مانسہرہ سے خواتین کے الیکشن لڑنے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی مخالفت

اپ ڈیٹ 12 جون 2018

ای میل

مانسہرہ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ضلع مانسہرہ کے عہدیداران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی قیادت نے مانسہرہ سے خواتین امیدواروں کو دیئے گئے انتخابی ٹکٹ واپس نہیں لیے تو وہ کارکنوں کے ساتھ بنی گالہ کے باہر دھرنا دیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ضلعی نائب صدر رضا اللہ خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ ہمارا معاشرہ خواتین کو انتخابات میں نامزد کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا انہیں دیئے گئے ٹکٹس واپس لینے چاہئیں اور اگر پارٹی نے ہمارا مطالبہ پورا نہیں کیا تو عمران خان کی رہائش گاہ، بنی گالہ کے باہر دھرنا دیا جائے گا‘۔

پارٹی نائب صدر کی زیر صدارت اجلاس میں ضلع مانسہرہ کے حلقہ پی کے 30 اور پی کے 34 سے انتخابات کے لیے نامزد کیے گئے پارٹی امیداروں کے معاملے پر آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پی کے 30 سے ماریہ فاطمہ اور پی کے 34 سے زاہدہ سبیل کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مانسہرہ میں خاتون کو زندہ جلا دیا گیا

رضا اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات میں خواتین امیدوار، کارکنوں کے لیے ناقابل قبول ہیں اور اگر ان کی نامزدگی واپس نہیں لی گئی اور جیتنے والے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تو پارٹی کو ان مخصوص نشستوں پر ناکامی ہوسکتی ہے‘۔

پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما تیمور رضا کا کہنا تھا کہ انتخابات میں لڑنے کے خواہش مند شہزادہ گستاسب خان اور سعید خان کے ساتھ بیٹھ کر انتخابات میں نامزدگی کے لیے فیصلہ کرنا چاہیے تھا لیکن ان کے مدمقابل خواتین کا ہونا ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ شہزادہ گستاسب خان کی جانب سے بعد ازاں پی کے 34 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے، جہاں سے تحریک انصاف کی جانب سے زاہدہ سبیل کو امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ گستاسب خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے باغی صلاح محمد خان کی حمایت سے این اے 13 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

خواجہ سراؤں کا انتخابات میں حصہ

دوسری جانب ہزارہ ڈویژن میں خواجہ سراؤں کی ایسوسی ایشن کی سربراہ ماریہ خان نے پی کے 31 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے، ساتھ ہی انہوں نے مقامی افراد سے وعدہ کیا کہ انتخابات کے بعد وہ مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم (خواجہ سرا) سیاست دانوں کی طرح بدعنوان نہیں ہیں اور اگر عوام نے مجھے ایم پی اے منتخب کیا تو میں علاقے کے پانی اور بجلی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گی‘۔

یاد رہے کہ ماریہ خان مانسہرہ کی تاریخ میں پہلی خواجہ سرا ہیں جو الیکشن لڑیں گی اور انہیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سخت امیدواروں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ضلع دیر سے خاتون کا امیر جماعت اسلامی کے خلاف انتخابات لڑنے کا اعلان

ادھر ڈان اخبار کی ایک اور رپورٹ میں خیبرپختونخوا کے ضلع دیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خاتون صوبیہ خان نے این اے 7 لوئر دیر سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔

پی ایم این کے کارکن سمیع اللہ خاطر نے صحافیوں کو بتایا کہ خواتین کی مخصوص نشست پر سابق ایم پی اے صوبیہ خان نے 2018 کے عام انتخابات میں این اے 7 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے امیر جماعت اسلامی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں واضح کمی

اس کے علاوہ مختلف امیدواروں نے لوئر دیر سے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 5 نشستوں پر انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، فارم جمع کرانے والے کل 28 امیدواروں میں سے 14 آزاد امیدوار ہیں جو صرف پی کے 14 سے انتخابات لڑیں گے۔

ان امیدواروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی سربراہ مولانا گل نصیب خان، سابق وفاقی وزیر ملک عظمت خان، پی ٹی آئی کے سابق ضلع صدر فخر الزمان اور سابق صوبائی وزیر بخت بدیر شامل ہیں۔

علاوہ ازیں مختلف حلقوں سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کرنے والے ضلع کے 6 کونسلرز نے استعفے دے دیئے، جنہیں ضلع کے ناظم محمد رسول خان نے منظور کرلیا۔