پارٹی کے سینئر ارکان کی وفاداریوں میں تبدیلی پر نواز شریف پریشان

اپ ڈیٹ 12 مئ 2018

گجرات: جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑنے کے بعد جماعت کو وسطی پنجاب میں بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے اور گجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے 2 ایم این ایز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گجرانوالہ میں کاموکی سے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر رانا نذیر احمد، ان کے صاحبزادے ایم این اے رانا عمر نذیر اور ڈسٹرکٹ کونسل گجرانوالہ کے وائس چیئرمین عامر نذیر نے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہتے ہوئے تحریک اںصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔

اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رکن قومی اسمبلی میاں طارق محمود نے بھی جماعت کی علاقائی سیاست میں دستگیر خاندان کا اثر و رسوخ بڑھنے پر وفاداری تبدیل کرلی تھی۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کا الزام:'نیب کے عمل سے نواز شریف کو بہت فائدہ پہنچا'

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے قریبی سمجھے جانے والے رانا نذیر اور ان کے بیٹے رانا عمر نذیر نے جمعرات کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔

تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ رانا نذیر کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کو دھوکا دیا گیا ہو، اس سے قبل 2002 کے انتخابات میں بھی وہ مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے تھے، بعد ازاں وہ دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں واپس آئے تھے اور انہوں نے 2008 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی جبکہ 2013 میں ان کے بیٹے عمر نذیر مسلم لیگ کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے۔

اس حوالے سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ایم این اے عمر نذیر کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان اختلافات 2016 کے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر اس وقت شروع ہوئے جب گجرانوالہ زیڈ سی چیئرمین کی نشست کے لیے ان کے چھوٹے بھائی عامر نذیر کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔

انہون نے کہا کہ زیڈ سی کی نشستوں پر اکثریت کے باجود پارٹی کی جانب سے دوسرے ایم این اے اظہر قیوم اور سابق رکن اسمبلی مدثر قیوم کے بھائی کو نامزد کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بعد میں نے پارلیمان میں کسی معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی حمایت نہیں کی اور سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کے بعد نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے کے قانون میں ترمیم کے معاملے پر بھی حمایت نہیں کی تھی۔

2 سابق ارکان اسمبلی تحریک انصاف میں شامل

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف میں سیاستدانوں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے اور دو سابق رکن اسمبلی نیلوفر بختیار اور شاہد بھٹو نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی۔

دونوں ارکان اسمبلی اپنے دور میں وزراء رہ چکے ہیں، نیلوفر بختیار سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت میں وفاقی وزیر رہی ہیں جبکہ شاہد بھٹو پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں وزیر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جاوید ہاشمی نے نواز شریف کو ایک بار پھر قائد قبول کرلیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ برسوں قبل تک مسلم لیگ (ن) کی وومن ونگ میں سرگرم رہنے والی نیلوفر بختیار نے گزشہ ماہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سے ملاقات کی تھی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

تاہم گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کے بعد انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔

ادھر شاہد بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے 2013 کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا تھا اور آئندہ انتخابات میں ان کے حلقے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد انہوں نے تحریک اںصاف میں شمولیت اختیار کی۔

تبصرے (1) بند ہیں

Rana ghulam mustafa May 12, 2018 12:56pm
Abhi tu game shuru hui hai!