امریکا نے لشکر طیبہ کے سینئر کمانڈر کو عالمی دہشت گرد نامزد کردیا

02 اگست 2018

واشنگٹن: امریکا نے لشکر طیبہ کے سینئر کمانڈر کو خصوصی طور پر عالمی دہشت گرد نامز کردیا، ساتھ ہی کالعدم تنظیم کے لیے فنڈ جمع کرنے والے دیگر 2 افراد پر پابندی عائد کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گرد قرار کیے گئے کمانڈر کی شناخت عبدالرحمٰن الدخیل سے ہوئی ہے اور اس پر 1997 سے 2001 کے درمیان بھارت میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اسی طرح فنڈ جمع کرنے والوں کی شناخت حمید الحسن اور عبدالجبار کے نام سے ہوئی، جن پر مبینہ طور پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ( ایف اے ایف ) کے لیے کام کرنے کا الزام ہے، جسے امریکا کی جانب سے لشکر طیبہ کا ہی ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی دفاعی بل: کالعدم لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کی شرط ختم

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ اور محمکہ خزانہ کی جانب سے علیحدہ علیحدہ اعلان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ تینوں پاکستانی شہری ہیں۔

اس حوالے سے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ’ آج کی اس نامزدگیوں میں عبدالرحمٰن الدخیل کی جانب سے دہشت گرد حملوں اور ان کی منصوبہ بندی کیلئے استعمال ہونے والے وسائل کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس سیگل مانڈیلکر کا کہنا تھا کہ ’ لشکر طیبہ کے یہ مالیاتی سہولت کار فنڈ اکھٹا کرنے اور اسے دہشت گرد گروپ میں تقسیم کرنے اور عسکریت پسندوں کو تنخواہیں فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’محکمہ خزانہ کی ان نامزدگیوں کا مقصد صرف لشکر طیبہ کے مالیاتی نیٹ ورک کو بند کرنا نہیں بلکہ دہشت گرد حملوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کی صلاحیت کو بھی ختم کرنا ہے‘۔

خیال رہے کہ امریکا کی 25 جولائی کو پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں دہشت گردوں سے منسلک افراد کے حصہ لینے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ نامزدگیاں سامنے آئی ہیں۔

تاہم پاکستانی ووٹر کی جانب سے عسکریت پسند امیدواروں کو مسترد کرنے پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مبارک باد بھی دی گئی ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے عبدالرحمٰن الدخیل کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کافی عرصے سے لشکر طیبہ کا رکن اور ان کا سرگرم رہنما تھا جبکہ اس پر 1997 اور2001 کے درمیان بھارت میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا الزام تھا، جس کے بعد وہ مغربی ایشیا منتقل ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’لشکر طیبہ سے منسلک انتخابی امیدواروں پر تحفظات ہیں‘

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ دخیل کو 2004 میں برطانوی فورسز کی جانب سے عراق سے گرفتار کیا گیا اور اس نے افغانستان اور عراق میں امریکی حراست میں 10 سال گزارے، جس کے بعد 2014 میں اسے پاکستان منتقل کیا گیا۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حراست سے رہائی کے بعد وہ دوبارہ لشکر طیبہ کے لیے کام کرنے لگا اور 2016 میں وہ جموں کے لیے ڈویژنل کمانڈر بن گیا۔

تاہم امریکی محکموں کی جانب سے نامزدگی حکم میں کہنا تھا کہ ’ آج کی کارروائی اس بات کو ظاہر کرتے ہے کہ امریکی عوام اور بین الاقوامی برادری عبدالرحمٰن دخیل کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھتی تھی‘۔

تبصرے (0) بند ہیں