‘تجارتی مذاکرات کے دوران امریکا نے پابندی لگائی تو نتائج برے ہوں گے‘

اپ ڈیٹ 04 جون 2018

ای میل

بیجنگ: چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر تجارتی مذاکرات کے دوران چینی مصنوعات پر ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو بات چیت کی تمام ترکوششوں کو لاحاصل سمجھا جائے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کی سرکاری نیوز ایجنسی پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘اگر امریکی حکومت نے اقتصادی پابندی بشمول ٹیکس میں اضافہ کرنے کا سوچا تو اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے لیے دو طرفہ تمام کوششیں ناکارہ ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: چینی مصنوعات کی درآمدات پر 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد

واضح رہے کہ 22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات کی درآمدات پر تقریباً 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد چین نے انتقاماً 128 امریکی مصنوعات پر درآمد ڈیوٹی میں 25 فیصد تک اضافہ کردیا تھا۔

تاہم دونوں جانب سے اقتصادی جنگ کو روکنے کے لیے بیجنگ میں جاری مذاکرات کا تیسرا دور گزشتہ روز اختتام پذیر ہوا۔

امریکی وفد کی نمائندگی کامرس سیکریٹری ولبر روس اور چین کی جانب سے نائب وزیراعظم لیوہی کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین پاکستانی مصنوعات کیلئے اپنی منڈی فراہم کرے: سرتاج عزیز

اس حوالے سے بتایا گیا کہ امریکا نے چین کو کہا ہے کہ وہ زراعت اور توانائی کے شعبوں میں اپنی درآمدات میں اضافہ کرے، جسے چین نے ‘مثبت پیش رفت’ قرار دیا تاہم مذاکرات کے تمام امورپر ‘حتمی فیصلے’ کا تاحال انتظار ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ چینی سرمایہ کاری اور ایکسپورٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے پابندیاں عائد کرے گا اور 50 ارب ڈالر مالیت کی چینی ٹیکنالوجی پر 25 فیصد ٹیکس نافذ کرے گا۔

دوسری جانب امریکی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے فیصلے سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

اس حوالے سے بیجنگ نے خبردار کیا کہ تجارتی جنگ روکنے کے لیے’ مذاکراتی عمل میں تمام تر پیش رفت‘ رائیگاں ہو جائیں گی۔

یہ پڑھیں: چین کا جوابی اقدام: امریکی مصنوعات کی درآمد پر محصولات عائد

چین نے دھمکی دی کہ اگر امریکا نے کوئی بھی اقتصادی پابندی یا ٹیکس نافذ کرنے کی بات کی تو نتیجے میں اس کو بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

بیجنگ نے موقف اختیار کیا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بعض جائز تحفظات کے بعد گاڑیوں اور روز مرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس کم کیا گیا ہے۔

چینی وفد کے سربراہ نے بتایا کہ ‘بعض درآمدی اشیاء کے حوالے سے امور زیر بحث آئے تاہم مذاکرات انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئے’۔


یہ خبر 4 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی