اسلام آباد: ملی مسلم لیگ نے وزارت داخلہ کی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیش کردہ رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود پارٹی کی رجسٹریشن نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

خیال رہے کہ کچھ دیر قبل الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست ایک مرتبہ پھر مسترد کردی تھی۔

الیکشن کمیشن کے رجسٹریشن کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے ایک جاری بیان میں شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ذمہ داران محض بیرونی آقاﺅں کی خوشنودی کے لیے غیر قانونی اور غیر آئینی حرکتوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ ملی مسلم لیگ الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرے گی۔

مزید پڑھیں: ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست ایک مرتبہ پھر مسترد

ترجمان ملی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ حکومت، بھارتی دباﺅ پر ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور اسی وجہ سے الیکشن کمیشن کے حکام جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی احکامات بھی تسلیم نہیں کررہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملی مسلم لیگ ایک پرامن سیاسی جماعت ہے جو آئین اور قانون کے مطابق اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد

ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت آج تک ملی مسلم لیگ کے عہدیداران کے خلاف کوئی ایسا جواز پیش نہیں کر سکی جس کی بنیاد پر رجسٹریشن روکی جاسکتی ہو، یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو رجسٹریشن سے متعلق واضح ہدایات جاری کی تھیں جن پر عمل نہیں کیا گیا۔

تابش قیوم نے کہا کہ ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن نہ کر کے لاکھوں پاکستانی شہریوں کو ان کے بنیادی حق کے استعمال سے محروم رکھا جارہا ہے۔

ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کا معاملہ

خیال رہے کہ ملی مسلم لیگ پر کالعدم جماعت الدعوۃ سے منسلک ہونے کا الزام ہے جس پر الیکشن کمیشن نے ان کی سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹریشن کی درخواست کو منسوخ کردیا تھا بعد ازاں ایم ایم ایل نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

8 مارچ 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو ملی مسلم لیگ کی درخواست کا ازسر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں 13 جون 2018 کو الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست ایک مرتبہ پھر مسترد کردی۔

اس سے قبل 11 اکتوبر 2017 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کردی تھی، یہ فیصلہ اس سے قبل وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب کے بعد کیا گیا تھا جس میں انہوں نے ملی مسلم لیگ پر پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔

مزید پڑھیں: جماعت الدعوۃ کا ملی مسلم لیگ کے نام پر سیاست کا اعلان

8 اگست 2017 کو کالعدم جماعت الدعوۃ نے نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی میدان میں داخل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ سے منسلک رہنے والے سیف اللہ خالد کو اس پارٹی کا پہلا صدر منتخب کیا تھا۔

3 اپریل 2018 کو امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) اور تحریک آزادیِ کشمیر (ٹی اے کے) کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ تنظیمیں کالعدم لشکرِطیبہ کے ہی مختلف نام ہیں جنہیں سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر نہیں کرایا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ملی مسلم لیگ پر الزام ہے کہ اسے کالعدم جماعت الدعوۃ کے نظر بند امیر حافظ سعید کی پشت پناہی حاصل ہے جن پر 2008 کے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور ان کے سر کی قمیت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔