پشاور: متعدد مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ماضی کی طرح انتخابات سے قبل لوگوں پر دباؤ ڈال کر وفاداریاں تبدیل کرانے کا حربہ ترک کردینا چاہیے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ اب بھی لوگوں کو ایک مخصوص جماعت میں شمولیت کے لیے مجبور کررہی ہے۔

لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ گزشتہ 7 دہائیوں سے یہی حربے استعمال کررہی ہے، اسٹیبلشمنٹ نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو کامیاب کرانے کے لیے کنوینشن لیگ بنائی اور اسی طرح ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بھی اِنہی پالیسیز پر عمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ایم اے کی بحالی میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا الزام مسترد

انہوں نے الیکشن کمیشن اور عدلیہ پر زور دیا کہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب کہ عام انتخابات قریب آچکے ہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور ایک مخصوص جماعت میں شمولیت کے لیے لوگوں کو مجبور کرنے میں مصروف ہے جبکہ یہ چالیں ہمارے قومی مفاد میں نہیں۔

اس موقع پر لیاقت بلوچ نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی طرح کی الجھن سے بچنے کے لیے نگران وزیراعظم کے نام کا اعلان جلد کردیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جب لیاقت بلوچ سے نواز شریف کی جانب سے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات پر کمیشن بنانے کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے شخص کو جو 3 مرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہو بیانات دیتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: متحدہ مجلس عمل بحال: مولانا فضل الرحمٰن صدر منتخب

اس کے ساتھ انہوں نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی بھی مذمت کی جس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے سبب 60 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی یروشلم میں سفارت خانہ منتقل کرنے پر تنفید کا نشانہ بنایا۔

اس حوالے سے انہوں نے ترکی کے ان اقدامات کی تعریف کی جس میں ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلانے اور اسرائیلی فوج کی جارحیت پر گفتگو کے لیے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن یا اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس بلانے کی درخواست دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات کی باقاعدہ تحقیقات کی جانی چاہیے تا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں سے اتحاد میں شمولیت کے لیے رابطے میں ہے، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم ایم اے آئندہ انتخابات میں اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ مجلس عمل: ’اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ کالعدم جماعتوں کا اتحاد‘

اپنی گفتگو میں انہوں نے مزید بتایا کہ متحدہ مجلس عمل، الیکشن کمیشن میں روایتی انتخابی نشان کتاب کے لیے درخواست جمع کرائے گی، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں خیبرپختونخوا ایم ایم اے کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے اور ہم رمضان میں اور اس کے بعد بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم ایم اے رمضان کے دوران قرآن کانفرنس اور افطار پارٹی کا اہتمام کرے گی جبکہ عید کے بعد پشاور، کراچی، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں ریلییوں کا انعقاد کیا جائے گا اور کراچی کے لیے ٹرین مارچ بھی نکالا جائے گا۔

انہون ںے دعویٰ کیا کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد نے سیکیولر عناصر کو پریشان کردیا ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 17 مئی 2018 کو شائع ہوئی