پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے 57 فیصد زائد

اپ ڈیٹ 09 مئ 2018

ای میل

اسلام آباد: ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی تعداد اصل گنجائش سے 57 فیصد زائد ہے اور اس وقت ملک میں کل قیدیوں کی تعداد کا دو تہائی حصہ ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے یا پھر ٹرائل کا انتظار کر رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ تعداد 27 فیصد ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)، انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) اور کرسر ڈیولپمنٹ اینڈ ایجوکیشن (کوڈ) پاکستان کی جانب سے تیار کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ان کے لیے ناپسندیدہ حالات زندگی کی صورت میں سامنے آرہی ہے، جس کے باعث قیدی اور جیل کے عملے میں مختلف امراض اور دیگر مسائل پھیل رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: '9 ہزار سے زائد پاکستانی 100 ممالک کی جیلوں میں قید'

رپورٹ میں کچھ سفارشات پیش کی گئی ہیں، جنہیں فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کے 8 سب سے زیادہ بھرے ہوئی جیلوں میں صحت کے بڑے بحران سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کچھ سفارشات پیش کی گئیں، جن میں جیلوں میں قیدیوں کے کوارٹرز کو ہوا دار بنانا اور روزانہ ہر قیدی کے لیے 10 سے 15 لیٹر پانی کا حصول لازمی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ ان 8 سب سے زیادہ بھرے ہوئی جیلوں میں اصل گنجائش کے مقابلے میں 300 سے 500 فیصد زائد قیدیوں کی تعداد موجود ہے۔

رپورٹ میں یہ سفارشات بھی دی گئیں کہ پینے کا پانی مناسب کنٹینرز میں دستیاب ہو تاکہ ہر وقت اس تک رسائی ممکن ہو، اس کے علاوہ مناسب غذا ہو جو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کی جائے، بیت الخلاء کی کافی تعداد ہو جبکہ دن کے اوقات میں کھلی فضاء تک رسائی ممکن ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو تمام طبی سہولیات کی فراہمی سمیت جیلوں میں ایمرجنسی انخلاء کی موجودگی اور قیدیوں کی تعداد کی نگرانی بھی کی جائے۔

رپورٹ میں طویل مدتی سفارشات کے بارے میں بتایا گیا کہ فلاح و بہبود کی خدمات، گھر کے لیے مدد، ملازمت اور دیگر چیزوں کے ذریعے سماجی و معاشی پسماندگی کم کرنے میں مدد کی جائے، اس کے علاوہ بچوں کو محفوظ کرنے کی ذمہ داری کے لیے ان کی جرم کی عمر کا جائزہ لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: گوانتاناموبے جیل میں پاکستانی کی قید غیر قانونی قرار

قلیل مدتی سفارشات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسے اقدامات کو یقینی بنایا جائے جس میں خواتین اور بچوں کو سزا سے قبل قید سے دور رکھا جائے۔

اس حوالے سے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر احسان غنی خان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ لوگ کئی دہائیوں سے سزا سے قبل یا خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے جیلوں میں قید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کیسا محسوس ہوگا کہ اگر ہم میں سے کسی کے ساتھ ایسا ہو؟ کیونکہ اس وقت 66 فیصد ایسے قیدی بغیر سزا کے جیلوں میں موجود ہیں جبکہ عالمی سطح کے مقابلے میں یہ شرح 27 فیصد ہے، تاہم نیکٹا کے پاس اس حوالے تحقیقات کرنے کی تجویز ہے تاکہ لوگ غیر ضروری طور پر حراست میں نہ رہیں۔