امریکی سیکریٹری خارجہ عمران خان سے ملنے پاکستان آئیں گے

19 اگست 2018

ای میل

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نومنتخب وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

سفارتی اور سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ممکنہ طور پر امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے ستمبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے، جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق مائیک پومپیو پاکستانی حکام سے ملاقات میں دو اہم معاملات پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں، جن میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانا اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے امریکی اقدامات پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنا شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مائیک پومپیو کے ہمراہ امریکی محکمہ خارجہ کی عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور سفیر ایلس ویلز کے بھی پاکستان آنے کے امکانات ہیں۔

مزید پڑھیں : طالبان سے مذاکرات کیلئے آمادہ ہیں، امریکا

رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی حکام نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ افغان جنگ ختم کرنے میں امریکا کی مدد کرے کیونکہ افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملے انہیں طالبان کے چند گروہوں کے ساتھ امن مذاکرات سے نہیں روک سکے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھرنوورٹ نے رواں ہفتے کابل میں ہونے والے دہشت گردوں حملوں میں 50 افراد کی ہلاکت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کے کچھ گروہ، کچھ عناصر امن مذاکرات کے لیے ہرگز تیار نہیں جبکہ دیگر گروہ امن سے متعلق مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

منگل (14 اگست) کو ایک سینئر امریکی عہدیدار نے پاکستان کو باور کرایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کو پُرامن طریقے سے ختم کردیا جائے، اس عمل میں پاکستان کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔

امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کابل میں ایک ایسا سیاسی سیٹ اپ قائم کرنے میں مدد کرے جس کے ذریعے امریکی فوج کے دستے پُرامن طریقے سے افغانستان سے واپس روانہ ہوں۔

پیر کو سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو میں افغانستان میں جنگ بندی سے متعلق حمایت کرنے کو کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان: امن کیلئے پاکستان اور امریکا کی کوششوں کا آغاز

گزشتہ ماہ افغانستان میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا آغاز اس وقت ہوا جب عیدالفطر کے موقع پر امریکی اور طالبان حکام نے دوحہ میں براہ راست ملاقات کی تھی۔ دونوں فریقین اب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کےلیے ستمبر میں دوحہ میں ملاقات کرنے کی کوشش میں ہیں۔

گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ انتخابات میں عمران خان کی جیت سے متعلق امریکا کے ناخوش ہونے کے تاثر کو مسترد کردتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے نئے وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوورٹ نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم عمران خان کو تسلیم کرتے ہیں اور حلف لینے پر انہیں مبارک باد دیتے ہیں ‘

عموماً امریکی محکمہ خارجہ ایسے معاملات پر تبصرہ کرنے کے لیے دن کا انتخاب کرتا ہے لیکن ہیتھر نوورٹ نے عمران خان کے عہدے کا حلف لینے کے کچھ گھںٹے بعد ہی بیان جاری کردیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ گزشتہ 70 سال سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت اہمیت کے حامل رہے ہیں، امریکا پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے اور پاکستان سمیت خطے بھر میں امن اور ترقی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔‘

دوسری جانب رواں ہفتے کے آغاز میں ایلس ویلز نے پاکستانی سفارت خانے میں تقریر کرتے ہوئے نہ صرف الیکشن میں کامیابی پر عمران خان کا خیر مقدم کیا تھا بلکہ ملک کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

ایلس ویلز نے کہا کہ نو منتخب وزیراعظم نے اپنے بیانات اور امریکی سفارتی حکام سے ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کیا یے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسائل مشکل ہیں لیکن کوئی شبہ نہیں کہ ہم مشترکہ مفادات پر ایک ساتھ کام کرکے باہمی مقاصد کو پورا کرسکتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب افغانستان میں 17 سالہ جنگ کو پُرامن طریقے سے ختم کرنے کا وقت آگیا ہے اوراس سلسلے میں پاکستان کی نئی حکومت کو اہم کردار اد اکرنے کے لیے ان کی حوصل افزائی بھی کی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ’ان مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے امریکا پاکستان کی حکومت، کاروباری اداروں اور عوام کے ساتھ تعلقات پر انحصار کرتا ہے ۔‘

واضح رہے کہ 27 جولائی کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں ’ ووٹنگ سے قبل خامیوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا ‘ اور کہا تھا کہ الیکشن مہم کے دوران ’ اس میں آزادی اظہار رائے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کردی ہیں۔

محکمہ خارجہ نے نشاندہی کی تھی کہ پاکستانی حکام کے یہ اطوار منصفانہ اور شفاف انتخابات کے حصول میں رکاوٹ ہیں جس پر ہمیں اختلافات ہیں۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ اس وقت آیا تھا جب رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر امریکی فوجیوں پر دہشت گرد حملوں میں ملوث افغانیوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام لگایا تھا اور امریکا سے اربوں ڈالر امداد لینے پر تنقید کی تھی۔