لاہور ہائیکورٹ: نواز شریف، مریم نواز کی سزا کے خلاف درخواست پر فل بینچ تشکیل

ای میل

لاہور ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف فل بینچ تشکیل دے دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی نے لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کیلئے فل بینچ تشکیل دیا۔

عدالت کے فل بینچ میں جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس مجاہد مستقیم شامل ہیں، جو 8 اگست کو کیس کی سماعت کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ چیلنج، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے لارجر بینچ کی تشکیل کی درخواست

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اکبر علی قریشی نے اس درخواست پر لارجر بینچ کی تشکیل کیے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوائی تھی۔

خیال رہے کہ لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کے قانون دان اے کے ڈوگر کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اپنایا تھا کہ نیب کا قانون 18 ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزا دی گئی جو کہ ختم ہو چکا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کو مردہ قانون کے تحت سزا دی گئی جو غیر قانونی ہے، لہٰذا عدالت اس سزا کو کالعدم قرار دے۔

احتساب عدالت کا فیصلہ

خیال رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات پر مریم نواز کو والد کے اس جرم میں ساتھ دینے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں تھیں جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق تحقیقات میں نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر علیحدہ ایک، ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر نواز شریف کو 11 اور مریم کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔