موبائل فونز اور بچوں کی رغبت سے بنتی ہے والدین کی درگت

18 فروری 2019
بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنے سے فضول ویڈیوز دیکھنے اور تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے مشغلے سے بھی باز رکھا جاسکتا ہے۔—تصویر شٹراسٹاک
بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنے سے فضول ویڈیوز دیکھنے اور تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے مشغلے سے بھی باز رکھا جاسکتا ہے۔—تصویر شٹراسٹاک

ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ بچوں اور ٹیکنالوجی کے درمیان فاصلہ 2 مختلف کمروں کا ہونا چاہیے، بلکہ شاید سمندر پار کا۔ پھر یہ کتنا اچھا ہوتا کہ بچوں اور آئی پیڈز، پی ایس فورز اور موبائل فونز جیسی تمام ڈیوائسز کو ایک دوسرے سے دُور رہنے کا حکم نامہ جاری کیا جانا ممکن ہوتا، خاص طور پر موبائل فونز سے۔

یوں بچوں کو نہ صرف یوٹیوب پر فضول ویڈیوز دیکھنے سے روکنا ممکن ہوتا بلکہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے مشغلے سے بھی باز رکھا جاسکتا ہے، کیونکہ ان عادتوں کے سبب بچے اکثر موبائل فون کی پوری میموری ہی چٹ کردیتے ہیں، پھر چاہے میموری کی گنجائش کسی بڑے جزیرے جتنی ہی کیوں نہ ہو۔

مزید پڑھیے: 9 سے 12 ماہ کے بچوں کی روٹین کیا ہونی چاہیے؟

کوئی سماجی سرگرمی ہو یا پھر شادمانی کی تقریب، اب ہر جگہ صرف تصویریں ہی بنائی جاتی ہیں اور بے شمار بنائی جاتی ہیں، اور ہم بے چاروں کے پاس اس موبائل کیمرے کے سوائے ان لمحات کو قید کرنے کے لیے ہے بھی کیا؟ مگر جب موبائل فونز میں سیکڑوں ویڈیوز اور تصاویر میموری پر بوجھ بنی ہوئی ہوں تو تقریب میں بیٹھے وقت بس موبائل میں محفوظ تصاویر کو ڈیلیٹ کرنے میں ہی گزر جاتا ہے۔

تصویر: شٹراسٹاک
تصویر: شٹراسٹاک

موبائل کی پکچر گیلری میں موجود کچھ تصاویر آپ کے لیے ماضی کی کچھ ’کھٹی‘ جی ہاں میٹھی نہیں کھٹی یادوں کی بارات لے آتی ہیں جس میں کبھی پشیمانی ہوتی ہے تو کبھی رسوائی۔ جیسے ایک موقعے پر آپ کے بچے نے ایک تصویر کھینچی ہوتی ہے جس میں کھانے کی میز اور کچھ باسی ٹوسٹ پڑے ہوتے ہیں۔

پھر 27 تصاویر میں بکھرا بستر، بکھرے کپڑے اور تتر بتر گھر کی حالت آپ کے سامنے ہوتی ہے۔ 104 تصاویر میں گھر کے اسٹور روم میں ڈھونسے ہوئے ٹوٹے پھوٹے فرنیچر اور متروکہ کپڑوں کا حال احوال پوری برائٹنیس کے ساتھ بیان ہو رہا ہوتا ہے جیسے کسی خفیہ مرچ مصالحہ صحافی نے آپ کے نجی راز فاش کرنے کی سعی کی ہو اور یہ صحافی آپ کا ہی اپنا بچہ ہوتا ہے۔

تصاویر دیکھ کر خیال آتا ہے کہ غسل خانے کا دروازہ ہمیشہ لاک رکھنا چائیے کیونکہ ان کم عمر اور ننھے پاپارازیوں کا کوئی بھروسہ نہیں۔ کیا پتہ آپ کی کوئی تصویر یا ویڈیو غلطی سے آپ کے فیس بک پر جا پہنچے اور شیئر ہوتے ہوتے 7 سمندر پار تک پہنچ جائے بھی کرلے جس میں آپ آپ غسل خانے کے اندر گانا گاتے مصروف پائے جائیں۔

مزید پڑھیے: نومولود کے فوٹو شوٹ کے وقت یہ غلطیاں مت کیجیے

فون بچوں کے ہاتھ آجائے تو یہ 2 بڑی باتیں ہوسکتی ہیں:

  • آن لائن ایپلیکشنز یا ویب سائٹس پر جاکر اپنے پسند کی خریداری۔
  • یوٹیوب کے لیے ڈھیروں ویڈیوز بنانا اور ویڈیوز کے آخر میں ’تھینکس فار سبسکرائبنگ‘ کہنا، مگر یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی ان ویڈیوز کو 37 برس کی عمر میں سنہری یاد کے طور پر اپ لوڈ کریں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں