پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، امریکا

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکا نے جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی اور استحکام کے لیے پاکستان میں حالیہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے ساتھ مل کرکام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’جیسا کہ پاکستانی عوام نے نئی حکومت کے لیے رہنماؤں کا انتخاب کرلیا ہے، امریکا جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی راہیں تلاش کرے گا‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں انتخابات سے قبل آزادی اظہار رائے کو محدود کرنے کی کوششوں ، صحافی تنظیموں اور پریس کی راہوں میں حائل رکاوٹوں پر تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاکستان کو 15 سال تک امداد دے کر بیوقوفی کی، ڈونلڈ ٹرمپ

انتخابات کے نتائج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر نتائج کا اعلان ہونے اور مبصر مشن کی ابتدائی رپورٹ جاری ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔

اس حوالے سے برطانوی روزنامے فنانشل ٹائمز نے ایک مضمون شائع کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے آپ کو بدعنوانی اور پاکستان کی سیاسی ایلیٹ کے خلاف جدوجہد کرنےوالے رہنما کے طور پر پیش کیا ، لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہیں فوج کا تعاون حاصل ہے۔

مزید پڑھیں:الزام تراشیوں کے باوجود امریکا، پاکستان کے ساتھ ’نئے تعلقات‘ کا خواہاں

اس ضمن میں اعداد و شمار کے ادارے امریکی بلوم برگ کا کہنا ہے کہ عمران خان بدعنوانی کے جدو جہد کرنے والے رہنما کے طور پر سامنے آئے ، اسلیے ممکن ہے کہ وہ سیکیورٹی معاملات اور خارجہ پالیسی پر جنرلوں سے لڑائی کے بجائے پاکستانی معیشت پر توجہ دیں گے۔

ادھر امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر بڑی سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے ، جس سے پورے انتخابی عمل پر سوال اٹھ رہے ، تاہم اس سے تر یک انصاف کو آئندہ حکومت بنانے سے نہیں روکا جاسکتا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کو امریکا سے بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے ملک میں امریکا مخالف جذبات نمٹنا ہوگا۔