‘میں چند ماہ ایک یا 2 سال میں مر سکتا ہوں’

ای میل

51 سالہ اداکارہ کو مارچ 2018 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی—فائل فوٹو: مڈ ڈے
51 سالہ اداکارہ کو مارچ 2018 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی—فائل فوٹو: مڈ ڈے

بولی وڈ ورسٹائل اداکار عرفان خان جن کی حال ہی میں فلم ‘کارواں’ ریلیز کی گئی ہے انہوں نے ایک بار پھر اپنی صحت، بیماری، زندگی، موت، خواہشات اور دنیا سے متعلق کھل کر بات کی ہے۔

گزشتہ ماہ 19 جون کو بھی بھارتی صحافی کو لکھا گیا عرفان خان کا خط ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے بیماری کے بعد ہونے والی تبدیلیوں اور سوچوں سے متعلق کھل کر بات کی تھی۔

اگرچہ عرفان خان نے پہلے بھی مایوس کن باتوں سمیت حوصلہ کن باتیں بھی کی تھیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر اپنے ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے دل کی باتیں الفاظ میں بیان کرکے دنیا کے لوگوں کو جگانے کی کوشش کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کو حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں عرفان خان نے اپنی بیماری، موجود صحت اور اپنے خیالات سے متعلق کھل کر بات کی اور بتایا کہ وہ بیماری کے بستر پر کیا سوچتے ہیں اور انہیں یہ دلفریب دنیا اب کس طرح نظر آتی ہے۔

عرفان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب انہیں پہلی بار پتہ چلا کہ انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے اور وہ ہر وقت یہی سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو پائیں گے یا نہیں۔

بولی وڈ اداکار کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں ہمت آتی گئی اور ساتھ ہی وہ دنیا اور زندگی کے معاملات کو سمجھنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں: جیسے میرا سفر ختم ہونے کو ہے، عرفان خان

انہوں نے بیماری کو غنیمت قرار دیتے ہوئے اقرار کیا کہ اگر انہیں بیماری نہ ہوتی تو وہ دنیا اور زندگی کو اتنا جلد اس طرح نہیں سمجھ پاتے۔

ان کے مطابق کچھ ہی ماہ میں انہوں نے 30 سالہ زندگی کا تجربہ کرلیا، یہ تجربہ انہیں میڈیٹیشن کا علم حاصل کرنے سے بھی نہ ملتا۔

اپنی بیماری، صحت اور کب تک ٹھیک ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی 6 کیموتھراپی ہونی ہیں جن میں سے 4 ہوچکی ہیں اور اب تک سامنے آنے والی رپورٹس حوصلہ کن ہیں، تاہم ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں اور نہ ہی زندگی کا کوئی بھروسہ ہے۔

عرفان خان کے مطابق کبھی کبھی وہ سوچتے ہیں کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ انہیں یہ بیماری لاحق ہے اور وہ اگلے چند مہینوں ایک یا 2 سال میں مر سکتے ہیں، لیکن پھر انہیں خیال آتا ہے کہ انہیں خاموش رہنا چاہیے۔

عرفان خان نے تسلیم کیا کہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں وہ بہت ڈر گئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے سامنے زندگی کا نیا نظریہ آیا جو پہلے سے بہتر ہے۔

بولی وڈ اداکار کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام لوگ قدرت پر یقین رکھیں کیوں کہ اس سے زیادہ قابل بھروسہ اور کوئی چیز نہیں۔

اداکار نے اپنے کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کسی فلم کا اسکرپٹ نہیں پڑ رہے، ساتھ ہی انہوں نے ماضی میں امریکن شوبز انڈسٹری اور ہولی وڈ میں کام کرنے کے لیے اپنی جدوجہد کا ذکر بھی کیا۔

مزید پڑھیں: ’خدا ہم سب سے بات کرتا ہے‘عرفان خان

خیال رہے کہ عرفان خان اس وقت لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں، انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر نامی کینسر کی بیماری لاحق ہوگئی ہے۔

یہ بیماری دراصل ایسی رسولی ہے جو کہ ہارمونل اور اعصابی نظام کے خلیات میں نمایاں ہوتی ہے۔

عام طور پر اس مرض میں ہارمون پیدا کرنے والے اعصابی خلیات میں ٹشوز کی نشوونما غیرمعمولی ہوجاتی ہے،عموماً آنتوں میں یہ مرض سامنے آتا ہے، مگر یہ مرض لبلبے، پھیپھڑوں اور جسم کے کسی بھی حصے میں بھی نمودار ہوسکتا ہے۔

عرفان خان نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا مرض کس حد تک بڑھ چکا ہے، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔

انہوں نے خود کو نیورو اینڈو کرائن ہونے کی تصدیق رواں برس مارچ میں کی تھی، جس کے بعد وہ علاج کے لیے لندن منتقل ہوگئے تھے وہ گزشتہ 5 ماہ سے برطانیہ میں موجود ہیں۔