ریلوے نقصان میں کیوں ہے؟

اپ ڈیٹ 06 مئ 2018

ای میل

ایلون مسک کی الیکٹرک کار اور توانائی اسٹور کرنے والی کمپنی ٹیسلا نے 2017ء کی چوتھی سہہ ماہی میں 675.4 ملین ڈالر کا خسارہ ظاہر کیا ہے۔ 2016ء میں بھی کمپنی نے اسی دورانیے میں 121 ملین ڈالر کا نقصان ظاہر کیا۔ کیا یہ ایک سو موٹو نوٹس لینے کے لیے ایک بہترین کیس نہیں؟ کیا ایلون مسک سے پوچھا نہیں جانا چاہیے کہ کیا چل رہا ہے؟

جن لوگوں کو اس ٹیکانولجی کی گہری سمجھ ہے جس پر ٹیسلا کام کر رہی ہے، وہ جانتے ہیں کہ نقصان کمپنی کی صحت کا درست اشاریہ شاید نہ ہو۔ اوباما انتظامیہ نے ماحول دوست ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے لیے ٹیسلا کو 465 ملین ڈالر کا قرضہ فراہم کیا اور کمپنی اصل قرضہ بمعہ سود واپس کر چکی ہے۔

پر اگر یہ پاکستان ہوتا تو ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکتا تھا۔

بیوروکریٹس قرضہ جاری ہونے سے پہلے ہی اس کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر چکے ہوتے اور اصل ٹیکنالوجی پر صرف کچھ حقیر سی رقم لگائی جاتی۔ پر اگر سارا کام اصول پسندی سے ہوتا تب بھی سہہ ماہی نقصانات کے بارے میں چند ایک میڈیا رپورٹس پر سو موٹو نوٹس لے لیا جاتا، اور پھر حکمِ امتناع جاری ہوتے ہی ساری پیش رفت مکمل طور پر ٹھپ ہوجاتی۔

پڑھیے: رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں پاکستان ریلوے کو 20 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان

خسارے میں چلنی والی ایک کمپنی کی کایا پلٹنے کے لیے کیا درکار ہوتا ہے؟ بہت ساری منصوبہ بندی، بہت ساری محنت، اور وقت۔ ہاں، بہت سارا وقت۔ پاکستان ریلویز اربوں روپے کا خسارہ ظاہر کر رہی ہے اور حال ہی میں چیف جسٹس نے ریلویز کی ٹیم کو خساروں کی توجیہہ دینے کے لیے کہا۔ ہندوستان کے سابق وزیرِ ریلوے لالو پرساد یادیو کے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان کے دور میں ملک کے ریلوے نظام کی مکمل تبدیلی کا حوالہ دیا گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تبدیلی بھی راتوں رات نہیں آئی تھی۔ لالو پرساد کے تحت ہندوستانی ریلوے میں آنے والی تبدیلی کا قریبی جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ بہت ساری پالیسیاں پہلے ہی ان کے پیشرو نتیش کمار قائم کر چکے تھے، اور لالو پرساد کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے ان پالیسیوں کو جاری رکھا۔

معاملات کو حد سے زیادہ سادگی سے دیکھنا اچھی گورننس کے لیے ہلاکت خیز ہے، خاص طور پر جب بات پاکستان ریلویز جیسے بڑے اداروں کی انجینیئرنگ اور انتظامی مسائل کی ہو۔ ہر کسی کو ایک ہی عینک سے دیکھنے سے پہلے بہت ساری چیزوں کو مدِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اگر ہم غیر جانبداری سے اشاریوں کو دیکھیں تو گزشتہ چند سالوں میں پاکستان ریلویز نے اچھا کام کیا ہے۔ مگر ہم یہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ سول سرونٹس جو کم تنخواہوں کے باوجود پہیے چلائے رکھتے ہیں، ان سے عدالتوں میں سب سے بڑے مجرموں کے جیسا سلوک کیا جاتا ہے، چاہے وہ سیاسی بادشاہوں کی عدالتیں ہوں یا نظامِ انصاف کی عدالتیں۔

انہیں مسلسل عتاب کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: سپریم کورٹ کا ریلوے خسارہ آڈٹ رپورٹ 6 ہفتے میں پیش کرنے کا حکم

کیا پاکستان ریلویز کی انتظامیہ اضافی ملازمین کو فارغ کر سکتی ہے؟ اگر ایسا کیا گیا تو کیا ایک اور سو موٹو ایکشن لیا جائے گا؟ کیا انتظامیہ ریلوے کی زمین فروخت کر کے نفع کو ادارے کی ترقی کے لیے استعمال کر سکتی ہے؟ کیا پاکستان ریلویز غیر منافع بخش روٹس اور عید کی کم کرایوں والی خصوصی ٹرینیں بند کر سکتی ہے؟ کیا انتظامیہ صرف مال گاڑیوں پر توجہ رکھ سکتی ہے، اور قانون پاس کروا سکتی ہے کہ چوں کہ اوور لوڈ ٹرکوں کی وجہ سے سڑکیں تباہ ہو رہی ہیں اس لیے سامان کی ترسیل کے لیے صرف ریلوے کا استعمال کیا جائے؟

راتوں رات تبدیلی کی توقع کرنے کا مطلب یہی ہے کہ آپ کو ادارے کے سائز کا انداز نہیں۔ کیا عدلیہ سے تمام زیرِ سماعت مقدمات چند ماہ میں نمٹانے کی توقع کی جا سکتی ہے؟

ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہوگا اور مسئلہ یہیں ہے۔ انصاف کی سست فراہمی پر تنقید کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے حال ہی میں وضاحت کی کہ قانونی مرحلوں کو تیز تر بنانے کے لیے قانون سازی سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انہی حدود کا اطلاق دوسرے محکموں پر بھی ہوتا ہے۔

حکومتی محکموں کی آڈٹ رپورٹس کی رپورٹنگ میں میڈیا کا کردار مددگار کے بجائے نقصان دہ رہا ہے۔ سنسنی خیز رپورٹنگ حقائق پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ آڈٹ اعتراضات زیادہ تر طریقہ کار پر ہوتے ہیں۔ اربوں روپے کی بے ضابطگی کا مطلب یہ نہیں کہ یہ واقعتاً کرپشن ہی ہے۔ اگر آڈیٹرز کا خیال نہ رکھا جائے تو آڈٹ اعتراض ضرور اٹھتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر محکمے کو 10 نئی گاڑیاں ملی ہیں تو ایک گاڑی ڈائریکٹر آڈٹ کو ضرور جانی چاہیے ورنہ آڈٹ اعتراض اٹھاتے ہوئے تمام کی تمام گاڑیاں غیر قانونی قرار دے دی جائیں گی۔ پرانے زمانے کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ کو ختم کر کے اب بڑے سرکاری اداروں کا آزاد اداروں کے ذریعے آڈٹ کروانا چاہیے کیوں کہ ان کا طریقہ کار زیادہ شفاف، پروفیشنل، اور بروقت ہوتا ہے۔ تب تک کے لیے آڈٹ اعتراضات کو حتمی نہیں ماننا چاہیے۔

جانیے: ریلوے اراضی اسکینڈل: ‘سابق چیف’ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ

پاکستان ریلویز کا منافع اور اخراجات کا تناسب (آپریٹنگ ریشو) 12-2011ء میں 203.59 فیصد سے کم ہو کر 17-2016ء میں 124.92 فیصد ہو گیا ہے، یعنی اب اخراجات کے منافع سے زیادہ ہونے میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ یہ حقیقی طور پر معاملات کے درست سمت میں ہونے کا اشارہ ہے۔ راتوں رات تبدیلی کی توقع کرنے کا مطلب یہی ہے کہ آپ کو ادارے کے سائز کا اندازہ نہیں۔ کیا عدلیہ سے تمام زیرِ سماعت مقدمات چند ماہ میں نمٹانے کی توقع کی جا سکتی ہے؟

آخری بات یہ کہ کبھی کبھی کئی حکومتی محکموں کے محنتی افسران سے جس طرح عدالتوں میں پیش آیا جاتا ہے، اس سے سول سروس کے نوجوان افسروں کے لیے بہت کم فائدہ رہ جاتا ہے۔ نوجوان نسل بالکل مختلف نسل ہے، وہ اختیارات کے بجائے صلاحیت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہنرمند افراد کے ساتھ گوتھم سٹی کے بیٹ مین کی طرح نہیں پیش آنا چاہیے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 30 اپریل 2018 کو شائع ہوا۔