ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے وعدے، من گھڑت دعوے، غلط بیانیاں، دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، انتہا پسندی پر قابو، کرپٹ حکمرانوں کا احتساب اور سب سے بڑھ کر ’عوام کی خدمت‘۔

یہ سیاسی جماعتوں کے وہ گھسے پٹے اور بلند و بانگ انتخابی نعرے ہیں جو ہر 5 سال بعد عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ روزانہ رات نیوز چینلز پر بزرگوں سے جُھک کر ملتے، برآمدوں میں چارپائیوں پر چوکڑیاں مار کر بیٹھے اور تپتی گرمی میں جسم سے چپٹے سفید شلوار قمیض میں شرابور دکھائی دیتے ہیں، لیکن اگر کہیں نہیں دکھتے تو اس عوام کے پاس جس نے اپنے ووٹوں کی طاقت سے اُنہیں اسمبلی تک پہنچایا تھا۔

لیکن مجال ہے کہ مفاد پرست رہنماؤں کو سر آنکھوں پر بٹھائے آگے پیچھے چلتے عوام حکومت ختم ہونے کے بعد واپس اپنے علاقوں میں آنے والے نمائندوں سے سوال کر لیں کہ جنابِ والا، آپ تو 5 سال پہلے بھی وعدوں کا ٹوکرا اُٹھائے یہیں کہیں گھوم رہے تھے، اور جب ہم نے بھروسہ کرتے ہوئے آپ کو منتخب کیا تو آپ تو ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

عوام کی بدقسمتی کہیں یا جمہوریت پسندوں کی خوش قسمتی، لیکن اگلے عام انتخابات پھر سے ہونے کو ہیں۔ لیکن ایک بار پھر ووٹ دینے والے عوام سے یہاں میں کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں، اور امید بھی رکھتا ہوں کہ مجھے جلد ان سوالات کے جواب مل جائیں گے۔

پہلا سوال

ماضی میں کس کو ووٹ دیا تھا؟ اور کیا جن وعدوں پر یقین کرکے ووٹ دیا گیا تھا، کیا وہ وعدے پورے ہوگئے؟

اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ جو نمائندے گزشتہ انتخابات میں وعدے کر کے اسمبلی تک پہنچے، لیکن ان وعدوں پر عمل کیے بغیر پھر وہی وعدے لے کر ووٹ لینے آئے ہیں تو سمجھ جائیں ایسے لوگ اس بار بھی آپ کا کام نہیں کریں گے، لہٰذا اب کی بار ووٹ دیتے وقت اس حوالے سے خاص خیال رکھیں اور صرف انہی لوگوں کو ووٹ دیں جو منتخب نہ ہونے کے باوجود آپ کے علاقے میں ہی موجود رہے۔ اختیارات نہ ہونے کے باوجود اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق مسائل کے حل کے لیے کوشش کرتے رہے۔

پڑھیے: لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدوں اور دعوؤں میں کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

لیکن اگر اس مرتبہ بھی آپ نے وعدہ خلافی کرنے والوں کو ہی ووٹ دیا تو آپ کم از کم مظلومیت کی صدائیں لگانے کا حق تو نہیں رکھتے۔

معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں رہنماؤں، وزیروں اور مشیروں نے عوام کو ہر 5 سالوں بعد ووٹ ڈالنے کے لیے پال رکھا ہے اور عوام بھی ایسے سادہ ہیں کہ ہر 5 سال بعد پرانی لالی پاپ نئی پیکنگ میں لے کر ووٹ ڈال دیتے ہیں، لیکن بتدریج نئی سنہری پیکنگ میں لپٹی لالی پاپ کڑوے اور بدمزے پن کا احساس دلانے لگتی ہے۔ لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے کیوں کہ عوام کے اپنے منتخب کردہ نمائندے عوام کے ساتھ ہاتھ کرچکے ہوتے ہیں۔

دوسرا سوال

ووٹ ڈالنے سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھتے ہیں؟

کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آنے سے پہلے جو وعدے کرتی ہے، کیا کبھی کسی نے پورے کیے ہیں؟

کیا ووٹ ڈالتے وقت کبھی آپ نے سوچا ہے کہ نواز لیگ نے تو لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تحریک انصاف نے تو وعدہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کو بدل کر رکھ دیں گے۔ شہید بھٹو کے نام پر دہائیوں سے سندھ میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں گے۔

70 سالوں میں کیے گئے یہ وعدے اگر آدھے بھی پورے ہوئے ہوتے تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔

اس بار ووٹ کس کو دیا جائے؟

اگر اس سوال کا جواب میں خود دوں تو میں ووٹ اس لیے ڈالتا ہوں کہ مجھے کامل یقین ہے کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔ لیکن اہم سوال بہرحال یہی ہے کہ اس بار ووٹ کس کو دیا جائے؟

مزید پڑھیے: سیاسی جماعتوں کو ملنے والے انتخابی نشان اور انکے پیچھے چھپی کہانی

میں تو کم از کم ووٹ ڈالتے وقت یہ ضرور دیکھوں گا کہ 2013ء کے انتخابات میں، میں نے جس کو ووٹ دیا تھا اس کی کارکردگی گزشتہ 5 سالوں میں کیسی تھی؟ کیا جو وعدے اس نے کیے تھے وہ پورے ہوئے یا پھر اقتدار پر رہنے کے باوجود وہ کچھ نہ کرسکا اور ایک بار پھر اگلے 5 سالوں تک اقتدار میں رہنے کے لیے ووٹ مانگا جارہا ہے۔

اس موقع پر خیال آیا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ اب کی بار حکومت ملی تو بھاشا ڈیم بھی بنائیں گے اور کراچی میں میٹرو بس بھی چلائیں گے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ پچھلے 5 سال کے دوران وفاق میں کس کی حکومت تھی؟

اسی طرح عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ اگر وفاق میں حکومت ملی تو 100 دنوں میں ملک کی قسمت بدل دیں گے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ ایسا انہوں نے پختونخوا میں کیوں نہیں کیا؟

پاکستان میں آج بھی لوگ ووٹ ذات برادری، کورٹ کچہری، تھانے کے معاملات اور ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر دیتے ہیں۔ کوئی شخص ووٹ ایک مخصوص امیدوار کو اس لیے دیتا ہے کہ اس امیدوار نے اس کے بیٹے کو سرکاری نوکری دلوائی ہوتی ہے، پھر چاہے وہ امیدوار کسی بھی پارٹی میں آتا جاتا رہے۔

کوئی ووٹر اپنے ہم ذات سے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے ووٹ دیتا ہے۔ کوئی تھانوں میں درج پرچوں سے جان چھڑوانے کی وجہ سے اور کوئی نمبردار، تحصیل دار یا کورٹ کچہری کی مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کی وجہ سے ووٹ دیتا ہے اور کوئی اپنے سیاسی و روحانی گدی سے تعلق رکھنے والے کو۔

پاکستان کے موجودہ حالات کی وجوہات چند تجزیہ کاروں کے نزدیک مندرجہ بالا ہیں، جن کا ماننا ہے کہ جب تک عوام اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ووٹ دیتے رہیں گے، ملک کی تقدیر بدلنے والی نہیں۔

اس خیال سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ مسئلہ لوگوں سے زیادہ برسرِ اقتدار آنے والی حکومتوں کا ہے۔ یہ حکومتیں پورا سال تو کچھ نہیں کرتی جس کی وجہ سے غریب مزید غریب ہوجاتا ہے، اور جب ووٹ لینے کا وقت آتا ہے تو اُس مجبور غریب کو تھوڑا سا فائدہ دے کر اپنے حق میں قائل کرلیا جاتا ہے۔ یہ وہ سائیکل ہے جو ناجانے کب سے چلتا آرہا ہے اور ناجانے کب تک چلتا رہے گا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیلی تو ووٹ کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی لازم ہے کہ ووٹرز میں تبدیلی آئے۔ تبدیلی تب آئے گی جب ہر ووٹر ووٹ ڈالنے سے پہلے سوچے کہ وہ کسی خاص جماعت کو ووٹ کیوں ڈال رہا ہے؟ کیا وہ اپنے ذاتی مقاصد یا مفادات کی خاطر تو کسی خاص نمائندے یا جماعت کو ووٹ نہیں دے رہا؟ ووٹ ڈالتے وقت اگر لوگ یہ طے کرلیں کہ وہ آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو ووٹ دینے کی بجائے اس بار ووٹ ذاتی پسند ناپسند پر نہیں، بلکہ ملکی مفاد اور مستقبل کی خاطر دیں گے تو محض ان کی زندگی ہی بہتر نہیں ہوگی، بلکہ یہ ملک بھی ترقی کرسکتا ہے، کیونکہ موجودہ حکمرانوں (وفاق میں یا صوبوں میں) سے امید وابستہ رکھنے سے تو بہتر ہے کہ آپ کشمیر کی آزادی کی امید لگا لیں۔

جانیے: تبدیلی آئے گی، مگر توقع کے برخلاف

پاکستان میں حقیقی تبدیلی کے لیے لازم ہے کہ حکمرانوں سے امیدیں لگانے کے بجائے عوام اپنے آپ کو بدلیں۔ ذات، برادری اور اثر و رسوخ کے ہاتھوں دہائیوں سے یرغمال انتخابی عمل کو بدلیں۔ بریانی کی پلیٹ اور قیمے والے نان کی خاطر ووٹ دینے والی سوچ کو بدلیں۔ میرٹ کے بجائے سفارش کے ذریعے نوکریاں حاصل کرنے کی عادت کو بدلیں۔ پولیس اور کورٹ کچہری سے رعایت حاصل کرنے کے بجائے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اجتناب کریں۔

اگر یہ سب کچھ نہیں کرسکتے تو رمضان کے مہینے میں سال کے سال مسلمان ہوتے ہوئے اس حدیث مبارکہ پر ہی غور کرلیں کہ ‘تمہارے حکمران تمہارے اعمال کا ہی نتیجہ ہیں‘۔

لہٰذا عوام حکمرانوں کو گالیاں اور بُرا بھلا کہنے کے بجائے اپنے اعمال ٹھیک کریں، کیوں کہ حکمران تو صرف اُسی صورت بدل سکتے ہیں جب عوام چاہیں۔ اب آپ خود ہی سوچ لیں کہ کیا آپ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے؟