمام تر کمزوریوں کو اپنی طاقت بنانے کا عزم کیا۔ میں نے یونیورسٹی کی مختلف طلبا سوسائٹیز میں شمولیت اختیار کی، میں گروپ ورک اور پریزنٹیشنز میں ہمیشہ بہترین کارکردگی دکھاتی تھی اور یوں رفتہ رفتہ ڈیپارٹمنٹ میں میری قابلیت کی دھاک بیٹھتی گئی۔

اسی دوران میں نے خواجہ سراؤں کے ادارے جینڈر انٹرایکٹیو الائنس (Gender Interactive Alliance) میں شمولیت اختیار کرلی۔ کراچی یونیورسٹی سے بی کام آنرز مکمل کرکے میں انفیکشن کنٹرول سوسائٹی میں بطور مانیٹرنگ آفیسر مقرر ہوگئی۔

یہ وہی ادارہ تھا جہاں میری گرو بطور فیلڈ ورکر جاب کر رہی تھی۔ ایک اہم عہدے پر خواجہ سرا کا برسرِ روزگار ہونا صرف میری نہیں بلکہ میری کمیونٹی کی بھی کامیابی تھی۔ اب میں اُن کے لیے رول ماڈل تھی۔ میں نے بے شمار خواجہ سراؤں کا کراچی یونیورسٹی میں داخلہ کروایا اور انہیں حوصلہ دیا کہ اگر تعلیم حاصل کرکے میں برسرِ روزگار ہوسکتی ہوں تو وہ امید کا دامن کیوں چھوڑیں؟

2013ء میں مجھے لاہور سے خواجہ سرا سوسائٹی میں آفر ہوئی۔ اب میں گزشتہ 5 سالوں سے یہاں جاب کر رہی ہوں۔ یہ سوسائٹی مختلف ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر خواجہ سراؤں کی صحت، تعلیم، روزگار، ہنرمندی، انسانی حقوق اور خود مختاری کے پراجیکٹس پر کام کرتی ہے۔

ہم خواجہ سراؤں پر تشدد اور ان سے جنسی بدسلوکی کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان خواجہ سرا کی فلاح و بہبود کے لیے بہت اعلانات کرتی رہتی ہے لیکن عملی طور پر کام نہیں ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے خواجہ سرا کے شناختی کارڈ بننے چاہیئں۔ صد افسوس جب کوئی خواجہ سرا نادرا کے آفس شناختی کارڈ بنوانے جاتا ہے تو عملے کا رویہ انتہائی تحقیر آمیز ہوتا ہے۔ اگرچہ ٹرانس جینڈر بل سینیٹ نے پاس کردیا ہے لیکن اِس پر عمل درآمد ہونا بہت ضروری ہے۔

پڑھیے: مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

لاہور اور کراچی میں خواجہ سراؤں کی انفرادیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں خواجہ سرا ماڈل کامی سِد اور خواجہ سرا نیوز کاسٹر معاویہ ملک کو عوام میں بے حد پذیرائی ملی ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ابھی بھی خواجہ سراؤں کے لیے زمین بہت تنگ ہے۔ 2016ء سے 2018ء تک اِن صوبوں میں تقریباً 50 سے زائد خواجہ سراؤں کو تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے۔ ابھی ہمیں اپنے معاشرے میں خواجہ سراؤں کی انفرادیت کو تسلیم کروانے کے لیے بہت آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

میری اُن والدین سے گزارش ہے جن کے ہاں منفرد بچوں یعنی معذور اور مخنث بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ برائے مہربانی اپنے منفرد بچوں کی انفرادیت کو سب سے پہلے آپ خود تسلیم کریں۔ اُن کے جسمانی اور نفسیاتی مسائل کو سمجھے۔

انہیں عام بچوں کے برابر لانے کے لیے اگرچہ آپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی لیکن براہِ مہربانی انہیں چُھپا کر مت رکھیے بلکہ انہیں سوسائٹی کا حصہ بنائیے۔ ایک دن ایسا ضرور آتا ہے کہ یہ منفرد بچے اپنے والدین کا نام روشن کرتے ہیں۔


سحرش خان نے اپنی کہانی لکھاری سائرہ ایوب کو سنائی جنہوں نے اسے تحریری شکل دی۔