مشرف کی ممتا اور روتا پاکستان

ای میل

ممتا عورتوں ہی کا وصف نہیں، یہ ’وصفِ حمیدہ‘ کسی حمید بھائی میں بھی ہوسکتا ہے۔ اب اپنے پرویز مشرف صاحب ہی کو لیجیے، موصوف کے ان الفاظ میں کیسی مادرانہ شفقت جھلک اور چھلک رہی ہے، ’پاکستان رو رہا ہے کہ آؤ، مجھے بچاؤ۔‘

سُن کر وطن کی آہ و زاری

مشرف کوئی دور ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے

گرچہ کیسز سے ہوں میں ڈرا سا

یعنی اپنے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کی اشک باری نے پرویز مشرف صاحب کو تڑپا دیا، بے چین کردیا، بے تاب کردیا، اور ان کے دل سے بے ساختہ یہ صدا بلند ہوئی،

اے وطن تو نے پُکارا تو لہو کھول اُٹھا

’تیری اماں، تری جاں باز چلی آتی ہے‘

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کردیا، ’مجھے عدالتوں میں جانے میں کوئی تکلیف نہیں ہے، میں ملک واپس آؤں گا اور عدالتوں کا سامنا کروں گا۔‘

ویسے ممتا کا تقاضا تو یہ تھا کہ روتے بلکتے بچے کی آہ و فغاں سُن کر فوری پرواز پکڑی جاتی اور نزول فرمایا جاتا، لیکن یہ ممتا بڑی معاملہ فہم ہے، چنانچہ مشرف صاحب نے صرف ٹیلیفونک خطاب کے ذریعے بچے کو طفل تسلی دینے پر اکتفا کیا ہے۔

اب معترضین کھی کھی کھی کرکے مشرف صاحب کا مذاق اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ آخر پاکستان کی روتی آنکھیں پرویز مشرف ہی کی طرف کیوں اُٹھیں؟ بھئی بات بس اتنی ہے کہ مشرف صاحب بچنے بچانے کے ماہر ہیں۔ آپ نے دیکھا نہیں مقدمات سے اپنی جان بچا کر کیسے نکلے، اس سے پہلے نوازشریف کو عمر قید کی سزا میں پھنسایا اور پھر بچا کے پُھر سے اُڑادیا، کس طرح این آر او کرکے اپنے مفادات کو بچا لیا، بچانے کے فن میں یہ مہارت ہی ہے کہ پاکستان نے روتے ہوئے اُنہیں پُکارا۔

پڑھیے: باتوں کے بھوت اور ان کی اقسام

ہمیں مشرف صاحب کی اس بات پر پورا یقین ہے کہ انہیں عدالت میں حاضر ہونے میں کوئی تکلیف نہیں، لیکن کمر کی تکلیف آڑے آجائے تو وہ بے چارے کیا کریں۔ وہ تو بار بار عدالت جانے کے لیے اُٹھے، لیکن جیسے ہی اُٹھے کمر کا درد جاگ اُٹھا، اب بھیّا کسی شاعر نے کہا ہے ناں کہ،

’کمر‘ کا درد اوپر سے کہیں معلوم ہوتا ہے

کمر کا درد اوپر سے نہیں معلوم ہوتا ہے

تو جب گردشِ شمس و قمر کی طرح اپنی کمر بھی ساتھ دینے سے انکار کردے تو آدمی کیا کرے؟

اب جب انہوں نے آنے کا ارادہ باندھا ہے اور یہ کہتے ہوئے بہت کَس کے باندھا ہے کہ ’میں پاکستان کی خاطر جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوں‘، تو ہم ان سے دست بستہ عرض کریں گے کہ حضور روانگی کے لیے بستر باندھنے سے پہلے کمر کا اچھی طرح جائزہ لے لیں،

یعنی

بُرا کیا ہے باندھو اگر تیغ و خنجر

مگر پہلے اپنی کمر دیکھ لینا

دراصل سابق کمانڈو اور جنرل پاکستان آنے اور جان لُٹانے کو تیار ہوگئے ہیں تو اس کی وجہ ہرگز یہ نہیں کہ یہ انتخابات کا سال ہے، نہیں بھئی نہیں، ایک تو انہیں پاکستان کے رونے پر زور کا رونا آیا ہے دوسرا پاکستان اور اس کے غریب عوام کی حالت کا اچانک علم ہونے پر وہ بے کل ہوگئے ہیں، اب خود ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کس کَل بیٹھیں گے۔ انہوں نے بڑے دُکھ کے ساتھ کہا ہے، ’ملک میں غریب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اس کو صرف کچلا جا رہا ہے، ڈر ہے کہ کہیں وہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے لے۔‘

مشرف صاحب کو غریبوں سے بہت محبت ہے، اسی لیے وہ خود ’غریب الوطن‘ ہوگئے۔ اُن کے دورِ صدارت میں غریبوں کو جگہ دینے کے لیے کراچی میں ’چائنا کٹنگ اسکیم‘ متعارف کرائی گئی۔ اگر موصوف اقتدار میں رہتے تو ہمیں یقین ہے کہ یہ اسکیم پورے ملک میں پھیل جاتی اور غریب پاک چین راہ داری منصوبے کے بغیر ہی چائنا کٹنگ کے توسط سے تھوڑے بہت خوش حال ضرور ہوچکے ہوتے۔ اس صورتِ حال میں مشرف صاحب کا ڈر بجا ہے کہ غریب قانون ہاتھ میں نہ لے لیں، لیکن اس بات سے کوئی دل میں یہ غلط فہمی نہ پال لے کہ مشہور ’12 مئی‘ کو بھی غریبوں نے قانون ہاتھ میں لیا تھا، ارے نہیں، وہ تو قانون ہاتھ میں دیا گیا تھا اور پھر مُکے لہرا کر قانون سے دست درازی کی داد دی گئی تھی۔

پڑھیے: جاگتا اور بھاگتا ضمیر

پرویز مشرف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ پاکستان کی تمام عدالتوں، آئین اور قانون کی عزت ہونی چاہیے۔ یہ عزت کیسے ہونی چاہیے؟ اس کا سبق ہمیں ان کے عہدِ حکومت میں مل جاتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں آئین، قانون اور عدالت کو اتنی عزت دی اتنی عزت دی کہ ان کے اپنے پاس عزت ختم ہوگئی، گویا، اس ’بانٹنے‘ میں (سیّد پرویز مشرف کی) عزت سادات بھی گئی۔ استدعا ہے کہ ان کی جماعت انتخابات میں بھاری مینڈیٹ لے کر کامیاب ہوجائے اور وہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیں تو پہلے کے مقابلے میں آئین، قانون اور عدلیہ کو ذرا کم عزت دیں، کچھ اپنے لیے بھی بچا کر رکھیں۔

ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ میں امیر شخص ہوں لیکن محلوں میں نہیں رہتا۔ ان کی امارت پر کسے شبہہ ہوسکتا ہے، اور ان کی منی ٹریل بھی بالکل صاف ہے، حضرت کا سیدھا سا کاروبار تھا، پاکستان سے بندوں کی امریکا برآمد اور بدلے میں ڈالروں کی وصولی، اب اس وائٹ منی کے خلاف کون سا قانون حرکت میں آسکتا ہے؟ اور حرکت میں آیا بھی تو اس حرکت میں برکت نہیں ہوگی صرف خِفت ہوگی۔

جہاں تک تعلق ہے محلوں میں نہ رہنے کا، تو ہم نے ’چک شہزاد‘ کے درشن نہیں کیے، ہمارے خیال میں وہ 120 گز کے پلاٹ پر بنا چھوٹا سے مکان ہوگا، اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان آنے کے بعد پرویز مشرف اورنگی، ٹھوکر نیاز بیگ یا قصہ خوانی بازار کے قریب کسی 2 کمروں کے مکان کو شرف رہائش بخشیں گے۔

بہرحال جتنی جلدی ہو وہ آجائیں، پاکستان بڑی زور سے رو رہا ہے، روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں ممی مشرف جلدی آؤ، کہیں بچہ روتے روتے بھوکا ہی نہ سوجائے۔


یہ طنزیہ بلاگ ہے۔