باتوں کے بھوت اور ان کی اقسام

24 اپريل 2018

ای میل

نہ جانے وہ لوگ کہاں بستے ہیں جن کے بارے میں احمد فراز نے کہا تھا،

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفت گو کرے

جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے

ہمیں تو اپنے اِرد گرد وہ لوگ ہی نظر آتے ہیں جنہیں سخن سے دل کو لہو اور سماعت کو لہولہان کرنے کا شوق ہے۔ ہمارے ہاں باتیں کرنا ایک باقاعدہ مشغلہ اور رواج ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو ’گپ شپ‘ اور ’کچہری کرنے‘ کی دعوت دیتے ہیں اور یہ ’دعوتِ گفتگو‘ گھنٹوں پر محیط ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بات چیت کا آغاز ہی نہایت بے تکے پن سے کیا جاتا ہے، لہٰذا دورانِ گفتگو دانائی اور معقولیت کی توقع رکھنا ہی فضول ہے۔ بات چیت کی ابتداء عموماً 2 بھلے چنگے اور ہنستے مسکراتے افراد اس سوال سے کرتے ہیں:

’اور بھئی ٹھیک ٹھاک‘ یا ’خیریت سے ہو۔‘

اس کے بعد لایعنی سوالات اور بے معنی گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔

مغرب میں 2 اجنبیوں میں گفتگو کی شروعات عموماً موسم کے تذکرے سے ہوتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں جب دو ناآشنا ملتے ہیں تو خالصتاً ذاتی نوعیت کے سوالوں سے بات شروع کی جاتی ہے۔ مثلاً اپنے کاروبار کے مالک اور خاصے متمول یا نودلتیے، بھائی اچھن اور ایک فیکٹری میں ملازمت کرنے والے شبّو میاں پہلی بار ایک شادی کی تقریب میں ملے ہیں، جہاں وہ دونوں محض اس لیے ایک دوسرے سے گویا ہونے پر مجبور ہوگئے کہ کوئی تیسرا انہیں لفٹ نہیں کرا رہا۔

بھائی اچھن، (گاڑی کی چابی گھماتے ہوئے) ’آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟‘

شبومیاں، ’مصروفیات تو بڑے لوگوں کی ہوتی ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو نوکری ہی میں مصروف رہ کر زندگی گزار دیتے ہیں۔‘

بھائی اچھن، ’کہاں نوکری کرتے ہیں‘

شبو میاں، ’ایک فیکٹری میں۔‘

بھائی اچھن، ’فیکٹریوں میں تو تنخواہیں بہت کم ہیں۔ گزارا ہوجاتا ہے؟‘

شبو میاں، ’بڑی مشکل سے۔‘

بھائی اچھن، ’تو اپنا کاروبار کیوں نہیں کرلیتے؟‘

اس سوال پر شبو میاں کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور کئی مغلظات ان کے گلے تک آکر بمشکل واپس جاتی ہیں۔ وہ بھائی اچھن کے پاس سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بھائی اچھن اس شکار کو اتنی آسانی سے چھوڑنے والے نہیں۔ وہ شبو میاں کے سامنے مشوروں کا انبار لگادیتے ہیں، جن میں مختلف کاروبار کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: زیرو میٹر کہاوتیں اور محاورے

میاں اچھن کی طرح کے کردار ہمارے یہاں عام ’دستیاب‘ ہیں۔ یہ خواتین و حضرات کی وہ قسم ہے جسے دوسروں کو مشورے دینے کا جنون ہوتا ہے۔ یہ ہروقت بے تاب رہتے ہیں کہ کسی طرح دوسروں کے مسائل جان لیں، تاکہ انہیں حل کرنے کے لیے کوئی نادر و نایاب مشورہ دیا جاسکے، بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگوں کو مسائل میں مبتلا دیکھیں اور ان مسائل کا حل تجویز کریں۔

اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے یہ لوگ دوسروں کے دل و دماغ، یہاں تک کہ کپڑوں میں جھانکنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اگر آپ کہیں ان کے سامنے کھانس دیں تو یہ ذرا سی دیر میں آپ کے لیے لاتعداد حکیمی، ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک ادویات تجویز کردیں گے۔ اِدھر آپ نے ان کے روبہ رو اپنی مالی پریشانی کا تذکرہ کیا اور اُدھر یہ کسی ماہرِ معاشیات کی طرح آپ کی معیشت سدھارنے کے فارمولے پیش کرنے لگے۔ ان خواتین و حضرات کے بارے میں ہم آج تک یہ طے نہیں کرسکے ہیں کہ یہ صرف باتوں کے لیے مشوروں کی پٹاری کھول دیتے ہیں یا مشورے دینے کے لیے گفتگو فرماتے ہیں!

باتونی خواتین و حضرات کی کئی اقسام ہیں۔

پہلی قسم

ان میں سے ایک تو نادر و نایاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ، ’باتیں کریں اور باتوں سے خوش بو آئے۔‘ ان کا شائستہ انداز تکّلم، منتخب الفاظ، آواز کا زیروبم اور معلومات سے پُر گفتگو ’وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘ کا نمونہ ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہمارے یہاں دن بہ دن کم ہوتے جارہے ہیں، چنانچہ ان سے کلام کا موقع قسمت والوں ہی کو ملتا ہے۔ اس قسم کو ’کیا خوب متکّلم‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔

دوسری قسم

اس کے برعکس دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں صرف بولنے سے غرض ہوتی ہے۔ انہیں ’باتوں کے بھوت‘ قرار دینا مناسب ہوگا۔ یہ خواتین و حضرات ہر روز صبح اٹھتے ہی الفاظ کی ایک بھاری تعداد متعین کرلیتے ہیں اور ٹھان لیتے ہیں کہ لفظوں کا یہ بوجھ کسی کی سماعت میں انڈیل کر ہی رہیں گے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کیا کہنا ہے، کس سے کہنا ہے اور کیوں کہنا ہے؟ انہیں تو بس کچھ نہ کچھ کہنا اور اپنے لیے باتوں کا مختص کردہ کوٹا کسی نہ کسی طرح ختم کرنا ہوتا ہے۔ یہ جب بولنے پر آتے ہیں تو خدا کے روکے سے ہی رکتے ہیں ورنہ نوالہ، ہچکی، ڈکار، کھانسی اور سننے والے کی بے زاری سمیت کوئی چیز ان کی گفتگو میں خلل نہیں ڈال سکتی۔

جب یہ کھانا کھاتے ہوئے محوِکلام ہوں تو ان کی تیزی سے چلتی زبان 2 دھاری تلوار کا کام کررہی ہوتی ہے۔ اس طرح ایک طرف تو وہ آپ کی سماعت کو زخمی کررہی ہوتی ہے اور دوسری طرف لعاب میں تر نوالے کے چھوٹے چھوٹے اجزاء تیروں کی طرح آپ کے منہ پر برسا رہی ہوتی ہے۔

ان کی چرب زبانی، بلاتوقف کلام، بے معنی گفتگو اور دورانِ گفتگو سخت اور بھونڈے الفاظ کی بھرمار سننے والے کو مسلسل کرب میں مبتلا رکھتی ہے۔ لیکن وہ کسی مجبوری کی وجہ سے یہ سمع خراشی برداشت کرتا ہے اور کچھ بھی اس لیے نہیں بول پاتا کہ ’باتوں کے بھوت‘ دوسرے کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ اگر اس باتونی گروہ کے لوگ عالمی سیاست کے نشیب و فراز، مقامی سیاست کے تغیرات، ادب کے رجحانات اور معیشت کے اتار چڑھاؤ جیسے علم افزاء موضوعات پر تقریر جھاڑ رہے ہوں، تب بھی گوارا ہے، مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ’باتوں کے بھوتوں‘ کے پاس الفاظ اور وقت بے حساب، لیکن موضوعات نہایت محدود اور پست معیار کے ہوتے ہیں۔ مثلاً کھانا، عزیز و اقارب کے معاملات، دوست احباب کے نجی حالات اور دفتری سیاست!

مزید پڑھیے: پاکستانی سب جانتے ہیں

یہ انہی کی صلاحیت اور مہارت ہے کہ ایسے محدود موضوعات پر بات چیت کا گھنٹوں پر محیط مواد نکال لیتے ہیں، گویا کوزے سے دریا برآمد کرلیتے ہیں۔

تیسری قسم

باتونی طبقے کی تیسری قسم وہ ہے جس کی ہر بات ’میں‘ سے شروع ہوکر ’میں‘ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اگرچہ ’باتوں کے بھوتوں‘ کے مقابلے میں ان خواتین و حضرات کا ذخیرہ معلومات خاصا وسیع اور ان کے موضوعات متنوع ہوتے ہیں، لیکن ان کی گفتگو میں ان کی ذات اس طرح چھائی ہوتی ہے کہ ہر موضوع ان کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بڑے بڑے دعوے، اپنی ذات کے حوالے سے ایسے قصے جن میں یہ خود نمایاں ہوں اور اپنے منہ میاں مٹھو بننا اس گروہ کے بنیادی اوصاف ہیں۔ یہ قسم ’بڑبولے‘ کے نام سے معروف ہے۔

چوتھی قسم

چوتھی قسم بھی پہلی 2 اقسام سے کچھ کم نہیں، بلکہ ان سے 2 ہاتھ آگے ہی ہے۔ اس گروہ کے لوگوں کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، سو وہ لمبی لمبی ہانک کر کام چلاتے ہیں۔ یہ خواتین و حضرات تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں، خصوصاً واقعات تخلیق کرنے میں تو انہیں خصوصی مہارت حاصل ہوتی ہے۔ آپ ان کے سامنے کسی بھی نوعیت کا اور کیسا ہی منفرد واقعہ بیان کریں، وہ اس سے ملتے جلتے واقعات کی لائن لگادیں گے۔

مثال کے طور پر اگر آپ نے قدرت کا یہ کرشمہ بیان کیا کہ آپ کے کوئی دوست 3 منزلہ عمارت سے گر کر محفوظ رہے تو قسم مذکورہ سے تعلق رکھنے والے صاحب یا صاحبہ سے آپ کو کم از کم 4 سے 5 ایسے قصے سننا پڑیں گے، جن میں ان کا کوئی دوست، عزیز یا محلے دار اونچائی سے گرکر ’جسے اﷲ رکھے اسے کون چکھے‘ کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا، اور تو اور عمارت کی اونچائی بھی ہر واقعے کے ساتھ ایک منزل اوپر ہوتی جائے گی۔ یہ گروہ ’پھینکو‘ اور ’چھوڑو‘ کہلانے کا حق دار ہے۔ ’ارے یہ تو کچھ بھی نہیں‘ یہ اس گروہ سے متعلق خواتین و حضرات کا مخصوص جملہ یا ابتدائیہ ہے۔ اس جملے کے بعد یہ آپ کے بیان کردہ واقعے سے کہیں زیادہ سنگین یا رنگین داستان سناتے ہیں۔

مثلاً آپ نے کہا، ’میں ایک زمانے میں روزانہ 3 کلومیٹر پیدل چلتا تھا‘ اور ادھر سے دعویٰ سامنے آیا، ’ارے یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میں تو چند سال پہلے ہر روز کم ازکم 10 کلومیٹر کی مسافت پیدل طے کرتا تھا۔‘ آپ نے بات آگے بڑھائی،’اب تو چند قدم چلنا بھی دوبھر ہے۔‘ ادھر سے کہا جائے گا، ’ارے یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میں تو بستر سے بھی سائیکل کے ذریعے اترتا ہوں۔‘ دراصل ان اصحاب کو جوابی دعوے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ بولتے پہلے ہیں اور سوچتے بہت بعد میں ہیں۔

ہمارے ایک دوست ’تصدیق خان مصدقہ‘ بھی باتونیوں کے پھینکو ’فرقے‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم ان کی ہانکنے کی عادت اور جوابی دعوے کی روش سے عاجز آچکے تھے۔ ایک روز ہم نے انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ بات چیت کے دوران ہم نے اچانک یہ ’بریکنگ نیوز‘ جاری کی،

’بھئی ہمارے ایک عزیز، شادی کے 6 ماہ بعد ہی باپ بن گئے۔‘

اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے جوش اور جانے کس ’پِنَک‘ میں تصدیق صاحب فوراً بولے،

’ارے یہ تو کچھ بھی نہیں، ہمارے والد صاحب تو شادی سے 6 ماہ پہلے ہی مرتبہ پدری سے سرفراز ہوگئے تھے۔‘

اس حماقت کے ساتھ ہی وہ چونکے اور پھر جھینپ اور گھبرا کر ہم پر بگڑنے لگے کہ آپ بہت جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں بھی جواباً دروغ گوئی پر مجبور کردیتے ہیں۔ وہ بولتے رہے اور ہم ان کی بے بسی اور ’مجبوری‘ پر ہنستے رہے۔


باتونیوں کی کوئی بھی قسم ہو، یہ ان کا مشترکہ وصف ہے کہ یہ کسی دوسرے کو بولنے نہیں دیتے۔ اگر انہیں اپنی کم علمی کے باعث چپ رہنے پر مجبور ہونا پڑے تو وہ اس مجبوری سے سمجھوتا نہیں کرتے، بلکہ گفتگو پر جھپٹّا مار کر اسے اپنے محدود علمی دائرے میں لے آتے ہیں اور پھر کھل کر کھیلتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ’اردو اپنا قومی کھیل‘

ہمارے ایک واقف ’چپ شاہ خاموش‘ گفتگو جھپٹ لینے کے فن کے ماہر ہیں۔ موصوف کو باتوں کا اس قدر شوق ہے کہ سوتے میں بھی بولتے ہیں۔ جس محفل میں جاتے ہیں اسے اپنی سمع خراشی سے بے زار اور درہم برہم کرکے ہی واپس آتے ہیں۔ اہلِ محفل لاکھ کوشش کریں کہ چپ شاہ خاموش کو بولنے کا موقع نہ دیا جائے، مگر موصوف موقع اچک ہی لیتے ہیں۔ وہ وقت ان پر قیامت بن کر گزرتا ہے جب کسی محفل میں ذی علم حضرات تاریخ و ادب، نثر و نظم یا فلسفے کی کسی بحث میں الجھے ہوں۔ ایسے میں یہ حضرت بمشکل ضبط کیے شرکائے محفل کے منہ تکتے رہتے ہیں اور دل ہی دل میں گفتگو میں کود پڑنے، بلکہ چھلانگ لگانے کی ترکیب سوچ رہے ہوتے ہیں۔

ایسی ہی ایک محفل میں چپ شاہ صاحب کے ساتھ ہم بھی موجود تھے۔ شرکاء محفل غالب کے کلام پر محو کلام تھے، نت نئی موشگافیاں ہورہی تھیں، اشعار غالب کے نئے نئے مفہوم نکالے جارہے تھے، نکتہ آفرینی کا سلسلہ زوروں پر تھا، اور بے چارے چپ شاہ ’صُم بُکم‘ خود پر ضبط اور پھڑکتے ہونٹوں اور تڑپتی زبان کو بمشکل قابو کیے بیٹھے تھے۔ یکایک ان کے پھڑکتے ہونٹوں اور تڑپتی زبان کو قوت گویائی کے جوہر دکھانے کا موقع مل گیا۔ ہوا یوں کہ ایک صاحب نے کوئی نکتہ بیان کرنے کے لیے بہ طور مثال یہ شعر پڑھا،

ہے خبر گرم ان کے آنے کی

آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

یہ شعر پڑھ کر ان صاحب نے نکتہ آفرینی کے لیے ذرا توقف کیا، بس پھر کیا تھا، چپ شاہ کے تسلسل کلام کے لیے یہ وقفہ کافی تھا۔ اُدھر وہ صاحب شعر سنا کر رکے اور اِدھر یہ کانوں میں چبھتی آواز میں شروع ہوگئے،

’یہ بڑا تاریخی نوعیت کا شعر ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب کے دور میں اس قدر غربت اور منہگائی تھی کہ وہ محبوب کو کھانا کھلانے کے لیے آٹے کی ایک بوری کا بندوبست بھی نہ کرسکے۔ آج بھی منہگائی کا یہی عالم ہے اور تو اور ٹِنڈے اور بِھنڈیوں کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے، بیگم کہنے لگیں ایک کلو ٹنڈے لادیں۔ میں نے کہا، اچھا ذرا نہالوں پھر لاتا ہوں۔‘

اس کے بعد انہوں نے اپنے نہانے کے بہانے شہر میں قلت آب کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ 10 منٹ تک پانی کی کمی پر بولنے کے بعد قصہ اپنے بازار جانے، سبزی فروش سے تکرار اور ٹِنڈے لانے کا اس وضاحت اور طوالت سے بیان کیا کہ سننے والے غالب کو بھول بھال ٹنڈوں کے تذکرے میں کھوگئے۔ یوں ہم نے پہلی بار کلام غالب سے ٹنڈے برآمد ہونے کا روح فرسا منظر دیکھا اور دل تھام کر رہ گئے۔ اس وقت تو ہماری یہ کیفیت تھی کہ محفل کا منظر یوں لگ رہا تھا جیسے ’ٹِنڈا سا ہو‘ پیرہن ہر پیکر تصویر کا!

باتونی طبقہ عام افراد ہی پر مشتمل نہیں، بلکہ سیاست داں اور حکمراں بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں آپ کی نظروں سے گزرتی رہتی ہوں گی،

’بزم ہنگامہ پرور کے سربراہ مخنچو بڑبولے نے اخبار نویسوں سے گفت گو کرتے ہوئے کہا‘

یا یہ کہ،

’یہ بات حکمراں جماعت کے راہ نما گویم مشکل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔‘

ان خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلِ سیاست کو بات چیت کا کتنا شوق ہے۔

اور تو اور، ہمارے یہاں تو شاعر حضرات بھی کسی گوشہ عافیت میں بیٹھ کر فکر سخن کرنے کی لگن رکھنے کے بجائے گفتگو کے شایق نظر آتے ہیں۔ حکیم مومن خان مومن ہی کو لیجیے۔ فرماتے ہیں،

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

اس شعر کی آسان تشریح یہ ہوئی،

’یوں تو میرے پاس ہروقت کوئی نہ کوئی ہوتا ہے جس سے میں باتوں میں مگن رہتا ہوں۔ لیکن کبھی کبھار جب تنہائی میسر آجائے تو تخیل میں تم سے گفتگو شروع کردیتا ہوں۔‘

ہمارے دوست دانا ہوشیار پوری ہماری اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شعر تو مومن کی باتوں سے بے زاری کا آئینہ دار ہے۔ دانا صاحب اس شعر کی تفہیم یوں کرتے ہیں،

’بھئی! کیا مصیبت ہے؟ دوسرے ہر وقت میرا سرکھاتے رہتے ہیں اور جب ان سے نجات ملتی ہے تو تم گویا ہوجاتی ہو۔ چلو، ہٹو، دفع دور۔‘

دانا صاحب کچھ بھی کہیں ہمیں اپنی تشریح ہی پر اصرار ہے، بلکہ ہمارا تو کہنا ہے کہ ایک مومن کیا تقریباً سارے شاعر ہی باتیں بگھارنے پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں۔

مثلاً ایک شاعر آرزو مند ہے کہ رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوش بو آئے۔

ان کا دل انسانوں کی گفتگو سے نہیں بھرا تو اب رنگوں کو قوت گویائی ملنے کے لیے دعا گو ہیں۔ اسی طرح میر تقی میر کی سنیے۔ فرماتے ہیں

سرہانے میر کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے

روتے روتے سو گئے ہیں، مگر خواہش ہے کہ کوئی سرہانے بیٹھ کر آہستہ آہستہ بولتا رہے۔ گویا یہ حضرت محوِخواب ہونے کی وجہ سے خود نہیں بول سکتے تو دوسرے کی ڈیوٹی لگادی کہ خبردار! ’نوائس پولوشن‘ میں کمی نہ آنے پائے۔

مزید پڑھیے: جاگتا اور بھاگتا ضمیر

بھئی میر صاحب! اگر آپ کو خاموشی درکار تھی تو آہستہ بولنے کی تاکید کرنے کے بجائے ڈپٹ کر کہتے،

(اگر سر پر ہی سوار رہنا ہے تو)

’سرہانے میر کے چپ چاپ بیٹھو‘

ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے

فیض صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت کم گو تھے، لیکن دوسروں کو وہ بھی یہی ہدایت فرماگئے ہیں،

’بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے‘

ان کے اس مصرعے سے باتونی خواتین و حضرات کو مزید شہ مل گئی ہے اور انہیں جب بھی سمجھایا جائے کہ بھئی! تھوڑا کم بولا کرو تو فوراً پلٹ کر جواب دیتے ہیں،

’آپ کون ہوتے ہیں ہمیں چپ کرانے والے؟ ہمیں فیض صاحب وصیت کرگئے ہیں، بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے! سو ہم تو بولے جائیں گے۔ کرلو جو کرنا ہے۔‘

کاش، فیض صاحب بولنے کی ہدایت یوں فرماجاتے:

’بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے، لیکن میرے منے، میرے لال، میرے بچے! دوسروں کے کانوں کو اپنی آواز کا پابند نہ کر، بول، خوب بول، مگر جو بولنا ہے اکیلے میں بول!‘

تو ہم جیسے کم سخن مگر سماعت پر مجبور لوگوں کی مشکل آسان ہوجاتی۔