کوئٹہ کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے دھماکے کے باعث کان میں پھنسنے والے 14 کان کنوں میں سے 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔

کوئٹہ کے کمشنر ہاشم غلزئی کے مطابق کان کنوں کی تلاش کے لیے جانے والے 5 ریسکیو اہلکار بھی لاپتہ پوگئے تھے جن میں سے 2 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 3 اب بھی لاپتہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیمیں دیگر 4 کان کنوں اور 3 ریسکیو اہلکاروں کی تلاش کے لیے آپریشن کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: کوئلے کی کان میں دھماکا، 14 کان کن پھنس گئے

دھماکے کے حوالے سے بلوچستان کے صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیمیں پھنسنے والے کان کنوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہی ہے تاہم ان کے زندہ بچ جانے کی امیدیں بہت کم ہیں۔

گزشتہ روز ہونے والے واقعے میں پھنسنے والے کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے شانگلہ، سوات اور دیر کے علاقوں سے تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے کی حالت زار کی وجہ سے تقریباً روزانہ کی بنیاد ہر، ہرنئی، سورانج، دکی، مچ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں جانیں ضائع ہوتی ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر رپورٹ نہیں ہوتیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: کوئلے کی کان میں حادثہ، 23 کان کن جاں بحق

کوئلے کی کان میں کام کرنا پتھر کی کانوں میں کام کرنے سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مطابق ہر سال تقریباً 100 سے 200 افراد کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔