حمزہ عباسی وزیراعظم بننے پرکرپٹ افراد کو سرعام گولی مارنے کے خواہاں

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2018

ای میل

چاہتا ہوں کہ اس بار 80 سے 90 فیصد لوگ ووٹ کاسٹ کرنے نکلیں—اسکرین شاٹ
چاہتا ہوں کہ اس بار 80 سے 90 فیصد لوگ ووٹ کاسٹ کرنے نکلیں—اسکرین شاٹ

اداکار، ٹی وی میزبان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن حمزہ علی عباسی اگرچہ اس بار بھی عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

تاہم انہیں 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات سے کئی توقعات ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ رواں برس پاکستانی لوگ روایات کے برعکس زیادہ سے زیادہ ووٹ کاسٹ کرنے نکلیں اور اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں۔

ڈان ڈاٹ کام سے خصوصی بات چیت کے دوران حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ انہیں پتہ ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے دوران ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 29 سے 30 فیصد رہتا ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ اس بار یہ 80 سے 90 فیصد تک جائے۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کا چمچہ اور نیم کرپٹ شخص متبادل وزیراعظم بننے کا خواہاں

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ کبھی ایک دن کے لیے وزیر اعظم پاکستان بنے تو وہ کیا کام کرنا پسند کریں گے؟

حمزہ علی عباسی نے مختصر مگر واضح انداز میں کہا کہ اگر انہیں کبھی ایسا موقع ملا تو وہ ملک کے کرپٹ ترین افراد کو پھانسی پر لٹکادیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایک دن کے لیے بھی وزیر اعظم بنے تو وہ ملک کے تمام کرپٹ ترین افراد کو قطار میں کھڑا کرکے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے انہیں قتل کردیں گے۔

آنے والے عام انتخابات میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے والے نوجوانوں کو انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ عام اور چھوٹے مسائل کے بجائے بڑے مسائل کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ کریں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے والے افراد کو جذبات سے بالاتر ہوکر ووٹ کاسٹ کرنا چاہیے، انہیں یہ احساس اور سمجھ ہونی چاہیے کہ گلی بنوانا اور سڑک پکی کروانا میئر اور کونسلر کا ہی کام اور ذمہ داری ہے، اس لیے ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کی بنیاد پر وہ ووٹ کاسٹ نہ کریں۔