انتخابات 2018: معروف سیاسی شخصیات کو شکست

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2018

ای میل

اسلام آباد: متعدد جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سے قطع نظر ملک کے 11ویں عام انتخابات میں کئی حیرت انگیز نتائج دیکھنے میں آئے جس میں بڑی بڑی سیاسی شخصیات کو ان کے روایتی حلقوں سے شکست ہوئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے 5 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا اور پانچوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی روایتی نشستیں ہی ہار گئے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی قومی اسمبلی و خیبر پختونخوا میں واضح برتری

واضح رہے پی پی پی کے چیئرمین نے پہلی مرتبہ الیکشن لڑا اور 3 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا، جس میں وہ اپنے آبائی حلقے لاڑکانہ کے آبائی حلقے این اے-200 سے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے راشد سومرو کو ہرا کر کامیاب رہے۔

تاہم مالاکنڈ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-8 سے بلاول بھٹو کو پی ٹی آئی کے جنید اکبر نے شکست دی۔

سب سے بڑا اپ سیٹ انہیں پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے لیاری کے حلقہ این اے-246 سے ملا جہاں پی ٹی آئی کے شکور شاد ان کے مقابلے میں جیت گئے۔

دوسری جانب جے یو ائی ایف کے مولانا فضل الرحمٰن بھی اپنے آبائی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان این اے-39 کی نشست ہار گئے۔

مزید پڑھیں: مجھے پارلیمنٹ سے باہر کرنے کی سازش ناکام ہو گئی، بلاول

ان کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے سربراہ اسفند یار ولی چارسدہ کے اپنے آبائی حلقے این اے-24 میں پی ٹی آئی کے فضل محمد خان سے 23 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہارے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف بھی 4 نشستوں میں سے بمشکل لاہور کی نشست پر کامیاب ہوسکے، باقی کراچی، سوات اور ڈیرہ غازی خان سے انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلم لیگ (ن) کے ہی ایک اور رہنما اور سابق وفاقی وزیر سردار اویس احمد لغاری کو ان کے آبائی حلقے میں پی ٹی آئی کی زرتاج گل کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایک حلقے کی بات نہیں،پورا الیکشن کالعدم کرائیں گے، فضل الرحمٰن

اسی فہرست میں جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا نام بھی شامل ہے، جو لوئر دیر کے علاقے کی روایتی نشست پر اپنے حریف پی ٹی آئی کے محمد بشیر سے ہارے، ان کے ووٹوں کا فرق تقریباً 20 ہزار رہا۔

ادھر چوہدری نثار علی خان جو 1985 سے مسلسل قومی اسمبلی کا حصہ تھے، 23 سال بعد انتخابات میں ناکام رہے، انہوں نے حلقہ این اے-59 اور 63 سے الیکشن میں حصہ لیا اور دونوں ہی نشستوں پر انہیں تحریک انصاف کے غلام سرور خان نے شکست دی۔

واضح رہے کہ چوہدری نثار پہلی مرتبہ آزاد حیثیت سے جیپ کے نشان پر الیکشن لڑ رہے تھے، ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی 2 حلقوں سے انتخاب لڑا اور دونوں ہی میں ناکامی کا سامنا کیا، انہیں اسلام آباد میں عمران خان جبکہ مری سے پی ٹی آئی کے صداقت عباسی نے ہرایا۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کا اے پی سی بلانے کا امکان

باوجود اس کے کہ عمران خان نے اپنے تمام حلقوں میں کامیابی حاصل کی لاہور میں انہیں خواجہ سعد رفیق سے بہت سخت مقابلہ ملا اور محض 6 سو ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے، تاہم بنوں سے ایم ایم اے کے اکرم درانی کو شکست دے کر انہوں نے سب کو حیران کردیا۔

ایک جانب جہاں اتنے بڑے بڑے اپ سیٹ دیکھنے میں آئے وہیں مسلم لیگ(ن) کے خواجہ محمد آصف سیالکوٹ 2 کے حلقہ این اے-73 سے پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کےمقابلے میں اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہے۔

یہ بھی دیکھیں: عام انتخابات میں خیبر پختونخوا میں نئی روایت قائم

انہوں نے عثمان ڈار کے ایک لاکھ 15 ہزار 4 سو 64 ووٹوں کے مقابلے میں ایک لاکھ 16 ہزار 9 سو 57 ووٹ حاصل کیے۔

اس کے علاوہ حلقہ این اے-78 سے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے معروف گلوکار اور پی ٹی آئی رہنما ابرارالحق کو شکست دی۔