خضدار کے رہائشی *امیر علی کی خوشیوں بھری زندگی میں اس وقت غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جب اسے پتہ چلا کہ ان کے بچے ایک ایسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں جس کا علاج انتہائی مشکل، مہنگا اور پریشان کردینے والا ہے اور اسے اب ہر ماہ لازمی طور پر اپنے بچوں کے لیے خون کا انتظام کرنا ہوگا۔

تھیلیسیمیا سے بچنا ہے تو شادی سے پہلے ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

جب امیر علی کی شادی ہوئی تو اس وقت ان کی عمر 22 سال تھی اور وہ اپنی زندگی سے مطمئن کافی تھے۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد جب ان کے ہاں بیٹی کی صورت میں پہلی اولاد کی ولادت ہوئی تو زندگی میں خوشیوں نے دستک دی مگر وہ خوشیاں چند ہی روز کی مہمان ثابت ہوئیں، کیونکہ امیر علی کی بیٹی ساجدہ صرف 9 ماہ کی عمر میں اللہ کو پیاری ہوگئیں۔

معلوم ہوا کہ وہ بچی تھیلیسیمیا میجر کے مرض میں مبتلا تھی، ان کے گاؤں میں علاج معالجے اور صحت سے وابستہ دیگر مناسب سہولتیں نہ ہونے کے باعث بچی کی درست تشخیص نہیں ہوپائی جس وجہ سے امیر علی کو معلوم ہی نہ چل سکا تھا کہ ان کی بیٹی کیا مرض تھا اور اُس کا علاج کیا ہے؟

کچھ عرصہ بعد ان کے ہاں دوسری بیٹی شاہدہ کی پیدائش ہوئی جو بالکل نارمل تھی۔ شاہدہ کے بعد تیسری بیٹی زاہدہ کی ولادت ہوئی، پیدائش کے 4 مہینے بعد جب زاہدہ کمزور اور بیمار نظر آنے لگی، تو امیر علی اسے کراچی لے کر آئے، جہاں ان کی بیٹی میں تھیلیسیمیا کی تشخیص ہوئی، اور انہیں بتایا گیا کہ انہیں ہر ماہ بچی کے جسم میں نیا خون منتقل کرانا پڑے گا۔

پڑھیے: موروثی بیماریوں کے خاتمے میں اہم پیش رفت

یہ معلوم ہوتے ہی امیر علی کی پریشانی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس دن سے لے آج تک امیر علی ہر ماہ خضدار سے کراچی کا سفر اس آس پر طے کرتا ہے کہ خون کی منتقلی اس کے بچوں کی زندگی کی ڈور ٹوٹنے نہیں دے گی۔ مگر افسوس امیر علی اسی تگ ودو میں اب تک اپنے 4 بچے گنوا چکا ہیں۔ امیر علی کے 11 بچے تھے جن میں سے 6 بچوں کو تھیلیسیمیا میجر تھا۔ تھیلیسیمیا کی وجہ سے ان کے 4 بچوں کا انتقال ہوچکا ہے۔

جبکہ امیر علی کے 2 بچے زیرِ علاج ہیں، جس کے لیے انہیں مہینے میں 4 بار 8 سے 10 گھنٹوں کا سفر طے کرکے خضدار سے کراچی آنا پڑتا ہے، یہ سفر انتہائی کٹھن اور تھکادینے والا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں صرف ایک امیر علی ہی نہیں جنہیں اس قدر دشواریوں کا سامنا ہے بلکہ ان جیسے کئی لوگ ہیں جو اپنے بچوں کے علاج اور ان کے خون کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔

تھیلیسیما والدین سے اولاد میں منتقل ہونے والا خطرناک مرض ہے، اس میں مبتلا بچوں کی زندگی کا دارومدار جسم میں خون کی منتقلی پر ہوتا ہے۔ جن بچوں کو تھیلیسیمیا میجر ہوتا ہے ان کے والدین کے لیے ہر گھڑی آزمائش اور ہر لمحہ امتحان سے کم نہیں ہوتا۔

امیر علی کے 2 بچے زیر علاج ہیں، جس کے لیے انہیں مہینے میں 4 بار 8 سے 10 گھنٹوں کا سفر طے کرکے خضدار سے کراچی آنا پڑتا ہے، یہ سفر انتہائی کٹھن اور تھکادینے والا ہوتا ہے۔

8 مئی کو تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک، بالخصوص دیہی علاقوں میں اس موذی مرض کے حوالے سے لوگ زیادہ آگاہی نہیں رکھتے۔ اس مہلک بیماری کے خاتمے کے لیے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

تھیلیسیما دراصل خون کی ایک جینیاتی بیماری ہے، جس میں خون کے خلیے جسمانی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی مناسب مقدار سپلائی کرنے کے قابل نہیں رہتے، جس کی وجہ سے خون کی مقدار جسمانی ضرورتوں کو پورا نہیں کرپاتی کیونکہ Bone Marrow نارمل طریقے سے خون کے سرخ خلیے تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، لہٰذا دل اور دیگر جسمانی اعضاء خون کی کمی کے باعث کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

پڑھیے: تھیلیسیمیا کا شکار دس بچے ایڈز میں مبتلا

تھیلسیمیا کے مریضوں میں خون کے سرخ خلیے کم تعداد میں بنتے ہیں اور ہیموگلوبین کی مقدار ضرورت سے کم ہوتی ہے، ہیموگلوبین خون کے سرخ خلیوں کا فولادی پروٹین ہے جو جسم کے تمام حصوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ فاضل گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے، جہاں سے وہ سانس کے ذریعے اسے جسم سے خارج کردیتا ہے۔ تھیلیسیمیا کا مریض پوری زندگی اس بیماری کا شکار رہتا ہے، یہ بیماری مرد و عورت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

اس بیماری کی 2 اقسام ہیں، تھیلسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا میجر۔ یہ دونوں اقسام ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری (بغیر جنسی تعلقات کے) ایک سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوسکتی۔ تھیلیسیمیا کی دونوں اقسام صرف اور صرف والدین سے ہی بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، اگر والدین میں سے صرف والد یا والدہ تھیلیسیمیا مائنر ہو تو بچوں میں صرف تھیلیسیمیا مائنر کی منتقلی ہوتی ہے، یہ چانس ہر حمل میں 50 فیصد ہے، ایسی شادی کے نتیجے میں ان بچوں میں سے کچھ کو تو تھیلیسیمیا مائنر ہوسکتا ہے جبکہ کچھ بچے نارمل رہتے ہیں۔

ان نارمل بچوں میں تھیلیسیمیا مائنر یا میجر منتقل نہیں ہوگا۔ تھیلیسیمیا چاہے مائنر ہو یا میجر یہ پیدائش کے وقت موجود ہوتا ہے مگر یہ پیدائش کے بعد کسی حالت میں بھی نہیں لگ سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ تھیلیسیمیا مائنر تاحیات مائنر ہی رہتا ہے اور تھیلیسیمیا میجر ہمیشہ میجر ہی رہتا ہے، یہ ایک دوسرے میں کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو تھیلیسیمیا مائنر لاحق ہوتا ہے انہیں وہ تھیلیسیمیا کا مریض کہنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ اکثر و بیشتر ان افراد میں اس کی علامات بالکل نظر نہیں آتی۔ ان میں تھیلیسیمیا کی تشخیص خون کے ایک خاص ٹیسٹ (Hemoglobin electrophoresis) کے ذریعے ہوتی ہے۔

اگرچہ تھیلیسیمیا مائنر میں مبتلا لوگ بذاتِ خود تو تندرست ہوتے ہیں، لیکن یہ مرض ان کی آئندہ نسلوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ‘کیرئیر’ بھی کہا جاتا ہے۔

تھیلیسیمیا مائنر میں اکثر و بیشتر بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ ایسے افراد عام طور پر بالکل تندرست نظر آتے ہیں اور ان کو اس مرض میں مبتلا ہونے کا احساس نہیں ہوتا، پھر یہی بے خبری صورتحال کو بے حد خطرناک بنا دیتی ہے، کیونکہ اگر 2 تھیلیسیمیا مائنر افراد بے خبری میں آپس میں شادی کرلیں تو انہیں مستقبل میں تلخ تجربات کا سامنا ہوتا ہے، اور ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد کو تھیلیسیمیا میجر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس بات کا ادراک انتہائی ضروری ہے کہ ظاہری صحت تھیلیسیمیا سے پاک ہونے کی قطعی ضمانت نہیں ہے۔ اس مرض سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ 2 تھیلیسیمیا مائنر سے متاثرہ افراد آپس میں شادی نہ کریں۔ یہ عمل معاشرے کو تھیلیسیمیا میجر سے پاک کرسکتا ہے۔

پڑھیے: تھیلیسمیا کے مریض کی خواہش پوری

کئی ملکوں میں میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے بغیر شادی کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 5 فیصد آبادی، یعنی ایک کروڑ پاکستانی اس مہلک بیماری کے جین رکھتے ہیں، اور ہر سال تقریباً 5 ہزار بچے تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ایسی موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شادی سے قبل تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ لازمی کروایا جائے۔

ملک میں اس مرض کے حوالے سے کم علمی، فرسودہ روایات اور مناسب معلومات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مرض پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے بلکہ الٹا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں بچوں میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔ ملک میں اب بھی خون کا ٹیسٹ کرائے بغیر شادیوں کی وجہ سے یہ مرض کافی تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی طرف سے شادی سے پہلے لازمی تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کرانے کا قانون نافذ ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی یا نظر انداز کرنے کے بجائے اس کے نفاذ اور عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ کل کوئی دوسرا امیر علی یوں اپنے جگر کے ٹکڑوں سے محروم نہ ہوسکے۔ آئیے تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے عالمی دن پر اس موذی مرض کو شکست دینے کا عزم کریں۔