اسرائیل نے غزہ میں رہائش پذیر فلسطینیوں پر ایک مرتبہ پھر ایندھن کی سپلائی پر پابندی عائد کردی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین کا کہنا تھا کہ یہ پابندی علاقے کی سرحد پر جلتی ہوئی پتنگوں اور غباروں سے دہشت گردی پھیلانے کے ردعمل میں نافذ کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 17 جولائی کو بھی غزہ میں ایندھن کی ترسیل پر پابندی عائد کردی تھی لیکن پتنگیں اور غبارے جلائے جانے کے سلسلے میں کمی آتے ہی ایک ہفتے بعد پابندی ہٹادی گئی تھی۔

مزید پڑھیں : غزہ: اسرائیل نے حماس کی ’زیر سمندر ٹنل تباہ‘ کردی

اس حوالے سے اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان آلات کے استعمال سے فلسطینیوں نے اپریل کے مہینے میں سیکڑوں بار آگ لگائی جس کے نتیجے میں ہزاروں ڈالرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

دوسری جانب غزہ میں موجود فلسطینی ان جلتی ہوئی پتنگوں اور غباروں کو ایک دہائی سے قبل جاری اس اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج تصور کرتے ہیں۔

ساحلی پٹی پر محصورغزہ کے اس علاقے کے مکین بجلی کی شدید قلت کا شکار ہیں اور اپنی ضروریات کے لیے ایندھن پر چلنے والے جنریٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔

مصر جانے والے واحد راستے کے علاوہ غزہ کے علاقے کا مکمل اختیار اسرائیل کے پاس ہے جو کہ کم و بیش ہی کھولا جاتا ہے۔

سال 2008 سے اب تک اسرائیل غزہ کے علاقے میں موجود فلسطینیوں سے تین جنگیں لڑ چکا ہے۔ جس پر اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والوں ہتھیاروں اور ساز و سامان سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ : اسرائیلی سرحد کے ساتھ ہزاروں افراد کا مظاہرہ

اقوام متحدہ حکام اس علاقے میں جاری تباہی کے باعث بار بار ایندھن کی پابندی ہٹانے کی تاکید کرچکا ہے،جہاں 20 لاکھ کی آبادی کا 80 فیصد حصہ امداد پر انحصار کرتا ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کی جانب سے اسرائیل میں اپنے گھروں میں واپسی کے لیے احتجاج کا سلسلہ 30 مارچ سے شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 157 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔