شوروم سے احد چیمہ کی ’پوشیدہ لگژری کار اور 1 کروڑ 45 لاکھ روپے‘ برآمد

اپ ڈیٹ 29 مئ 2018

ای میل

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاہور جیل روڈ پر واقع شوروم میں چھاپہ مار کر مبینہ طور پر لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل احد خان چیمہ کی لگژری کار اور 1 کروڑ 45 لاکھ روپے برآمد کرلیے۔

نیب حکام کے ذرائع نے بتایا کہ نیب ٹیم نے آشیانہ ہاوسنگ اسکیم اسکینڈل کے حوالے سے جاری تحقیقات کے دوران ایک شوروم میں چھاپہ مارا اور 1 کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کی پراڈو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے 1 کروڑ 45 لاکھ روپے نقد بھی برآمد کی جو احد چیمہ نے مبینہ طور پر چھپا رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لیگی حلقوں میں احد چیمہ کی گرفتاری پارٹی کیلئے ‘سازش’ قرار

خیال رہے کہ 21 فروری کو نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حلقے میں ہلچل مچ گئی تھی۔

واضح رہے کہ احد چیمہ قائد اعظم تھرمل پاور لیمٹڈ کے سربراہ ہیں اور لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل پر تعینات رہے ان کی گرفتاری کے اگلے ہی روز انہیں 19 سے 20 گریڈ پر ترقی دی گئی تھی۔

اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ احد چیمہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ‘منظور نظر’ افراد میں شامل ہیں جو تین ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: احد چیمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

دوران تحقیقات نیب احد چیمہ کے قبضے سے کروڑوں مالیت کی 90 کنال اراضی کا ریکارڈ نکال چکی ہے جو احد چیمہ نے غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی تھی اور ساتھ ہی نیب ان کے اہل خانہ کے اثاثہ جات کی چھان بین کررہی ہے۔

18 مئی کو تفتیشی افسر حافظ عثمان نے بتایا تھا کہ ملزم احد چیمہ کی اہلیہ صائمہ احد کے نام 21 کینال،4 مرلہ کی زمین پیراگون میں خریدی گئی، اس زمین کی کل مالیت 7 کروڑ روپے ہے۔

اس حوالے سے نیب حکام نے مزید بتایا کہ ‘احد چیمہ کے لاہور سوسائٹی میں بھی 40 کروڑ روپے کے شیئرز بھی موجود ہیں’۔

واضح رہے کہ نیب نے وزیراعظم کے سیکریٹری فواد حسن فواد کو اسکینڈل سے متعلق دوبارہ طلب کیا تھا۔

یہ پڑھیں: وزیرداخلہ احسن اقبال نے احد چیمہ کی گرفتاری کو مسلم لیگ (ن) کے لیے سازش قرار دیا تھا۔

قومی اسمبلی اسپیکر ایاز صادق نے بھی احد خان چیمہ کی گرفتار کو متنازع قرار دیا تھا اور اپیل کی کہ ’نیب چیئرمین لوگوں کو اس طرح توہین کرنے سے گریز کریں، نیب کے اعمال سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ساستدانوں اور بیوروکریٹس کو اپنا انتقامی ہدف بنا چکا ہے تاہم تمام ریاستی اداروں کو متعین کردہ آئینی دائروں میں رہ کر فرائض ادا کرنا چاہیے‘۔


یہ خبر 29 مئی 2018 کو ڈان اخبارمیں شائع ہوئی