‘آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ’؛ پاکستانی معیشت کا اصل مسئلہ

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2018

ای میل

پاکستان کو ان دنوں سیاسی چیلنج کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ انتخابی مہم زوروں پر ہے، 70 سالہ ملکی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ لگاتار دوسری مرتبہ ایک جمہوری حکومت دوسری کو اقتدار منتقل کرے گی۔ ماضی میں جانے کے بجائے اگر گزشتہ 3 حکومتوں کی بات کی جائے تو خاص طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر حکومتی مدت کے تکمیل کے وقت ملک کو معاشی مسائل کا سامنا ہوتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کم از کم گزشتہ آنے والی دونوں ہی حکومتوں کو ابتداء ہی میں آئی ایم ایف کے قرض کا سہارا لے کر معیشت کو چلانا پڑا۔

سال 2007ء سے لے کر 2018ء کے درمیان 3 بار حکومت نے اقتدار دوسری حکومت کے سپرد کیا اور تینوں مرتبہ نئی منتخب ہونے والی حکومت کو اقتدار کے ساتھ ساتھ معاشی بحران کا تحفہ بھی ساتھ ہی ملا۔ جب بھی حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہوتی ہے تو ملکی معیشت بحران کا شکار ہوجاتی ہے۔

اگر سال 2007ء کا جائزہ لیں تو اس وقت ملک کو لوڈ شیڈنگ نے گھیر لیا اور کئی کئی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے عوام اور معیشت کا بُرا حال کردیا تھا جبکہ اس کا اثر ابھی جاری ہے۔

اسی طرح سال 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی مگر اس کے پاس روایتی طور پر کوئی ایسا فرد نہیں تھا جو حکومت کی معاشی منصوبہ بندی کرسکتا۔ پیپلزپارٹی نے پہلے مسلم لیگ (ن) سے اسحٰق ڈار کو مستعار لیا مگر یہ ہانڈی زیادہ دیر نہ پک سکی اور ان کی جگہ بینکار شوکت ترین کو خزانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے مذاکرات کیے اور پاکستان آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام کا حصہ بن گیا۔ اس طرح وقتی طور پر پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد ملی اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔

پڑھیے: 'نئی حکومت کے پاس ڈالروں کی خریداری کے لیے کم وقت ہوگا'

سخت شرائط اور ملکی انفرااسٹرکچر میں کمی کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بحران جاری رہا، جس کے سبب صنعتوں کی پیداوار بُری طرح متاثر ہوئی۔ عوامی طلب کے مقابلے میں مقامی صنعتیں پیداوار کرنے سے قاصر تھیں سو طلب کو پورا کرنے کے لیے درآمدات کا سہارا لیا گیا۔

شوکت ترین بھی زیادہ عرصہ حکومت کے ساتھ نہ چل سکے اور مشرف کے وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالحفیظ شیخ کو خزانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی مگر معیشت میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ اس دوران عالمی سطح پر کموڈٹیز کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کو مہنگا ایندھن اور کھانے پینے کی اشیاء درآمد کرنی پڑیں جس سے معیشت میں افراطِ زر خطرناک سطح پر پہنچ گیا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ آصف علی زرداری نے سعودی عرب سے مفت ایندھن فراہم کرنے کی درخواست کردی۔

انہی ہچکولے کھاتی معیشت میں سال 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی تو اس کو بھی معاشی مشکلات نے اپنے گھیرے میں لیے رکھا۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کے ذریعے معیشت کو سہارا دیا مگر یہ معیشت کو چلانے کے لیے ناکافی تھا اس لیے سعودی عرب نے پاکستان کو تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ دیا، جس نے معیشت کو بہتر بنایا۔

نواز حکومت کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے دورِ حکومت میں تیل کی عالمی مارکیٹ کریش کرگئی اور فی بیرل تیل کی قیمت جو کہ 100 ڈالر سے تجاوز کرچکی تھی، 50 ڈالر سے بھی کم ہوگئی، یوں نواز حکومت کو معیشت کو سنبھالنے کا موقع فراہم ہوگیا۔

تاہم عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کے نااہل ہونے کی وجہ سے حکومت کو حاصل سیاسی قوت میں کمزوری آئی اور اسحٰق ڈار کی جانب سے ڈالر کی قدر 105 روپے پر مستحکم رکھنے کی حکمت عملی نے زرِمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب کیے اور یہ تیزی سے گرتے رہے۔ اس سے ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور روپے کی قدر میں گراوٹ ہوتے ہوتے اب ڈالر ملکی تاریح میں پہلی مرتبہ 125 روپے کی قیمت سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔

مگر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو معیشت بھی پستی کا شکار ہوجاتی ہے؟

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ ملکی معیشت میں مسائل کی بڑی وجہ آمدنی سے زائد خرچے ہیں۔

مسائل کی وجہ صرف اور صرف پاکستان میں ’جاری کھاتوں‘، جس کو کرنٹ اکاؤنٹ بھی کہا جاتا ہے، کا خسارہ ہے۔ پاکستان تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء بیرونی منڈیوں میں فروخت کرتا ہے اور اس کے عوض تقریباً 60 ارب ڈالر کی اشیاء دیگر ملکوں سے خریدتا ہے۔ اس خرید و فروخت میں پاکستان کو تقریباً 37 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پڑھیے: روپے کی گرتی ہوئی قدر

اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے 19 ارب ڈالر کی ترسیلات بھجوائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود تمام تر بیرونی قرضوں اور تجارتی ادائیگیوں کے لیے پاکستان کو ہونے والے خسارے کا حجم 16 ارب ڈالر ہے۔

پاکستان کے غیر ملکی قرضے میں گزشتہ 6 سال کے دوران 21 ارب 40 کروڑ روپے کے قرض میں اضافہ ہوا اور مجموعی غیر ملکی قرضہ 69 ارب 50 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس قرض کی اقساط اور سود کی ادائیگی کے لیے پاکستان کو 5 ارب 20 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔ زرِمبادلہ کے قرضوں پر اوسط سود 2 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔

اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان کو بہت بڑے بجٹ خسارے کا سامنا بھی ہے۔ پاکستان پر 16 ہزار ارب روپے کا مقامی قرض ہے جو ہر سال رول اوور ہونے کے علاوہ اس میں مستقل اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان کو اس قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے ایک ہزار ارب روپے درکار ہیں۔ جبکہ مقامی قرض پر 7 اعشاریہ 9 فی صد کی شرح سے سود کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

مقامی اور بیرونی قرضے پاکستان کی مجموعی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) کا 72 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت کے مقامی قرضے کیوں بڑھ رہے ہیں۔ اس کی تفصیلات گزشتہ تحریر میں پیش کی جاچکی ہیں۔

پاکستان کو اپنے قیام سے لے کر اب تک مالیاتی اور تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہے۔ اگر 1947ء سے لے کر 2018ء تک کے عرصے میں پاکستان کے تجارتی خسارے کو جمع کیا جائے تو 300 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ بنتا ہے۔ اگر ڈالر کی موجودہ قدر سے اس رقم کو ضرب دی جائے تو عام کیلکیولیٹر میں ہندسے ختم ہوجائیں گے۔ یہ رقم 3 لاکھ 84 ہزار ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔

پاکستان میں دستاویزی خسارہ اپنی جگہ لیکن تقریباً 15 ارب ڈالر پاکستانی معیشت سے غیر قانونی طور پر بھی منتقل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاکستان سے ماہانہ تقریباً ایک ارب ڈالر سے زائد بینکاری نظام کے علاوہ بیرونِ ملک منتقل ہوتا ہے۔ پاکستان محض 10 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کرتے ہیں۔

پڑھیے: ڈاکٹر شمشاد اختر: مالیاتی صنعت کی خاتونِ آہن

اس کا ثبوت پاکستان کے تجارتی شراکت داروں کے کسٹم کے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ پاکستان چین سے 9 ارب 32 کروڑ ڈالر کی اشیاء خریدتا ہے جبکہ پاکستان چین کو 1 ارب 44 کروڑ ڈالر کی اشیاء برآمد کرتا ہے مگر چینی کسٹم کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو پاکستان تقریباً 13 ارب ڈالر سے زائد کی اشیاء چین سے خریدتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کسٹم ڈیوٹی بچانے کے لیے تقریباً 4 ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ چین سے ہورہی ہے۔ اسی طرح دبئی، بھارت اور دیگر ممالک سے 5 ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ ہوتی ہے اور پاکستان سے تقریباً 9 ارب ڈالر بیرونِ ملک بغیر بینکاری چینل کے منتقل ہوتے ہیں۔

تو اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟

سادہ سا جواب، ’آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ!‘

اسی وجہ سے پاکستان کو ہمیشہ یا تو امیر ملکوں سے امداد حاصل کرنی پڑتی ہے یا پھر پاکستان کو آئی ایم ایف سے مشکل ترین شرائط پر قرض لینا ہوتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں مالیاتی شرائط کے علاوہ سیاسی شرائط بھی پاکستان پر عائد کی جاتی ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پاکستان نے گزشتہ 28 سال میں 12 مرتبہ آئی ایم ایف سے پروگرام قرض لیا، اس کے علاوہ ٹرمپ کا ٹوئیٹ تو یاد ہوگا جس میں اس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 33 ارب ڈالر دے کر ضائع کیے جبکہ دوست ملک سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو دیے اس کے علاوہ چین کو بھی ہم نے مدد مانگ مانگ کر تنگ کردیا ہے، اب وہ بھی پاکستان کو بہت زیادہ بیل آؤٹ کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتا ہے۔

معرف ٹیکس ماہر شبر زیدی کہتے ہیں کہ پاکستان کو مالیاتی خسارے کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے خسارے کا سامنا ہے۔ پاکستان کو اگر ٹھیک کرنا ہے تو پھر حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی معاشی ایجنڈے پر متفق ہونا پڑے گا اور معیشت میں موجود سرمائے کے ضیاع کو روکنا ہوگا اور میڈ اِن پاکستان کو اپنانا ہوگا جبکہ موجودہ پالیسی امپورٹ اِن پاکستان ہے۔

نگران وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ دنیا میں پاکستان کو بیل آؤٹ کرنے کا رجحان صفر کی سطح پر پہنچ گیا ہے اور پاکستان کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے خود اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاکستان میں مسائل کسی ایک حکومت کے پیدا کردہ نہیں ہیں، اور پاکستانی معیشت میں طویل مدتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پیداواری شعبے کو پروان چڑھانے کے لیے اقدامات درکار ہیں۔

پڑھیے: روپے کی قدر میں کمی سے متعلق حکومتی فیصلہ کتنا ٹھیک؟ کتنا غلط؟

پاکستان میں پیداواری شعبے کو اس قدر جکڑا گیا ہے کہ وہ درآمدی شعبے سے مقابلہ ہی نہیں کرسکتا ہے۔ پاکستان میں پیداواری شعبے خصوصاً صنعتوں پر 52 سے زائد ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیات، لیبر، صحت اور دیگر سرکاری محکموں کے چھاپے الگ جبکہ دوسری طرف اگر آپ کوئی چیز درآمد کریں تو مزے سے اس کو فروخت کرسکتے ہیں، بس ایک مرتبہ کسٹم ڈیوٹی دینی ہوگی۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے کو درآمدی شعبے کے مقابلے میں ٹیرف، ٹیکس، انڈرانوائسنگ، مہنگی توانائی، انفرااسٹرکچر کی قلت اور ہنرمند افرادی قوت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اس وقت پیداوار دشمن اور درآمد دوست پالیسیوں کو اپنائے ہوئے ہے۔

سستی درآمدات کی وجہ سے پاکستان میں ٹائلز، جوتا سازی، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتیں تقریباً بند ہوگئی ہیں جبکہ بنگلہ دیشی ملبوسات کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی صنعت بھی زوال کا شکار ہورہی ہے۔

حکومت کے اس وقت بھی 183 تجارتی ادارے کام کررہے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد ہر سال خسارہ کرتے ہیں۔ پاکستان بزنس کونسل نے یہ تجویز دی ہے کہ ان تجارتی اداروں کو وزارتی کنٹرول سے باہر کیا جائے اور انہیں حکومت کی ہولڈنگ کمپنی بنا کر ان کے حوالے کردیا جائے، جس کے بعد تنظیم نو کی جائے یا پھر ان اداروں کی نجکاری کردی جائے۔

پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بجلی کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں بجلی کی فی کس خرچ سب صحرا افریقا کے قریب ہے اور ابھی تک ملک کی 25 فیصد آبادی نیشنل گرڈ سے منسلک ہی نہیں ہے۔ اگر ملک میں صنعت کاری شروع ہوئی تو گزشتہ حکومت نے جو 10 ہزار میگا واٹ بجلی میں اضافہ کیا ہے وہ بھی ناکافی ہوگا۔ پاکستان کو اپنی توانائی کے شعبے کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ بجلی ضائع ہونے کی شرح جو 19 فیصد تک پہنچ گئی ہے اسے بھی روکنا ہوگا کیونکہ یہ دنیا میں بجلی کے ضیاع کی بلند ترین شرح ہے۔

معیشت کے اس پورے جائزے کے بعد مجھے علی جہانگیر صدیقی سے کی گئی گفتگو یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ انہوں نے اپنے اسکول کی کتاب میں پڑھا تھا۔

اگر آپ کے اخراجات آمدنی سے کم یا مساوی ہیں تو آپ آزاد انسان ہیں اگر خرچہ آمدنی سے زیادہ ہے تو پھر آپ کا اختتام جیل پر ہوگا۔