کوئٹہ: عدالت نے قتل کیس میں بلوچستان صوبائی اسمبلی کے نومنتخب رکن احمد علی کہزاد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل نادرا نے انکشاف کیا تھا کہ ہزارہ برداری سے ایم پی اے منتخب ہونے والے احمد علی کہزاد افغانی ہیں اور اس لیے انہیں غیر پاکستانی قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے صدر ’قاتلانہ حملے‘ میں محفوظ

احمد علی کہزاد ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے جنرل سیکریٹری ہیں جنہیں بلوچستان اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل ہوئی اور ان دنوں وہ غیر پاکستانی ہونے کے حوالے سے انکوائری کا سامنا بھی کررہے ہیں۔

احمد علی کہزاد کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ میں نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے اقدام کو چینلج کیا گیا ہے۔

گزشتہ سماعت میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر نے اپنی انکوائری رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ احمد علی کہزاد افغان پناہ گزین ہیں۔

کیس کی اگلی سماعت آج (6اگست) ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: 79 ماہ میں ہزارہ برداری کے 3 ہزار افراد قتل ہوئے

ذرائع نے بتایا کہ کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی آف پولیس نے عدالت استدعا کی کہ محمد حفیظ نامی شخص کے قتل میں نو مںتخب ایم پی اے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔

پولیس کے مطابق چند برس قبل مری آباد میں سنار محمد حفیظ کی لاش ملی تھی۔

تاہم گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے باوجود پولیس نے ملزم کو حراست میں نہیں لیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مقتول کی لاش ملنے کے بعد قائدآباد پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا، بعدازاں پولیس نے 5 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی جس میں احمد علی کہزاد بھی شامل ہیں۔

جس کے بعد کیس سی آئی اے (تحقیقات) کے حوالے کردیا گیا اور انکشاف ہوا کہ جہاں محمد حفیظ کی لاش ملی تھی وہ اراضی احمد علی کہزاد اور ان کے تین دوستوں کی تھی۔

مزید پڑھیں: ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

دوسری جانب مقتول کا بھائی محمد رحیم نے بتایا کہ ان کے بھتیجے نے غلطی سے احمد علی کہزاد کو مقدمے میں نامزد کیا تاہم ان کا قتل کی واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

احمد علی کہزاد نے ٹیلی فون ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محمد حفیظ کے قتل سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اس اراضی کے مالکانہ حقوق رکھتے ہیں جہاں سے مقتول کی لاش ملی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے تین دوست وہ پلاٹ خریدنے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن رقم کی کمی کے باعث پلاٹ نہیں خرید سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا محمد حفیظ کے قتل سے کوئی تعلق نہیں، مقدمے میں نامزد میرے تینوں دوست ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں‘۔

نو منتخب ایم پی اے نے کہا کہ ’تفتیش کاروں کے سامنے اپنا موقف پیش کروں گا‘۔


یہ خبر 6 اگست 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی