تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے تمام ممکنہ راستوں پر غور کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں وہ افغان حکومت سے مشورہ بھی کررہے ہیں۔

اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی حکومت نے اپنے سفارتکاروں کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں طالبان نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کا متعدد مرتبہ مطالبہ کیا تھا، ان کا موقف تھا امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے پاس تمام غیر ملک افواج کو افغانستان سے واپس بھیجنے کا اختیار نہیں، تاہم امریکا نے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا تیسرے فریق کو چھوڑ کربراہِ راست مذاکرات کرے، طالبان

افغانستان میں امریکا کے اعلیٰ سطح کے کمانڈر جنرل نکلسن نے بھی اس بڑی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس ضمن میں جب ڈان نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار سے موقف جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا، افغان امن عمل میں پیش رفت کے لیے تمام امکانات پر غور کررہا ہے جبکہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے لیے کسی بھی طرح کی بات چیت طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

جنرل نکلسن نے کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کہہ چکے ہیں امریکا افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کردار پر گفتگو کرنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اس کے ساتھ امریکا کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ صرف معاون کردار ادا کر گا، تاہم ڈان کو بھیجے گئے بیان میں انہوں نے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کی تردید نہیں کی، تاہم امریکا کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں جو بھی اقدامت اٹھائے جائیں وہ کابل حکومت سے مشاورت کے بعد اٹھائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کا عید پیغام،امریکا کو پھر براہ راست مذاکرات کی پیشکش

امریکی میڈیا کے مطابق عید کے دوران طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان اور اس کے بعد پیش آنے والی صورتحال نے امریکا کو اس نتیجے پر پہنچنے میں مدد فراہم کی۔

خیال رہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد عید کے موقع پر افغان طالبان، سیکیورٹی اہلکاروں اور عوام سے کابل کی سڑکوں پر گھل مل گئے تھے، جسے امریکا اور افغان حکومت دونوں کی جانب سے سراہا گیا تھا۔