ڈیموں کی تعمیر کیلئے پیسہ دینے والوں کے ہاتھ چومنے چاہئیں، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2018

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزرات خزانہ کی جانب سے ملک میں ڈیم کی تعمیر کے لیے کھولے جانے والے بینک اکاؤنٹ کا نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسٹیٹ بینک یہ تاثر قائم کر رہا ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے اکاونٹ حکومت نے بنایا اور اس عمل سے ’اسٹیٹ بینک نے ہمیں تکلیف پہنچائی‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولنے میں 3 دن لگا دیے، اسٹیٹ بینک ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ گھماتا رہا جبکہ ’لوگ ڈیم کے لیے پیسے لے کر گھوم رہے ہیں، ڈیم کے لیے پیسے دینے والوں کے ہاتھ چومنے چاہیں‘۔

مزید پڑھیں: ’ڈیمز کی تعمیر کیلئے جمع ہونے والے فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے‘

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسٹیٹ بینک آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے مشکلات کھڑی کررہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے قائم کردہ فنڈ میں پیسے نہیں دیے جارہے، کل کوئی کہہ رہا تھا کہ ’ہم اپنے کپڑے بیچ کر ڈیم بنائیں گے، بیچیں اپنے کپڑے، چپلیں اور فنڈ میں پیسے دیں، پہلے کیوں چپلیں اور کپڑے نہیں بیچے گئے؟‘

عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فنڈز قائم کیے ہیں، کسی کو کمیشن نہیں کھانے دیں گے، ڈیم کے لیے قائم فنڈ میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں ہونے دیں گے، ڈیم کے لیے بنائے گئے اکاونٹ کا آڈٹ ہوگا، ہم خود پہرہ دیں گے، یہ فنڈز سپریم کورٹ نے قائم کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ آج کے انگریزی اخبارات دیکھیں فنانس ڈویژن کی جانب سے کیا چھپا ہوا ہے، ہمیں پیغامات آرہے ہیں کہ حکومت پر اعتماد نہیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کے بنائے گئے اکاؤنٹ میں پیسے نہیں دیں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت خزانہ نے ڈیم کے لیے اکاؤنٹ کھولا ہے، اٹارنی جنرل وزیر اعظم سے بات کرکے عدالت کو بتائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آنے والے 2 چیف جسٹس صاحبان کو بھی کہہ دیں وہ بھی اس عمل کی نگرانی کریں۔

بعد ازاں عدالت نے سیکریٹری فنانس کو کل (10 جولائی) کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کے متفقہ فیصلوں کی روشنی میں موثر اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے تحت 4 ہزار 5 سو میگاواٹ کی گنجائش والے بھاشا ڈیم جبکہ 700 میگا واٹ والے مہمند ڈیم کی تعمیر عمل میں لانے کے احکامات دیے گئے تھے۔

اس کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے ملک میں ڈیمز کی تعمیر کے سلسلے میں ’دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم فنڈ-2018‘ کے عنوان سے فنڈز اکھٹے کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولا گیا تھا۔

یہ اکاؤنٹ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت، واپڈا اور دیگر اعلیٰ حکام کو دیے گئے خصوصی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے کھولا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم

وزارت خزانہ کی جانب سے ان دونوں ڈیمز کی تعمیر کے سلسلے میں فنڈ اکھٹے کرنے کے لیے کھولے گئے اکاؤنٹ کا نمبر 03-593-299999-001-4 ہے جبکہ آئی بی این نمبر PK06SBPP0035932999990014 ہے۔

خیال رہے کہ سب سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے 10 لاکھ روپے فنڈز کی مد میں اس اکاؤنٹ میں جمع کرائے تھے۔

اس ضمن میں سپریم کورٹ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم فنڈ میں رقم اسٹیٹ بینک کی تمام شاخوں، وزارت خزانہ کے تمام دفاتر اور نیشنل بینک سمیت دیگر تمام شیڈول بینکوں میں کرائی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ان اداروں کی بیرون ملک شاخوں میں بھی مقامی اور بین الاقوامی عطیات دہندگان کی جانب سے عطیات جمع کرائے جاسکتے ہیں۔