نواز شریف کی عدم پیشی پر اصغر خان کیس کی سماعت ملتوی

اپ ڈیٹ 06 جون 2018

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف کی عدم پیشی پر ایک گھنٹے کے اندر کمرہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تاہم نواز شریف اور ان کے وکیل کی مقررہ وقت میں عدم پیشی پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس کی سماعت 12 جون تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 2 جون کو اصغر خان عملدرآمد کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، عابدہ حسین سمیت 21 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے۔

ٰیہ بھی پڑھیں: اصغر خان کیس: نواز شریف،سابق ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر افراد کو نوٹس جاری

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیس سے تعلق رکھنے والے کتنے لوگ عدالت پہنچے ہیں؟

عدالت کو بتایا گیا کہ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی جبکہ خورشید شاہ کی جانب سے ان کے وکیل اعتزاز احسن موجود ہیں۔

جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ اس کیس سے متعلق تمام افراد کو ہر حال پیش ہونا پڑے گا اور نواز شریف جہاں کہیں بھی ہیں ایک گھنٹے کے اندر عدالت پہنچیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف کو بھی طلبی کا نوٹس بھیجا تھا، ٹی وی چینلز پر ٹکرز بھی چلے اور اخبارات کی لیڈ اسٹوری بھی یہی تھی۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیئے گئے مقررہ وقت کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا نواز شریف آگئے ہیں؟’

جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نوازشریف اپنے وکیل کے ذریعے پیش ہوں گے اور وہ اپنے وکیل کا بندو بست کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘نواز شریف خود نہیں آنا چاہتے تو وکیل بھیج دیں’۔

بعدازاں عدالت نے نواز شریف کو وکیل کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 12 جون تک ملتوی کردی۔

عدالت میں جاوید ہاشمی اور اسلم بیگ کا مکالمہ

جاوید ہاشمی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ‘انہوں نے پیسے کا کوئی لین دین نہیں کیا، یہ الزام ہے، جسے قطعی رد کرتا ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود نوٹس جاری کیا گیا۔

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ‘نیب کو بھی یہی بتایا تھا اوراب عدالت نے طلب کیا تو بس میں بیٹھ کر اسلام آباد پہنچا ہوں‘۔

مزید پڑھیں: اصغر خان کیس: کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر چیف جسٹس برہم

اعتزاز احسن نے موقف اختیار کیا کہ ‘خورشید شاہ کو نوٹس ہوا مگر ان کا اس کیس میں نام نہیں ہے’۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے فوجی افسران کا معاملہ آرمی کو ہی سونپ دیا ہے جبکہ کیس میں سویلین کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) دیکھ رہا ہے۔

چیف جسٹس نے اسلم بیگ سے کہا کہ ‘فوجی افسران کا معاملہ آرمی کے حوالے کردیا گیا ہے اس لیے وہ جا سکتے ہیں’۔

اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ ‘1996 میں میرا مقدمہ فوج کو بھیجا گیا تھا اور اس وقت کے آرمی چیف نے میرا مقدمہ چلانے سے انکار کر دیا تھا‘۔

انہوں چیف جسٹس سے استدعا کی کہ ‘میرا مقدمہ آپ سنیں’، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘آپ ایف آئی اے کی تفتیش میں شامل ہو جائیں، ہمارا مقصد کسی کی تضحیک کرنا نہیں‘۔

مجھے اس کیس میں 5 سال قید کی سزا ہوئی، جاوید ہاشمی

عدالت عظمیٰ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا کہ ‘ہم اصغر خان وقوعہ کے متاثرہ ہیں، مجھے اس الزام میں مقدمہ چلائے بغیر 5 برس تک جیل میں ڈالا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘5 سال بعد نیب نے فیصلہ دیا اور وہاں بھی تحقیقات ایف آئی اے نے کی تھیں’۔

اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!

سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، مقدمے کی رو سے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا گیا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی شامل تھے۔

مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔

بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔

یہ پڑھیں: وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدر میں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے مقدمات کی تیاری کرے۔

جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔

اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئر مارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔

اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جو رواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے 3 رکنی بینچ نے اصغر خان کیس کی نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا، اب تک فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس کیس میں نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے، چناچہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

اس حوالے سے 10 مئی کو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ یہ کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں قائم کی گئی اور اسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔