پنجاب میں حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کا اتحاد متوقع

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2018

گجرات: پاکستان مسلم لیگ قائداعظم (پی ایم ایل )نے حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے صوبے کے 5 اضلاع سے صوبائی اسمبلی کی 8نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

اس حوالے سے پی ایم ایل (ق) کے اندرونی ذرائع کا کہنا تھا کہ پارٹی ممکنہ طور پر پنجاب اور مرکز میں حکومت سازی کے لیے پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد کرے گی اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے متوقع طور چوہدری پرویز الہٰی کا نام زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تحریک انصاف ہی حکومت بنائے گی، نعیم الحق

واضح رہے کہ پرویز الہٰی نے 3 نشستوں سے کامیابی حاصل کی ہے جس میں 2 نشستیں قومی اسمبلی جبکہ ایک صوبائی نشست کی ہیں۔

اس سے قبل اقتدار کے ایوانوں میں یہ باتیں گردش کررہی تھیں کہ پی ایم ایل (ق) اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کا نام زیر غور ہوسکتا ہے۔

اس حوالے سے جب ق لیگ کے رکن سے یہ سوال کیا گیا کہ اکثریت جماعت کس طرح کم نشستوں کی حامل جماعت کے وزیراعلیٰ کو قبل کرے گی تو ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اس سے قبل ایسی مثال موجود ہے۔

مزید پڑھیں: انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں نے بنی گالا کا رخ کرلیا

جب پنجاب میں اتحاد ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کی 100 نشستوں کے باوجود مسلم لیگ (جونیجو) کے میاں منظور وٹو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے۔

دوسری جانب چند ماہ قبل ہی بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے محض 5 اراکین ہونے کو باوجود عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے تھے۔


یہ خبر 28 جولائی 2018 کو ڈان اخبار شائع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں