بھارت: کیرالا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 350 سے متجاوز

اپ ڈیٹ 19 اگست 2018

ای میل

کیرالا میں ہزاروں افراد بے یار ومددگار پڑے ہوئے ہیں—فوٹو:اے ایف پی
کیرالا میں ہزاروں افراد بے یار ومددگار پڑے ہوئے ہیں—فوٹو:اے ایف پی

بھارتی ریاست کیرالا میں مون سون بارشوں کے بعد سیلاب سے پھیلنے والی تباہی میں ہلاکتوں کی تعداد 350 سے تجاوز کرگئی جبکہ ہزاروں افراد خوراک اور پانی کے بغیر بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کیرالا میں سیلاب نے گاؤں کے گاؤں کو تہس نہس کر دیا ہے اور امدادی کارکنوں کی جانب سے ہلاکتوں میں خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

ریاست کے کئی گاؤں اور قصبے کٹ کر رہ گئے ہیں جہاں ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جبکہ مزید بارش کا امکان ہے جس کے باعث بحران سنگین ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 20 سالہ متاثرہ نوجوان اندرجیت کمار کا کہنا تھا کہ ‘وہ زندگی کے خوف ناک ترین لمحات تھے’۔

مقامی انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘متاثرہ علاقے میں بجلی، خوراک اور پانی کچھ بھی نہیں ہے حالانکہ یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں 29 مئی سے شروع ہونے والی بارشوں سے تاحال ہلاکتوں کی تعداد 357 ہوگئی ہے جن میں سے 33 افراد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش اور دیگر متاثرین کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: کیرالا میں بارشوں سے سیلاب،ہلاکتوں کی تعداد 37 ہوگئی

ریاست کے ایک قصبے مالا میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں مصروف اشرف علی کا کہنا تھا کہ ‘جب پہلی مرتبہ وارننگ جاری کی گئی تھی تو ہم سمجھ رہے تھے کہ پانی 10 سے 15 فٹ سے زیادہ اونچائی میں نہیں جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب پانی کی مقدار تیزی سے بڑھنے لگی تو بعض لوگوں نے خوف کے مارے ہمیں بلایا’۔

بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کی امدادی کارروائیاں

بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے ہزاروں اہلکار کیرالا بھر میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

فوج کا کہنا تھا کہ آج ایک روز میں پٹھانم ٹھیٹا سے 250 افراد کو نکالا گیا ہے جن میں سے اکثر بارشوں کے باعث بیمار پڑگئے ہیں۔

دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک، دوائیاں اور پانی پہنچایا جارہا ہے۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

کیرالا کے متاثرہ علاقوں میں ریلوں کے ذریعے پانی اور خوراک کو پہنچنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ان علاقوں کی جانب جانے والے تمام راستے ڈوب گئے ہیں، 134 پلوں کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث دور دراز علاقے سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: کیرالا میں طوفانی بارشوں، سیلاب سے 67 افراد ہلاک

بھارتی میڈیا کے مطابق قصبہ منار کا رابطہ کٹ گیا ہے اور اندازے کے مطابق 10 ہزار رہائشیوں وہاں پھنس گئے ہیں۔

کیرالا کے وزیراعلیٰ پینارئی ویجایان نے اعلان کیا ہے کہ پھنسے ہوئے آخری شہری کو بچانے تک امدادی کارروائی جاری رہے گی۔

دوسری جانب انڈین میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے 23 اگست تک پورے کیرالا میں بارش جاری رہنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اضافی فنڈنگ کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی کارروائیوں کو بڑھانے کے لیے مزید 20 ہیلی کاپٹر اور 600 موٹر بوٹس بھی دی جائیں۔

قبل ازیں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست کے متاثرہ علاقوں کو فضائی دورہ کرنے کے بعد فوری طور پر 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا تھا۔

دو روز قبل پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے ہنگامی امدادی مرکز کے مطابق رواں سال جون میں مون سون سیزن کے آغاز سے سات ریاستوں میں 800 لوگ زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کیرالا میں 247، اتر پردیش میں 190، مغربی بنگال میں 183، مہاراشٹرا میں 139، گجرات میں 52، آسام میں 45 اور ناگالینڈ میں 11 افراد اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ کیرالا بھارت کی ایک مشہور سیاحتی ریاست ہے جہاں آبشاروں، ساحل اور خوبصورت پہاڑوں کو دیکھنے کے لیے دور دور سے ہزاروں افراد یہاں آتے ہیں۔

بھارت میں جون سے شروع ہونے والا بارشوں کا سلسلہ ستمبر میں اختتام پذیر ہوتا ہے، بارشیں ملکی زراعت کے لیے تو سودمند ہیں لیکن دوسری جانب شدید تباہی کا باعث بھی بنتی ہیں جس میں ہر سال ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔