انتخابات 2018: کیا نوجوان سیاسی منظرنامے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں؟

25 مئ 2018

ای میل

اسلام آباد: رواں سال ہونے والے انتخابات میں تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ نوجوان انتخابات کے نتائج تشکیل دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد، جس میں اکثریت سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے، وہ آن لائن پروپیگنڈے کے ہتھیار کو استعمال کر کے نہ صرف رائے دہندگان پر اثرانداز ہوسکتی ہے بلکہ اگر نوجوان انتخاب کے دن بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے نکل پڑیں تو انتخابی حلقوں کا نقشہ تبدیل کرسکتے ہیں۔

اس حوالے سے سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ اعداد شمار کے مطابق، جنہیں بعد میں ڈان نے خصوصی طور پر مرتب کیا، 18 سے 25 سال کی عمر کے رائے دہندگان کی تعداد ایک کروڑ 74 لاکھ 40 ہزار، 26 سے 35 سال کی عمر کے رائے دہندگان کی تعداد 2 کروڑ 89 لاکھ 90 ہزار جبکہ 36 سے 45 سال عمر کے رائے دہندگان کی تعداد 2 کروڑ 24 لاکھ 80 ہزار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے حتمی انتخابی فہرستیں شائع کر دیں

مذکورہ اعداد و شمار میں 18 سے 25 سال کےافراد کو نوجوان ووٹرز کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

جن میں 25 سال سے کم عمر کے 1 کروڑ 74 لاکھ 40 ہزار ووٹرز میں سے 1 کروڑ 1 لاکھ 30 ہزار رائے دہندگان کا تعلق پنجاب سے، 31 لاکھ 10 ہزار کا تعلق سندھ سے، 27 لاکھ 70 ہزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے، 7 لاکھ 74 ہزار کا تعلق بلوچستان سے، 5 لاکھ 58 ہزار کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور 1 لاکھ 17 ہزار نوجوانوں کا تعلق اسلام آباد سے ہیں۔

جبکہ 26 سے 35 سال کے 2 کروڑ 89 لاکھ 90 ہزار میں سے 1 کروڑ 60 لاکھ 90 ہزار افراد کا تعلق پنجاب سے، 61 لاکھ 70 ہزار کا تعلق سندھ، 44 لاکھ 90 ہزار کا تعلق خیبرپختونخوا، 12 لاکھ 30 ہزار کا تعلق بلوچستان، 77 لاکھ 60 ہزار کا فاٹا اور 20 لاکھ 80 ہزار کا تعلق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ہے۔

اسی طرح 36 سے 45 سال کی عمر کے افراد میں سے ایک کروڑ 28 لاکھ 30 ہزار افراد کا تعلق پنجاب، 51 لاکھ 30 ہزار افراد کا تعلق سندھ، 30 لاکھ افراد کا تعلق خیبرپختونخوا، 8 لاکھ 84 ہزار افراد کا تعلق بلوچستان، 4 لاکھ 66 ہزار افراد کا تعلق فاٹا جبکہ 1 لاکھ 56 ہزار افراد اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اگر آپ رجسٹر ووٹر نہیں تو یہ جاننا بہت ضروری ہے

اعداد و شمار کے مطابق 45 سے 55 سال کی عمر کے 93 لاکھ 80 ہزار افراد کا تعلق پنجاب، 35 لاکھ 30 ہزار افراد کا تعلق سندھ، 21 لاکھ 30 ہزار کا تعلق خیبر پختونخوا، 6 لاکھ 34 ہزار افراد اک تعلق بلوچستان، 3 لاکھ 35 ہزار افراد کا تعلق فاٹا جبکہ ایک لاکھ 19 ہزار افراد اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی طرح 56 سے 66 سال کی عمر کے افراد کی تعداد پنجاب میں 60 لاکھ 30 ہزار، سندھ میں 21 لاکھ 70 ہزار، خیبرپختونخوا میں 14 لاکھ 90 ہزار، بلوچستان میں 3 لاکھ 96 ہزار، فاٹا میں 2 لاکھ 18 ہزار اور اسلام آباد میں 84 ہزار 312 ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ووٹرز رجسٹریشن کیلئے حتمی تاریخ میں توسیع کی جائے گی؟

اس کے علاوہ ملک کی آبادی میں ایک کروڑ 60 لاکھ افراد 66 سال سے زائد عمر ہیں جس میں پنجاب سے 63 لاکھ افراد، سندھ سے 21 لاکھ 70 ہزار افراد، خیبرپختونخوا سے 14 لاکھ 90 ہزار افراد، بلوچستان سے 4 لاکھ 1 ہزار افراد، فاٹا سے ایک لاکھ 65 ہزار افراد جبکہ 80 ہزار 2 سو 28 افراد اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس ضمن میں 2013 کے انتخابات کے لے مرتب کیے گئے ووٹرز کے اعدادوشمار کے مطابق ان کی کل تعداد 8 کروڑ 61 لاکھ تھی جس میں 25 سال سے کم عمر ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 75 لاکھ، 26 سے 35 سال کی عمر کے 2 کروڑ 42 لاکھ، 36 سے 45 سال کے ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 72 لاکھ، 46 سے 55 سال کی عمر کے ایک کروڑ 20 لاکھ ووٹر، 56 سے 65 سال کی عمر کے 84 لاکھ افراد جبکہ 66 سے زائد عمر کے افراد کی تعداد67 لاکھ افراد تھی۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 25 مئی 2018 کو شائع ہوئی