حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دیے گئے سابق ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں بریت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل چلانے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 4 مئی کو عمران خان کی مقدمے سے بریت کی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایف آئی آر میں خاص کردار کے ساتھ ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

عدالت میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان کا جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں مگر ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں بغیر ٹرائل بریت کی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ سنایا۔

مزید پڑھیں:ایس ایس پی تشدد کیس: عمران خان کو بری کردیا

حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ، انسداد دہشت گردی کے 4 مئی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر عمران خان کے خلاف قانون کے مطابق ٹرائل چلانے کا حکم جاری کرے۔

یاد رہے 2014 میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے یکم ستمبر کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی تھیں۔

حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام کے تحت انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ اور سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر حملے سیمت سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔

مزید پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کو طلب کرلیا

پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔

بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے مسلسل پیش نہ ہونے کے باعث عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ورانٹ گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ 14 نومبر 2017 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس سمیت چار مقدمات میں ضمانت منظور کی تھی۔