کراچی: پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کے کارکنان کے خلاف شہر قائد میں 3 مقدمات درج کرلیے گئے۔

یہ مقدمات سرکار کی مدعیت میں تھانہ منگھوپیر، بن قاسم اور شاہ لطیف میں درج کیے گئے اور ان میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے خلاف خطاب اور الزامات لگائے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان خلیج بڑھنے لگی

ایف آئی آر کے متن کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان اسلحے کے زور پر مطالبات منوانے کے لیے نعرے لگوائے اور خوف و ہراس پھیلایا۔

یو ایس ٹی بنوں میں منظور پشتین کے داخلے پر پابندی

دوسری جانب بنوں میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( یو ایس ٹی ) نے پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کرنے والے منظور پشتین کے داخلے پر پابندی لگاتے ہوئے جامعہ کے اسٹاف ممبر اور طلباء کے لیے مخصوص ٹوپی پہننا ممنوع قرار دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جامعات میں پشتون تحفظ موومنٹ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور ان کے ماننے والوں کے درمیان منظور پشتین کی ثقافتی مزاری ٹوپی کو اتحاد اور امن کی علامت سمجھا جانا یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کی انتظامیہ کےلیے تشویش ناک تھا، جس کے باعث انہوں نے اس مخصوص ٹوپی کو نسلی تقسیم اور سیاسی بیان کی نشانی قرار دیا۔

تاہم کچھ روز قبل جاری ہونے والے نوٹفکیشن میں یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ کس چیز کو ممنوع قرار دیا گیا اور ان ہدایات کی خلاف ورزی پر اسٹاف ممبر اور طلباء کو کیا سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی انتظامیہ کی جانب سے 4 مئی کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’ ایسی تمام سرگرمیاں جو سماجی/نسلی تقسیم کو بڑھاوا دیں یا کوئی بھی ایسی چیز جو ریاست پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو، اس پر جامعہ میں پابندی ہے‘۔

اس ٹوٹیفکیشن میں تخریبی سرگرمیوں سے متعلق مزید واضح کیا گیا کہ ’ اسٹاف ممبر اور طلباء کی جانب سے اس طرح کے پمفلٹ کی تقسیم یا مخصوص ٹوپی پہننا ممنوع ہے اور ایسی صورتحال میں فوری طور پر اطلاع دی جائے‘۔

جامعہ کی جانب سے جاری اس نوٹیفکیشن میں تمام ڈپارٹمںٹ کے سربراہ، چیئرمین، منتظم اور ہوسٹل وارڈن کی جانب سے دستخط کیے گئے۔

جامعہ کی انتظامیہ جانب سے خبر دار کیا گیا کہ ’ گومل یونیورسٹی کے سابق طالب علم منظور پشتین کا یو ایس ٹی بنوں سمیت ہاسٹل تک میں داخلہ بند ہے اور اگر جامعہ میں داخلے کے لیے طلباء یا اسٹاف ممبر کی جانب سے کوئی مدد کی گئی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ملوث فرد کو فوری طور پر جامعہ سے نکال کر اس کا داخلہ ختم کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشتون تحفظ موومنٹ سے مذاکرات کیلئے حکومت کی کوششیں تیز

اس تمام صورتحال پر جب یو ایس ٹی بنوں کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر جاوید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر طلباء کا ایک گروپ ایک مخصوص پوشاک پہنے گا تو اس سے تقسیم کا عنصر جنم لے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن وائس چانلسر سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا، کیونکہ علاقے میں پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیاں متوقع ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس حوالے سے خطرات ہیں اور وہ اپنے طلباء کو اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے سکتی کیونکہ جامعات میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ جامعہ کی حدود میں طلباء کو اس طرح کی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے ہم نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا، تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کا براہ راست منظور پشتین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔