کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ کی یقین دہانی کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہزارہ برادری کا احتجاجی دھرنا جاری ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ملاقات پر بھی مظاہرین نے دھرنا ختم نہیں کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے باہر مجلس وحدت المسلمین کے کیمپ کا دورہ کیا تھا اور ہڑتالیوں کے رہنما اور صوبائی وزیر سید آغا رضا سے ملاقات میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

یہ پڑھیں: کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی خاتون سمیت دو افراد قتل

سید آغا رضا سمیت دیگر مظاہرین نے سیاسی رہنماؤں پر واضح کردیا کہ جب تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود کیمپ کا دورہ کرکے یقین دہانی نہیں کرائیں گے، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حکومت ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی اور دیگر شہریوں سمیت ان کی سیکیورٹی بھی یقینی بنائے گی۔

جس کے جواب میں سید آّغا رضا نے دوٹوک کہا کہ ‘ہم اپنے مطالبات اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اسمبلی کے باہر بیٹھے رہیں گے’.

اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ ‘میں اپنے لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتا، اگر انہوں (مظاہرین) نے استعفے کا مطالبہ کیا تو میں قلمدان چھوڑنے میں ذرا دیر نہیں لگاؤں گا’۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کا ہزارہ قبرستان، جہاں زندگی کا میلہ سجتا ہے

واضح رہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بیشتر حصوں میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند رہی اور ساتھ ہی احمد علی نے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے تحت احتجاجی ریلی بھی نکالی اور بلوچستان اسمبلی کے باہر دھرنا دیا۔

دوسری جانب سماجی رکن ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کی نگرانی میں ہزارہ برادری کی خواتین نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کا کیمپ بھی لگالیا۔

احتجاجی مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہزارہ براردی کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور آرمی چیف از خود بھوک ہڑتالیوں کے کیمپ کا دورہ کریں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: چرچ میں خودکش دھماکا، خواتین سمیت 9 افراد جاں بحق

ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر نے کہا کہ ‘ہم اپنی بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ کیمپ کا دورہ نہیں کرتے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کرنا روزمرہ کے واقعات کا روپ دھار چکے ہیں جس پر کسی کو فکر لاحق نہیں اور سیکیورٹی ایجنسیاں تاحال ‘ہزارہ برادری کی نشل کشی’ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہیں۔


یہ خبر یکم مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی