جسٹس شوکت صدیقی کے بیان کا جائزہ لیں گے، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2018

ای میل

کراچی: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ’پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں‘، تاہم انہوں نے معاملے کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے ‘جانبدار’ ریٹرننگ افسران کو معطل کردیا

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’کسی میں جرأت نہیں کہ عدلیہ پر دباؤ ڈال سکے، پھر بھی حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’اس طرح کے بیان ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہیں تاہم جائزہ لیں گے، کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے‘۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے تقریر کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت سے متعلق ہائی کورٹ کے جج کی تقریر کا نوٹس لیا، جس میں جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی میں کی گئی تقریر میں عدالتوں میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو الزام عائد کیا تھا کہ ’انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی )پوری طرح عدالتی معاملات کو مینی پولیٹ کرنے میں ملوث ہے اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ان احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا‘۔

علاوہ ازیں ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

ماڑی پور سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح

اس سے قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ماڑی پور سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کراچی، سندھ اور پاکستان کے لیے کی جانے والی چھوٹی چھوٹی مثبت کاوشوں کے پیچھے کوئی ذاتی ایجنڈا یا تشہیر نہیں‘،

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے مد نظر صرف ایک چیز ہے کہ آنے والی نسل کو بہتر پاکستان دینا ہے۔

انہوں نے منصوبے سے متعلق بتایا کہ سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ 180 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چیف جسٹس نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کے بغیر ملک کی سالمیت کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، آنے والی نسلوں کو تحفظ دینے کے لیے پانی کے ذخائر کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ڈی آئی خان: تحریک انصاف کے انتخابی امیدوار کے قافلے پر خودکش حملہ، 4 زخمی

انہوں نے بتایا کہ شمالی علاقہ جات کے دورے پر گیا تھا جہاں گلگت کے لوگوں نے بھاشا اور دیامر ڈیم کی تعمیر پر بہت خوشی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی وہ اپنی شناخت کے لیے فکر مند تھے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ’ہمیں ان کی شناخت کے لیے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

دوران خطاب انہوں نے اٹارنی جنرل کو گلگت سے متعلق مسئلے کو یاد کرانے کا کہا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے سے متعلق کہا کہ واٹر کمیشن کی سربراہی میں تشکیل پانے والے منصوبے کو جس دیانت داری، ایمان داری اور تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا، یہ قابل ستائش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’امریکی حکام اور طالبان کے درمیان براہِ راست پہلی ملاقات‘

چیف جسٹس نے منصوبے کی تکیمل میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اسٹاف اراکین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے تالیاں بجائیں۔

کراچی میں صفائی سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ ’گزشتہ 6 ماہ قبل کراچی کے طول و عرض میں پھیلی گندگی تشویش ناک تھی تاہم اب مجھے بہت خوشی ہے کہ کراچی کی سڑکیں صاف ستھری ہیں‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’جس راستے سے میں گزرا ہوں وہ شاہرائیں بہت صاف تھیں‘۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ ’آج ہر پاکستانی 1 لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے، کیا آپ بچوں کو وراثت میں قرض چھوڑ کر جاتے ہیں؟‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’اگلے چند روز میں ملک میں الیکشن ہونے جارہے ہیں تاہم وہ بہت محتاط انداز میں گفتگو کررہے ہیں تا کہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں کوئی جملہ نہ نکل جائے تاہم جو کوئی بھی برسراقتدار آئے وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے‘۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے سرکاری بھرتیوں پر پابندی عائد کردی

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’اگر پاکستانیوں کے انسانی حقوق متاثر ہوئے تو عدالت عظمیٰ اس امر کو یقینی بنائے گی کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق یکساں میسر آئیں‘۔