ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ چیلنج، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے لارجر بینچ کی تشکیل کی درخواست

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2018

ای میل

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اکبر علی قریشی نے ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر لارجر بینچ کی تشکیل کیے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اکبر علی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے پر لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ عدالت کے حکم پر احتساب عدالت کا 6 جولائی کا فیصلہ ساتھ لگا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: احتساب عدالت کے فیصلے سے متعلق نیب آرڈیننس کا دائرہ کار دیکھنا ہوگا، لاہورہائیکورٹ

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد نیب کے تمام اقدامات غیر قانونی ہیں، ملک کے 3 مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزا دی گئی، جو ختم ہو چکا ہے۔

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) محمد صفدر کو مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا غیر قانونی ہے، یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، عدالت اس پر فل بینچ کو تشکیل دے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف اور دیگر کو نیب کے مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے۔

بعد ازاں عدالت نے اس معاملے پر لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے فائل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوا دی۔

احتساب عدالت کا فیصلہ

خیال رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات پر مریم نواز کو والد کے اس جرم میں ساتھ دینے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں تھیں جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق تحقیقات میں نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر علیحدہ ایک، ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر نواز شریف کو 11 اور مریم کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔